مدارس کیخلاف کارروائی کو تسلیم نہیں کرتے، دیوبند علماء کے اجلاس کا 10 نکاتی اعلامیہ جاری

0
234

مدارس کیخلاف کارروائی کو تسلیم نہیں کرتے، دیوبند علماء کے اجلاس کا 10 نکاتی اعلامیہ جاری
کراچی(سلطان نیوز)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری کی زیر صدارت جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ جس میں ناظم صوبہ سندھ مولانا امداداللہ یوسف زئی، اراکین عاملہ و منتظمین وفاق المدارس مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا سید سلیمان بنوکراچی ری، مولانا راحت علی ہاشمی، مولانا حکیم محمد مظہر، مولانا مفتی محمد زرولی خان، مولانا اسفندیار خان، قاری محمد عثمان، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا عبدالرزاق، مولانا قاری حق نواز، مولانا محمد احمد حافظ، مفتی اکرام الرحمن، مولانا ابراہیم سکرگاہی، مولانا منظور احمد، مولانا عبیدالرحمن چترالی، مولانا الطاف الرحمن، مولانا عبدالجلیل، مولانا جواد قاسمی، مولانا نعمان نعیم، مولانا عبدالحمید، مولانا قاسم عبداللہ، مولانا جواد قاسمی، مولانا قاری زبیر احمد سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں دینی مدارس کو اوقاف کی جانب سے تحویل میں لینے کیلئے نوٹس بھیجے جانے کے حوالہ سے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاق المدارس صوبہ سندھ کے ناظم مولانا امداداللہ یوسف زئی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت ہے اور آئین پاکستان کی کئی شقوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں اسلامی فکر و نظریہ کا تحفظ کیا جائے۔ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان نے کہا کہ پاکستان کے ہزاروں مدارس نظریہ پاکستان کے مطابق اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔ مفتی محمد زرولی خان نے کہا کہ مدارس دینیہ کی خدمات کا اعتراف آج ساری دنیا میں کیا جاتا ہے اور عالم اسلام کے کئی ممالک نے وفاق المدارس کی نمایاں تعلیمی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلی اعزازات سے بھی نوازا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ پاکستان کے تمام مدارس اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔اجلاس میں دیوبند مدارس کے ذمہ داران نے مدارس کے خلاف حکومتی رویہ کو دین دشمن قوتوں کی خوشنودی کیلئے محاذ آرائی کی سازش قرار دیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، صوبائی سطح پر وفاق المدارس صوبہ سندھ مولانا امداداللہ یوسف زئی کی سربراہی میں پانچ رکنی ایکشن کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا، یہ کمیٹی موجودہ حالات کے تناظر میں انتظامیہ سمیت قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لے کر مدارس کی رہنمائی بھی کرے گی۔ اس کمیٹی کے دیگر ممبران کا اعلان مشاورت کے بعد تین روز میں کردیا جائے گا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، مدارس پہ آئے دن نئے قوانین کے نفاذ کی باتیں کرکے علماء و اساتذہ اور طلبہ کو ہراساں کرنے کا وطیرہ اپنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام دینی ادارے آئین پاکستان کا احترام کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں، حکومت نے مدارس کو اوقاف کی تحویل میں لینے کی جو کوششیں شروع کی ہیں ان کو جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ گول چوک اوکاڑہ میں تاریخی ادارہ کی تباہی کو سامنے رکھنا چاہیئے، اسی ملکی خزانہ سے کروڑوں سالانہ خرچ کرکے ماڈل دینی مدارس کے تجربہ کو بھی سامنے رکھے۔

انہوں نے زور دیتے کہا کہ ہمارے ہزاروں مدارس سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں اور تمام ادارے حکومت سے کسی بھی قسم کی امداد وغیرہ بھی نہیں لیتے، دینی اور اسلام سے محبت کرنے والے اصحاب خیر مدارس سے تعاون کرتے ہیں، مدارس کے ساتھ تعاون کرنے والے دینی اداروں پہ اعتماد کرتے ہیں اسی لئے روزانہ کی بنیاد پر مدارس اور ان اداروں میں پڑھنے والوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی نظریاتی اساس پر اہل مدارس اپنا واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں۔ اجلاس کے آخر میں درج ذیل چند نکاتی اعلامیہ اور مطالبات کا اعلان کیا گیا۔ مطالبات میں کہا گیا کہ مدارس دینیہ کو اوقاف کی جانب سے دیئے گئے نوٹس فوری واپس لئے جائیں، دینی اداروں کی اعلی تعلیمی کارکردگی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اوقاف کی طرف سے تحویل میں لینے کا نوٹس ملنا انتہائی افسوس ناک امر ہے، وفاق المدارس واضح طور سمجھتا ہے کہ مدارس کے متعلق اس نوعیت کا فیصلہ دین دشمن قوتوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس دباؤ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسلامی ملک کے دینی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے، اگر بیرونی دباؤ کو مان کر فیصلے کئے جائیں گے تو ایسا ہونا یقیناً ملکی خودمختاری کو داؤ پہ لگانے کے مترادف ہوگا، وفاق المدارس کا یہ اجلاس غیر ملکی ایماء کے نتیجہ میں مدارس و مساجد کو سرکاری کنٹرول میں لینے کو تسلیم نہیں کرتا، ہم اس کے خلاف تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد ملک کی اعلی عدالتوں میں اس فیصلہ کو چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔شرکاء اجلاس نے مطالبہ کیا کہ ہزاروں مدارس بغیر حکومتی امداد کے مسلمانوں کے تعاون سے چل رہے ہیں، جو در حقیقت عوام کا مدارس پہ بھرپور اعتماد کا مظہر ہیں، اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ یہ تمام ادارے عوامی اور قومی ادارے ہیں، تمام دینی مراکز ملکی قوانین کے مطابق کسی بھی معمولی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں تو ایسی صورتحال میں مدارس کا تعلق غیر قانونی سرگرمیوں سے جوڑ کر ان کے خلاف کارروائی کرنا بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی پہ مبنی عمل ہے، ہم مدارس کے خلاف ایسی کسی بھی کاروائی کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان میں مدارس دینیہ کے پانچوں بورڈز کے اتحاد تنظیمات مدارس کا اجلاس بھی چند روز میں بلایا جائے گا، اس مشترکہ فورم پر متفقہ حکمت عملی طے کی جائے گی، اگر اس اجلاس سے قبل ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو ہم ہر قسم کے روایتی احتجاج پہ مجبور ہونگے۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ حکومت نے مدارس دینیہ کیخلاف جو محاذ آرائی کے ذریعہ انتشار و خلفشار کے رویہ کو آڑ بناکر مدارس کے ذمہ داران و علماء کو ہراساں کرنے کا جو سلسلہ اپنایا ہوا ہے وہ فوری طور پہ ختم کیا جائے، بصورت دیگر اس کیفیت سے ملک دشمن قوتوں کو تقویت ملنے کا خدشہ ہے۔

دیوبند علماء نے مطالبہ کیا کہ ہم محب وطن دینی اداروں کے خلاف حالیہ کارروائیوں پہ محترم وزیراعظم و معزز آرمی چیف سے فوری طور پہ مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ تشویش کا باعث بننے والے اقدامات کو روک کر بیرون ممالک میں پاکستان کے خلاف منفی تاثر کو زائل کیا جائے، یکساں نصاب و نظام تعلیم سمیت دیگر اہم ایشوز کیلئے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس کو فعال کیا جائے، تاکہ دیگر درپیش مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کی جاسکے، اتحاد تنظیمات مدارس کے متفقہ بیس نکاتی ایجنڈے کو تسلیم کرتے ہوئے اسلامی و فلاحی ریاست کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جائے، پنجاب اور کے پی کے حکومت کی طرف سے نافذ کئے گئے چیرٹی ایکٹ کو فی الفور ختم کرکے رجسٹریشن سمیت دیگر اہم قانونی امور طے کئے جائیں، حکومت اتحاد تنظیمات مدارس کے ساتھ مشترکہ فورم تشکیل دے تاکہ دینی طبقوں میں بے چینی کا سبب بننے والے اقدامات کا عملی تدارک کیا جائے۔