نظام زکوۃ اور امراء کی عیاشیاں تحریر امجد حسین صارم

0
90

نظام زکوۃ اور امراء کی عیاشیاں

تحریر امجد حسین صارم

غریب کی پہنچ سے دور زکوۂُ سے جمع ہونے والے پیسوں سے پورا محکمہ چلائے جانے کا انکشاف ۔ زکوۂُ کے جمع ہونے والے پیسوں سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے ملکی و غیر ملکی ہسپتالوں میں علاج کے بھاری بل ادا ہونے کا بھی انکشاف ۔غریب افراد کی بیٹیوں کو جہیز فنڈ کی مد میں دس ہزار فی کس دینے کا اعلان بھی جھوٹ کا پلندہ نکلا جہیز فنڈ کی رقم دینے کے لئے نکاح نامہ اور لڑکی کے شناختی کارڈ کی کاپی لیکر محکمہ کئی کئی سالوں چکر لگواتا ہے پھر غریب بچی کو دس ہزار فی کس دیئے جاتے ہیں جبکہ غریب شہریوں اور چھوٹے ملازمین کے لئے چھوٹے موٹے علاج معالجے کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں فی ہسپتال چھے سے سات لاکھ روپے رکھے جانے کا انکشاف جو چند ہفتوں میں ہی ختم ہوجاتے ہیں اب بھی سرکاری ہسپتالوں میں زکوۂُ فنڈز کی مد میں علاج کی سہولت پر پابند ی عائد ہے جس کے باعث غریب افراد اور چھوٹے سرکاری ملازمین حکومت کو بدعایئں دینے پر مجبور ہیں روزنامہ جموں و کشمیر کے مطابق آزادکشمیر میں اس وقت زکوۂُ کے مستحقین افراد کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب خاندانوں پر مشتمل ہے جس میں فی خاندان سال کا ایک ہزار روپے ، تیرہ سو اور سولہ سو روپے زکوۂُ کی مد میں دئیے جارہے ہیں جبکہ محکمہ زکوۂُ کو سال بھر میں آزادکشمیر بھر سے 24کروڑ روپے کے قریب سالانہ کلیکشن ہوتی ہے جس سے پورے محکمے کے اخراجات ، سرکاری گاڑیوں کے اخراجات ، افسران اور ملازمین کی تنخواہیں ، ٹی اے ڈی اے الاونسز، دفاتر کے اخراجات چلانے کے بعد دو سے تین کروڑ روپے صرف مستحقین میں تقسیم کیے جاتے ہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیاستدانوں ، اعلی بیوروکریٹس کو علاج و معالجے کے لئے زکوۂُ فنڈ سے حاصل ہونے والے منافع سے پیسے دییے جاتے ہیں دوسری جانب زکوۂُ کے لئے جمع ہونے والے پیسوں کو بنکوں میں رکھ کر حاصل ہونے والا منافع وزیراعظم آزادکشمیر کے خصوصی فنڈ میں منتقل ہوجاتا ہے جبکہ مہنگائی کے اس دور میں جب حکومت پنجاب نے محکمہ زکوۂُ کے بجٹ کو مستقل میزانیہ کے ساتھ منسلک کردیا ہے مگر آآزادکشمیر حکومت پورے محکمے کو غریبوں کے لئے جمع ہونے والے پیسوں سے چلا کر حق داروں کا حق مار رہی ہے جس کو غریب افراد سے مسترد کرتے ہوئے اسکو ظلم قرار دیا ہے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ضلع میرپور زکوۂُ دینے والے اضلاع میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ جمع ہونے والی رقم میں سے ضلع میرپور کے پانچ ہزار کے قریب مستحقین خاندانوں کو زکوۂُ کی ادائیگی فی کس خاندان ایک ہزار بھی تاخیر کا شکار ہے دوسری جانب محکمہ زکوۂُ کے ایک اعلی عہدیدار کی جانب سے زکوۂُ فنڈ سے ایک مہنگی گاڑی مدینے کی خبریں بھی تیزی سے گردش کررہی ہیں چیف ایڈمنسٹریٹر زکوۂُ آزادکشمیر کا سالانہ بجٹ دو کروڑ گیارہ لاکھ ،ضلعی چئیرمین باغ کا سالانہ بجٹ اٹھایئس لاکھ پندرہ ہزار ، ضلعی حویلی کا سالانہ بجٹ تیرہ لاکھ اکہتر ہزار ، راولاکوٹ کا سالانہ بجٹ 32لاکھ99ہزار ، ضلع کوٹلی کا سالانہ بجٹ 51لاکھ 5300ہے ضلع میرپور کا سالانہ بجٹ 45لاکھ 31ہزار جبکہ ضلع نیلم کا سالانہ بجٹ 16لاکھ 27ہزار روپے ہے مگر اس وقت محکمہ زکوۂُ و عشر آزادکشمیر میں تعینات افسران محکمہ کی بہتری کے لئے خاطر خواہ اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے باعث محکمہ میں خاصی کھینچا تانی ہے جبکہ غریب افراد کے علاج کے لئے مختص فنڈز کی عدم دستیابی نے بھی حکومتی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے دوسری جانب وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی فی حلقہ ممبر اسمبلی کو زکوۂُ فنڈ کی مد میں بھی دو دو لاکھ روپے کا فنڈ جاری کردیا حالانکہ زکوۂُ کے مستحقین کی فہرست محکمہ کے پاس موجود ہے مگر ممبران اسمبلی کو صوابدیدی فنڈ کی اجرایئگئ سے حق داروں حق تلفی ہوئی تھی مگر محکمہ زکوۂُ سے اس وقت مستحقین کو ریلیف فراہم کرنے کئ بجائے اعلی شخصیات کو نوازا جارہا ہے جبکہ مہنگائی کے اس دور میں سال بھر کے لئے فی خاندان ایک ہزار روپے کسی ظلم سے کم نہ ہے