سیال گروپ کے صاحبزادہ گروپ کو سیاسی دھوکے۔۔۔تاریخی اوراق میں لپٹی کہانی۔۔نسل نو کی آگاہی کیلیے۔۔۔چوہدری مختار ایڈووکیٹ کی زبانی۔۔۔۔سلطان نیوز پر

0
177

سیال گروپ کے صاحبزادہ گروپ کو سیاسی دھوکے۔۔۔تاریخی اوراق میں لپٹی کہانی۔۔نسل نو کی آگاہی کیلیے۔۔۔چوہدری مختار ایڈووکیٹ کی زبانی۔۔۔۔سلطان نیوز پر
1970ء سے1985ءتک گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان کا اقتدار دربار سلطان باھوکے صاحبزادوں کی نظر کرم کا نتیجہ ھے۔
جبکہ خان نجف عباس خان سیال کا سیاست میں آنا دو دفعہ M.P.A بننا بھی صاحبزادوں کے اتحادی ھونے کی وجہ سے ممکن ھوا
—————‘———————————————–
تاریخ بتاتی ھے 1970ء کے انتخابات ملک میں بالغ رائے دھئ کی بنیاد پر پہلے الیکشن تھے جو پارٹی بنیادوں پر ھوئے صاحبزادہ محمد نذیر سلطان جمیعت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر M.N.A. بنے اسوقت ضلع جھنگ میں شیعہ سنی کی ھوا زوروں پر تھی ضلع کی 3 سیٹں قومی اسمبلی اور 5 صوبائی اسمبلی کی تھیں قومی 3 اور صوبائی 4 سیٹوں پر سنی کامیاب ھوئے اورایک صوبائی سیٹ پر خان نوازش علی خان سیال کامیاب ھوئے کیونکہ ان کے مد مقابل ان کے بھتیجے خان ذوالفقار خان سیال تھے دونوں اہل تشیع تھے نوازش علی خان محض اس وجہ سے کامیاب ھوئے وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ھوتے ھوئے اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر لڑنے والے امیدوار جناب نعمت اللہ حصاری ایڈووکیٹ کو دھوکہ دے کر صاحبزادوں کی جھولی میں چلے گئے اور اپنی M.PAشپ بچا گئے۔ صاحبزادہ نذیر سلطان سے پی پی کے نعمتاللہ حصاری ایڈووکیٹ اور آزاد امیدوار خان محمد عارف خان سیال ھار گئے۔ 1977ء کے الیکشن میں نوازش علی خان صاحب خود صاحبزادہ نذیر سلطان کے مقابلہ میں M.N.A کی سیٹ پر آگئے اور 45000 ووٹوں سے ھار گئے۔ پھر مارشل لاء آگیا 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن ھوئے صاحبزادہ نذیر سلطان صاحب کے ساتھ ملکر سیال خاندان کے ذوالفقار خان سیال نے الیکشن لڑا اس کے مد مقابل احمدپور سیال کے خان صفدر علیخان سیال تھے جو ھار گیے۔ اس وقت گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان نے صاحبزادہ نذیر سلطان صاحب سے وفا نہ کی خان عارف خان سے انڈر گرانڈ گٹھ جوڈ کر کے اسے کامیاب کروا دیا اور نذیر سلطان صاحب ھار گئے اس بات کا بندہ عینی شاھد ھے اگر کسی کو شک ھو بات کر سکتا ھے۔ اگر کوئی چاھے تو میرے اس دعوی کو چیلنج کر سکتاھے۔
اب رھی بات خان نجف علی خان صاحب کی یہ سیاست میں احمد پور سیال کے سیال خاندان کی نئی انٹری تھی مقابلہ میں گڑھ مہاراجہ کا پرانا سیاسی خاندان تھا نوازشخان کے پوتا۔ مظفر علی خان کا بیٹا جو خود کئی بار ایم ایل اے۔ اور ایم پی اے۔ رہ چکے تھے عون عباس خان صاحب ھار گیا نجف خان سیال کی کامیابی صرف اور صرف دربار سلطان باھو کی وجہ سے تھی دوسری بار بھی صاحبزادہ گروپ کی وجہ سے کامیاب ھوئے پھر ایم این اے تحصیل بنانے کا ایواڑ گرادنتے ھوئے اور ترقیاتی کام کروانے کی وجہ سے بن گئے۔ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ سیال خاندان صاحبزادوں کو سیاست میں لے کر آیا صریحا” غلط ھے کیونکہ صاحبزادہ محمد مجید سلطان صاحب 1962ء میں لوکل گورئمنٹ کے تحت ھونے والے انتخابات میں گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان کو ھرا کر یونین کونسل نمبر 91 گڑھ مہا راجہ کے چیئر مین منتخب ھو گئے تھے لہزا یہ حقیقت ھے صاحبزادوں نے سیال خاندان کو سیاسی فائدہ دیا جبکہ سیال خاندان نے صاحبزادوں کو سیاسی ضربات تو پہنچائیں مگر سیاسی مرھم پٹی کبھی نہیں کی
۔ وسلام شکریہ محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ