بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے فوجی کیپ پہننے کا معاملہ، وفاقی حکومت نے قومی ٹیم کو زبردست جوابی اقدام کا حکم دے دیا

0
105

بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے فوجی کیپ پہننے کا معاملہ، وفاقی حکومت نے قومی ٹیم کو زبردست جوابی اقدام کا حکم دے دیا

اسلام آباد (تازہ ترین سلطان نیوز ) بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے فوجی کیپ پہننے کا معاملہ، وفاقی حکومت نے قومی ٹیم کو جوابی اقدام کی ہدایت کردی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو اس معاملے پر آئی سی سی سے احتجاج کرنا چاہیئے، جبکہ پاکستانی ٹیم کو اگلے میچ میں کالی پٹیاں پہنچ کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرنی چاہیئے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے فوجی کیپ پہننے کے معاملے پر شدید ردعمل دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے جو کچھ آج کیا گیا ہے، وہ کرکٹ کا کھیل نہیں ہے۔
وزیر اطلاعات نے پی سی بی کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ معاملہ آئی سی سی کے سامنے اٹھائیں۔
جبکہ پاکستانی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اگلے میچ میں کالی پٹیاں پہنچ کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرنی چاہیئے۔ واضح رہے کہ پلواما حملے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی)نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے نام ای میل میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوشش کی جس پر اسے منہ کی کھانی پڑی تاہم یہ ہزمیت اٹھانے کے باوجود بی سی سی آئی اب بھی پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ2019ءمیں 16جون کو شیڈول میچ سے بھاگنے کے لیے اپنی حکومت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی اور یہ کہا کہ پاکستان کےخلاف میچ حکومتی اجازت سے مشروط ہوگا ۔
اب بھارتی کرکٹ بورڈ مودی سرکار کے اس جنگی جنون کو کھیلوں کے میدان میں بھی کھینچ لائی ہے اور آسٹریلیا کےخلاف تیسرے ون ڈے میچ سے قبل کھلاڑیو ں میں فوجی ٹوپی تقسیم کی گئی جسے پہن کر پوری بھارتی ٹیم آج کا میچ کھیل رہی ہے ، کھیل کے میدان میں جنگی جنون لانے پر سابق کرکٹرز اور ماہرین کی جانب سے بھارتی کرکٹ بورڈ پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور اب سب کی نظریں انٹر نیشنل کرکٹ کونسل پر جمی ہوئی ہیں کہ وہ بی سی سی آئی کی اس حرکت پر کوئی ایکشن لیتی ہے یا اس کے ڈر سے خاموش بیٹھی رہتی ہے ۔
یاد رہے کہ برطانوی آل راﺅنڈر معین علی نے جولائی 2014ءمیں بھارت کےخلاف ٹیسٹ میچ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں کلائی پر خصوصی ہینڈ بینڈ پہن رکھے تھے جن میں ”سیو غزہ“ اور ”فری فلسطین“ تحریر تھا۔ معین علی کے اس عمل کا میچ ریفری ڈیوڈ بون نے نوٹس لیا تھا، سماعت کے بعد ڈیوڈ بون نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معین علی کرکٹ کے میدان سے باہر ذاتی حیثیت سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں مکمل آزاد ہیں تاہم میدان میں انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ڈیوڈ بون نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی پر تو معین علی کو روک دیا لیکن آئی سی سی کادوغلا پن سامنے آگیا تھا کہ جس ٹیسٹ میں شرکت کے دوران معین علی کی سرزنش کی گئی اسی میچ کے تیسرے روز پہلی جنگ عظیم کے 100 سال مکمل ہونے پر اس جنگ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونےوالے کرکٹرز کی یاد میں ایک منٹ کی کاموشی اختیار کی گئی تھی جبکہ انگلش کھلاڑی ایسی شرٹس بھی پہنتے رہے ہیں جس میں ایک ایسی فلاحی تنظیم کا نام کندہ تھا جو جنگوں میں زخمی ہونےوالے برطانوی فوجیوں کی مدد کرتی ہے۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا تھاکہ معین علی کی سرزنش کرکے آئی سی سی نے ایک مرتبہ پر یہ ثابت کردیا ہے کہ کرکٹ کا یہ عالمی ادارہ ناصرف متعصب ہے بلکہ کہیں نہ کہیں یہ بھی مسلمانوں کےخلاف روا رکھے جانےوالے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔