شہدائے منگ تحریر امجد حسین صارم کشمیر

0
71

شہدائے منگ
تحریر امجد حسین صارم کشمیر

یوم شہدائے منگ 14 نومبر 1832ء
1832ء میں پونچھ سلطنتِ پنجاب کے زیر قبضہ ایک ریاست تھی جس پر مہارجہ رنجیت سنگھ نے شمس خان کو حکمران مقرر کر رکھا تھا اسی طرح ریاست جموں بھی سلطنتِ پنجاب کا ہی حصہ تھی جس پر گلاب سنگھ کو راجہ مقرر کیا گیا تھا۔
سلطنت پنجاب کہ زیر سایہ تمام ریاستوں میں بلعموم اور ریاست پونچھ میں بلخصوص عوام بنیادی انسانی حقوق سے مکمل طور پر محروم تھے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا۔ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب امان اللہ خان اپنی کتاب “جہدِ مسلسل” میں لکھتے ہیں کہ پونچھ کے عوام نے اپنے غصب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف بغاوت کر دی اور اس کے اقتدار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
بغاوت کو کچلنے اور باغیوں کو عبرتناک سزا دینے کے لیے رنجیت سنگھ نے راجہ گلاب سنگھ کو ایک بڑے لشکر کہ ساتھ پونچھ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خوشنودی حاصل کرنے کہ لیے راجہ گلاب سنگھ نے اس حکم کی تکمیل میں ظلم و بربریت اور انسان کشی کی ایسی سفاک تاریخ رقم کی جس کی مثال تک عبث ہے۔ اہلیانِ پونچھ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کاٹ کر چوکوں چوراہوں میں بے بے گور و کفن پھینک دیا۔
11 نومبر کہ دن بغاوت کے مرکزی کرداروں سبز علی اور ملی خان کو منگ کے مقام پر کائو (جنگلی زیتون/ وائلڈ آلیو) کے درخت سے الٹا لٹکا کر بطورِ عبرت زندہ کھالیں اتاری (بحوالہ جہدِ مسلسل، جموں فاکس، تاریخ اقوام پونچھ) تا کہ آئندہ کوئی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نا سکے۔ ناصرف یہ کہ کسی کو ان باغیوں کی لاشوں کے پاس جانے کی اجازت نا تھی بلکہ دھرتی ماں کا سینہ بھی ان بے گور و کفن شہدائے پونچھ پر تنگ کر دیا گیا۔ متذکرہ بالا درخت آج بھی منگ کہ مقام پر راجہ گلاب سنگھ کہ ظلم ، بربریت اور ننگی جارحیت کا گواہ ہے۔
اس کے علاوہ پونچھ کہ راجہ شمس خان کو بھی اس کے دست راست راج ولی کے ساتھ گرفتار کرنے کے بعد سر قلم کر کے شہید کر دیا گیا۔
ان تمام شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دیے مگر سفاک، ظالم اور جابر حکمران کی اطاعت قبول نا کی اور کلمہ حق آخری سانس تک ادا کرتے رہے۔ آج کے دن ہم دھرتی کہ ان عظیم شہداء کو خراجِ تحسین و سلام پیش کرتے ہیں۔
مصائب لاکھ ہوں عزائم کم نہیں ہوتے
یہ وہ سر ہیں جو کٹ سکتے ہیں پر خم نہیں ہوتے۔