آج میرے شہر میں میلہ ہے تحریر پنوں بھائی گڑھ موڑ

0
201

آج میرے شہر میں میلہ ہے

تحریر ثقلین عباس پنوں

 

میرے بچوں نے مجھ سے کہا بابا آج میلہ ہے ہمیں میلے میں جانا ہے میرے بچوں کو ہر سال 9 مارچ کا دن یاد رہتا ہے میلے کا سنتے ہی میں نے بچوں سے انجان پریشانی کے عالم میں بچوں کی بیمار ماں کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں وہی احساس تھا جس سے ہمارے بچے لاعلم تھے اسی وقت میرے بیٹے نے کہا بابا مجھے بڑی والی گاڑی لینی ہے منی نے کہا بابا بابا مجھے گڑیا لینی ہے بابا میں نے یہ بابا میں نے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا چاچو کے بیٹے نے بھی نئے کپڑے پہنے ہیں بابا اس کا جوتا بھی نیا ہے اس کے ابو نے اس کو لا کر دیا ہے بابا میرے نئے کپڑے اور جوتے کہاں ہیں ؟؟؟؟؟؟؟

خیر پریشانی کے عالم میں اپنے گھر سے باہر نکلا میرے محلے کے بڑے لوگ تیا ر ہو کر بچوں کو اچھے اچھے کپڑے پہنا کر ان کی انگلی پکڑ کر میلے کی طرف جارہے تھے ان بچوں کی آنکھوں کی خوشی اور میرے بچوں کی آنکھوں کی خوشی تو ایک جیسی تھی جذبات تو ایک جیسے تھے لیکن اس میں فرق صرف اتنا تھا کہ میرے پاس ان کی بیمار ماں کی دوائی کے لیے پیسے نہیں تھے بچوں کا میلہ نئے کپڑے نئے جوتے تو دور کی بات تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

سرکا ر جون ایلیا نے کیا خوب کہا تھا

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم

یہ بستی مسلمانوں کی بستی ہے
یہاں کا ر ِ مسیحا کیوں کریں ہم

ایک خاموش پیغام

(پنوں بھائی گڑھ مو ڑ کی طرٖف سے )