عمران خان کو نوازشریف کو لندن بھیجوانے کا مشورہ اگر نوازشریف لندن میں علاج کروانا چاہتے ہیں تو بھیج دیا جائے انہیں لندن

0
125

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبیعت ناساز ہے جس پر ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال منتقل ہونے اور اپنا علاج کروانے کا مشورہ دے رکھا ہے لیکن نوازشریف ہیں کہ اسپتال جانے پر آمادہ ہی نہیں ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری ایک بار پھر سے میڈیاپر موضوع بحث ہے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور سینئیر تجزیہ نگار ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ بات صرف نواز شریف کی بیماری کی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بہت محرومیاں اور صدمے ہیں۔
جب انسان بلندی سے کرتا ہے تو سوچتا تو ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دونوں طرف سے سیاست ہورہی ہے۔لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ نواز شریف کا بہترین علاج ہونا چاہئیے۔اور اگر نواز شریف لندن میں علاج کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بھیج دینا چاہئیے،نواز شریف علاج کروا کر واپس آ جائیں گے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ تو لندن میں رہنا نہیں ہے۔
ان کے خاندان کا مستقبل پاکستان میں ہے۔

جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرپنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کیلئے جیل میں لائف سیونگ یونٹ قائم کردیا،جس کے تحت جیل میں 24 گھنٹے 3 ڈاکٹرز، ایمبولینسز اور مشینری موجود رہے گی، طبیعت زیادہ خراب ہونے پرنوازشریف کو فوری پی آئی سی منتقل کیا جاسکے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ نوازشریف کوان کی خواہش کے مطابق علاج معالجے کی ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے۔
پنجاب حکومت نے سابقوزیراعظم نوازشریف کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں لائف سیونگ یونٹ قائم کردیا ہے۔ لائف سیونگ یونٹ میں 3 ڈاکٹرز ، ایمبولینسزاور جدید مشینری چوبیس گھنٹے الرٹ رہے گی۔ واضح رہے گزشتہ روز قائد ن لیگ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی جیل انتظامیہ سے لائف سیونگ یونٹ قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔