تہزیبوں کی جنگ اور افکار مودودی۔۔۔۔۔۔قلوب و اذہان کو جھنجھوڑنے والا کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔۔اوریا مقبول جان کے قلم سے

0
101

تہزیبوں کی جنگ اور افکار مودودی۔۔۔۔۔۔قلوب و اذہان کو جھنجھوڑنے والا کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔۔اوریا مقبول جان کے قلم سے

طرز زندگی اورلائف سٹائل*
ایک ایسا لفظ ہے جو
*گیارہ ستمبر2001ء* کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے مشہور سانحے کے بعد عالمی منظرنامے پر انتہائی شدت اور قوت کے ساتھ گونجا.

گیارہ ستمبر کے بعد پوری مغربی دنیا کے غم و غصے اور انتقام کا نشانہ
*مسلم امہ اورصرف اورصرف مسلمان تھے.*

یوں تو اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے ممالک کو یہ ظالمانہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ
بغیر کسی تحقیق و ثبوت،
دنیا کے سب سے نہتے، پسماندہ اور بے یار و مددگار افغانستان پر چڑھ دوڑیں،

لیکن
عالمی سطح اس جنگ کے *دو رہنما* تھے.

ایک امریکہ کا *صدرجارج بش*
اور
دوسرا برطانوی وزیراعظم *ٹونی بلیئر*

جو
اس جنگ کو صرف اور صرف
*طاقت اور قوت کی بالا دستی* کی جنگ کہہ کر نہیں پکارتے تھے
بلکہ اسے
ایک *نظریاتی جنگ* کہتے تھے.

دونوں رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں بار بار
*اسلامی شدت پسندوں* کا نام لے کر یہ فقرہ دہرایا کہ

*“یہ لوگ ہم سے*
*ہمارا طرززندگی (Lifestyle) چھیننا چاہتے ہیں”.*

*طرززندگی اورلائف سٹائل کی جنگ* ہی
اس کائنات میں‌ حق و باطل کی اصل جنگ ہے.

قرآن پاک نے
*حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون* کے درمیان اس مکالمے میں اس جنگ کو واضح کیا ہے.

*سورہ طہٰ* میں اس کی تفصیل یوں ہے کہ

جادوگر، اورحضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے درمیان مقابلے کیلئے جشن والا دن طے ہوا
اورکہا گیا کہ دن چڑھے لوگ جمع ہو جائیں.

فرعون اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر کے مقابلے میں آیا. جب حضرت موسیٰ نے ان سے خطاب کیا تو فرعون کے ساتھیوں نے جواباً اپنی قوم سے مخاطب ہوکرکہا،

*“یہ دونوں‌ تو محض‌ جادوگر ہیں*
*ان کا مقصد یہ ہے کہ*
*اپنے جادوکے زورسے تم کوتماری زمین سے بے دخل کردیں*
اور
*تمہارے مثالی طرززندگی کا خاتمہ کردیں”*
(طہٰ63).

قرآن پاک میں‌ *طرز زندگی* کی بات جو اس آیت میں‌ مذکور ہے،

*مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی* نے
اپنی تفسیر *تفہیم القرآن* میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے

*“موسیٰ کا غالب آ جانا*
*تمہارے ہاتھوں سے ملک نکل جانے*
اور
*تمہارے مثالی(ideal) طریق زندگی کے ختم ہو جانے کے ہم معنی ہے.*

*اگرموسیٰ کے ہاتھ میں اقتدارآگیا*
*تو یہ تمہاری ثقافت ،اور یہ تمہارا آرٹ، اور یہ تمہارا حسین وجمیل تمدن، یہ تمہاری تفریحات، اوریہ تمہاری خواتین کی آزادیاں*

(جن کے شاندارنمونے حضرت *یوسف علیہ السلام* کے زمانے کی خواتین پیش کرچکی تھیں)

*غرض وہ سب کچھ جس کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں، غارت ہو کر رہ جائے گا.*

*اس کے بعد تو نری ملائیت کا دور دورہ رہ ہوگا*
*جسے برداشت کرنے سے مرجانا بہترہے”.*

*تفہیم القرآن* کی یہ عبارت قرآن پاک کی ایک *خوبصورت تشریح* ہے جو ازل سے لے کر ابد تک
*حق و باطل* کے درمیان،
*اصل میدان جنگ اور اصل معرکے کو واضح کرتی ہے*

اور وہ معرکہ صرف اورصرف
*طریق زندگی، طرز زندگی اور لائف سٹائل* کا معرکہ ہے.

*حق و باطل کے درمیان جنگ کا تصور،*
*امت مسلمہ میں*
*گزشتہ کئی صدیوں سے*
*گم گشتہ ہوچکا تھا.*

*دوسروں کے تہذیب و تمدن اورطرز زندگی* کو
یہ امت اختیارکرچکی تھی.
اور
*انہی کے میکدے کے ایک کونے میں*
*مصلےٰ بچھا کر،*
*نماز اورعبادت اور روزہ و حج کو دین سمجھ بیٹھی تھی.*

مدتوں بعد اس تہذیبی موت کا ماتم *علامہ اقبال* نے کیا

*تمدن، تصوف، شریعت، کلام*
*بتانّ عجم کے، پجاری تمام*
*حقیقت خرافات میں‌ کھو گئی*
*یہ امت، روایات میں کھو گئی*

*اقبال کے اس ماتم کی گونج*
*پوری امت میں سنی گئی.*

ہر کوئی اس *نوائے شاعری* سے متاثر ہوا لیکن اس کا تاثر *شعری تخیلات سے آگے نہ بڑھ سکا.*

حالانکہ
*اقبال کا ہرشعر قرآن پاک کے پیغام کی تفسیر تھا.*

یہی وجہ ہے کہ اقبال نے آخری عمرمیں جو گلہ کیا
*وہ امت کی خوابیدگی کا نچوڑ ہے.*

*بآں رازے کہ گفتم، پے نہ بردند*
*ز شاخِ نخلِ من خرما نہ خوردند*
*من اے میرِ امم داد از تو، خواہم*
*مرا یاراں، غزل خوانے شمردند*

ترجمہ:
جو راز میں بیان کرتا ہوں یہ لوگ اس پرتوجہ نہیں دیتے،
میری علم کی شاخ پرجو پھل ہے یہ اسے نہیں کھاتے.
اے میرِ امم (سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم) میں صرف آپ سے داد کا طلبگار ہوں.
کیونکہ میرے دوستوں نے تو مجھے
*محض ایک شاعر ھی سمجھتے ہیں.*

علامہ اقبال کی *نوحہ گری اور زوال امت کے ماتم* کا زمانہ
*اسلامی تہذیب وتمدن کے زوال کا زمانہ تھا.*

یہ دو دور تھا جب دنیا میں
*مختلف طرز ہائے زندگی کے تصورات* پیش کیے جا رہے تھے.

*والٹیرکے ناول Cadide* نے
*سیکولر لبرل طرز حیات* کا نظریہ پیش کیا تھا
اور
اس کے مقابلے میں *کارل مارکس کا کیمونزم* مقبول ہوچکا تھا،
بلکہ اس نے 1917ء میں
*سوویت یونین* کی ریاست قائم کر کے اسے *نافذ بھی کردیا تھا.*

*اسلام کی حیثیت*
*عبادات، تسبیح وتحلیل، مراقبہ، تصوف اورکارخیرکے کاموں تک محدود ہوچکی تھی.*

*جدید طرز زندگی میں*
*معیشیت* کے تصور کو چھوڑ کر،
*کیمونزم اور کیپیٹل ازم* کی معاشرت میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا.

*تعیش،*
*خاندانی زندگی کا زوال،*
*عورتوں‌ کی آزادی،*
*جنسی اختلاط اور بے راہ روی*
غرض سب کچھ توایک جیسا تھا.

ایک ذرائع پیداوار کو *ریاستی ملکیت* تصور کرتا تھا اور دوسرا *انفرادی ملکیت.*

اس *نظریاتی کشمکش کی جادونگری* میں
*اس دور میں*
*کئی سوسال بعد*

*امت مسلمہ میں‌ جو توانا آواز گونجی،*
*اس کا نام تھا*

*سید ابوالاعلیٰ مودودی…!*

ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت جس کی تحریروں نے،
*سوئی ہوئی امت مسلمہ* میں اس تصور کو روشن کیا کہ
آج کے دور کے
*تمام نظام ہائے زندگی یا لائف سٹائل،*
*دراصل طاغوت ہیں*

اور ان کی *جنگ،*
*اسلام کےطرز زندگی اورلائف سٹائل سے ہے*
جو مکمل طور پر جداگانہ اور علیحدہ ہے.

آج سے تیس سال قبل جب
*کیرن آرمسٹرانگ* نے اپنی کتاب
*Battle for God* *(خدا کے لیے جنگ)*
میں
تاریخ کا یہ نچوڑ پیش کیا کہ
*سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے*
*پوری مسلم دنیا میں*
*ایک نئی سوچ نے جنم لیا.*

*1951ء میں انکی تحریریں‌*
*مصرمیں شائع ہونا شروع ہوئیں،*
جن میں یہ تصوردیا گیا کہ

*جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* کی
اسلام سے پہے
*“جاہلیت” کے نظام سے جنگ تھی،*
اسی طرح آج
*ہماری، مغرب کی “جدید جاہلیت” سے جنگ ہے.*

*سید مودودی کے اسی تصور سے*
*عالمِ عرب* میں
*اخوان المسلمون سے لے کرحزب التحریر* تک
نئی فکر کے سوتے پھوٹے.

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی،
*آج کی اس جدید حق و باطل کی جنگ میں،*
*جو ایک نظریہ ساز کی حیثیت ہے،*
اس پر
*یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز* کے
*پروفیسرجان پیٹر ہارٹنگ* Jan-Peter Hartung نے ایک بہت بڑی تحقیق کی.

اور
یہ *2013ء میں اپنی کتاب*
*A System of life:*
*Mawdudi and Ideologisation of Islam.*

*(ایک طرززندگی: مودودی اوراسلام کی نظریہ سازی)* شائع کروائی.

367 صفحات پر مشتمل یہ کتاب،
آج کے
*جدید نظام ہائے زندگی کی کشمکش کی تاریخ* ہے.

*آدھی کتاب،* دیگر طرز ہائے زندگی کا احاطہ کرتی ہے،

*جس کا عنوان ہے*
*Mapping the ideological landscape‌*

*(نظریاتی سرزمین کا نقشہ)*

اس میں *سیکولرزم، کیمونزم اورفاشزم* کو،
*ایک ہی*
*جدید طرز زندگی یا لائف سٹائل کے مختلف رنگوں کے طور پر بتایا گیا ہے.*

اس کے نزدیک
*جس دور میں یہ تمام نظریات، دنیا کے نقشے پر ابھر رہے تھے*
تو اس وقت وہاں ایک بہت *بڑا خلا* بھی موجود تھا.

*کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ جو*
*اسلام کو*
*بحیثیت طرز زندگی، طریق زندگی اورلائف سٹائل* کے طور پر
*دنیا کے سامنے پیش کرتا.*

اس *نظریاتی کشمکش اورجنگ کے دوران،*
*یہ فریضہ*
*ابوالاعلیٰ مودودی نے اداکیا اور بہت خوب کیا.*

پھر *سب تحریکیں اس نخل کی خوشہ چیں* نکلیں.

*ہارٹنگ کے نزدیک*
آج جو پوری دنیا میں
*تہذیبوں کی جنگ* کا تصور مضبوط ہوا ہے،

*اس کی روحِ عصر مولانا مودودی کا ذات ہے.*

*خوش نصیب ہے وہ عہد* کہ جس نے
*اس شخصیت کو پایا*

اور *مبارک ہے وہ سرزمین* کہ جو
*اس اسلام کے نظریہ ساز مفکر کا مسکن رہی.*

(اوریا مقبول جان)