غلام پٹواری اور غلام نیازی۔۔۔گیدڑ نہیں شیر بنیں۔۔۔۔پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں چشم کشاء تحریر

0
93

غلام پٹواری اور غلام نیازی۔۔۔گیدڑ نہیں شیر بنیں۔۔۔۔پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں چشم کشاء تحریر
ہم بالکل اسی جگہ پہ کھڑے ہیں۔ جس جگہ پہ، 20 سال قبل کھڑے تھے۔۔۔ دونوں واقعات میں ذرا سا بھی فرق ہو تو، بتائیے گا۔۔۔
دونوں واقعات اور اس کے بعد کے حالات کا اس قدر مشترک ہونا قدرت کی طرف سے ایک خاموش پیغام ہے۔ کہ تمہاری پالیسیاں غلط ہیں۔ ان پالیسیوں میں تمہاری کامیابی نہیں ہے۔ اسی لیے بیس سال بعد بھی، تم وہیں کے وہیں کھڑے ہو۔۔۔

🔥 (وہی 27 تاریخ)

27 مئی 1999ء کا دن، کارگل جنگ زوروں پر تھی۔ دن کے گیارہ بج کر پندرہ پر، تین بھارتی جنگی طیارے، پاکستان کی حدود میں بمباری کے لیے داخل ہوتے ہیں۔۔۔

جن میں سے دو طیارے

Mig 27ml Sn 1135
Mig 21 Sn c1539

پاک فضائیہ کے بہادر جوانوں نے مار گرائے۔ ایک پائلٹ انجیکٹ نہ کرسکا۔ اور جہاز کے ساتھ ہی جہنم واصل ہوگیا۔۔۔

دوسرا پائلٹ کمپتی نچے کیتا جہاز ہٹ ہونے سے قبل ہی، کامیابی سے انجیکٹ کرگیا۔ اور پاکستانی سرزمین پر اتر گیا۔
جسے ملحقہ آبادی کے شہریوں نے جا دبوچا۔ اس نے جان بچانے کی خاطر اپنے پستول سے شہریوں پر فائرنگ کر دی۔ گولیاں ختم ہونے پر اسے دبوچ لیا گیا۔۔۔
اتنے میں پاک آرمی کے جوان پہنچ گئے۔ جنہوں نے شہریوں سے اس پائلٹ کی جان بچائی۔ اور اپنے ساتھ اپنی یونٹ میں لے گئے۔۔۔

🔥 ٹھیک بیس سال بعد، بالکل ویسے ہی واقعات، 27 فروری 2019ء کو ہوئے۔۔۔

پاک فضائیہ کے جوانوں نے دو بھارتی طیارے مار گرائے۔
ایک پائلٹ انجیکٹ نہ کرسکا۔ جہاز کے ساتھ ہی جل کر تباہ ہو گیا۔

دوسرا جہاز ہٹ ہونے سے قبل انجیکٹ کرگیا۔ اور پاکستانی سرزمین پر اترا۔ شہریوں پر فائرنگ کی۔ پھر پکڑا گیا۔ پھر آرمی کے جوانوں نے شہریوں سے چھڑوایا۔ اپنی یونٹ لے گئے۔۔۔ کارگل جنگ کے وقت نواز شریف وزیر اعظم تھا۔
ٹھیک چھے دن کے بعد 3 جون 1999ء کو نوازشریف نے بھارتی پائلٹ کو رہا کردیا۔۔۔

اب الفاظ پہ غور کیجئے۔۔۔
نواز شریف نے کہا!
میں امن پسند آدمی ہوں۔ جنگ نہیں چاہتا۔ اس لیے بغیر کسی شرط اور معاہدے کے اور بغیر کسی عالمی دباو کے
“جذبہء خیرسگالی” کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کررہا ہوں۔
امید ہے بھارت بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔ اور کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی طرف قدم بڑھائے گا۔
انڈیا نے اپنا پائلٹ واپس لینے سے انکار کردیا۔ اس وقت سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا۔ موبائل فون کیمروں کا دور نہیں تھا۔ اس لیے عوام تک وہی خبر جاتی، جو اخبارات ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے دی جاتی۔
چونکہ انڈیا اپنی عوام کو
بے وقوف بنا چکا تھا۔ کہ ہمارا نہ کوئی طیارہ تباہ ہوا ہے۔ نہ کوئی پائلٹ پکڑا گیا ہے۔
اس لیے اس نے اپنا پائلٹ لینے سے انکار کردیا۔ کیونکہ اگر پائلٹ واپس لیا جاتا۔ تو انڈین عوام پر ان کی حکومت کا جھوٹ عیاں ہوجاتا۔۔۔
لیکن ادھر نواز شریف پر
خیر سگالی کے جذبے کا بھوت سوار تھا۔
اس لیئے پائلٹ کو ریڈ کراس تنظیم کے حوالے کردیا گیا۔ جس نے اسے انڈیا بھیج دیا۔۔۔
2019ء میں عمران نیازی کی حکومت ہے۔
پائلٹ پکڑا گیا۔ انڈیا نے اسے واپس لینے کا مطالبہ تک نہیں کیا۔
(1999میں بھی انڈیا نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا)اور ٹھیک دو دن کے بعد عمران نیازی نے، بھارتی پائلٹ کو یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ
ہم جنگ نہیں، امن چاہتے ہیں۔ بغیر کسی بیرونی دباو بغیر کسی معاہدے اور شرط کے جذبہء خیر سگالی کے طور پر پائلٹ رہا کررہا ہوں۔ امید ہے بھارت بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔ اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے گا۔۔ جس پوزیشن میں اس وقت نواز شریف کے ذہنی غلام “پٹواری” تھے. اسی پوزیشن میں، آج عمران نیازی کے ذہنی غلام “یوتھئے” ہیں۔۔۔
اس وقت بھی “جاہل” عوام نے بہت شور مچایا کہ پائلٹ کو چھوڑ کر، فوجی جوانوں اور کشمیریوں کے خون سے غداری کی جارہی ہے۔

∆ یہ ہندو کبھی پیار کی زبان نہیں سمجھے گا۔ یہ کبھی امن کی طرف نہیں آئے گا۔ مسئلہ کشمیر کبھی بھی بات چیت سے حل نہیں ہوگا۔

اور اس وقت بھی “پٹواریوں” کا وہی جواب تھا۔ جو آج “یوتھیوں” کا ہے.

∆ آج بھی “جاہل” عوام وہی واویلا مچارہی ہے۔ تو وہی جواب یوتھئے دے رہے ہیں۔ کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں جائے گا۔ دنیا ہماری بات سنے گی۔ سفارتی کامیابی ہے۔ اخلاقی کامیابی ہے۔ ہم ڈر کے مارے نہیں چھوڑ رہے۔ بلکہ ان کو دبوچ کے، مار گرا کے، یہ ثابت کر کے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ڈنڈا دے کر چھوڑ رہے ہیں۔

دیکھو پوری دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے۔ اب مسئلہ کشمیر جلد حل ہوجائے گا۔ یہ ہمارے اعلی دماغوں کا بہت بہترین فیصلہ ہے۔ جس کے فوائد آنے والے وقت میں دیکھو گے۔

∆ انڈین عوام حکومت کے خلاف ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ بلا بلا بلا۔

😒 بیس سال گزر گئے۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ نہ کوئی سفارتی کامیابی ملی۔ نہ کوئی مذاکرات سے کشمیر ملا۔ نہ انڈیا نے امن دکھایا۔ نہ دنیا میں ہمارا چہرہ مثبت ہوا۔

∆ لیکن ہماری بھولی بھالی عوام نہ تاریخ پڑھنا گوارا کرتی ہے۔ نہ یاد رکھتی ہے۔ اور پھر اسی راگ کے جھانسے میں پھنس کر ڈپلومیسی کا شکار ہو جاتی ہے۔

∆ جو راگ پاکستانی تاریخ میں بار بار آلاپا جاچکا ہے۔ آج بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔

🔥 کشمیر تب بھی جل رہا تھا۔ کشمیر آج بھی جل رہا ہے۔۔۔🔥

آج بھی حکمرانوں کی وہی زبان وہی خیالات وہی پالیسیاں ہیں۔۔۔

🔥 نواز شریف، عمران خان، زرداری سب ایک سکے کے دو رخ اور امریکی غلام ہیں۔۔۔

∆ ان جیسے ہیجڑوں کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی۔ کہ جنگ اگر مسائل کا حل نہ ہوتا تو کبھی

اسلام میں جہاد فرض نہ ہوتا۔ کبھی سپہ سالار اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ستائیس غزوات نہ لڑتے۔۔۔۔

🔥 خیر سگالیوں کو بتاتا چلوں کہ آج تک، پاکستان نے انڈیا کے بارہ پائلٹس زندہ پکڑے ہیں۔۔۔
اور سب کے سب پروٹوکول کے ساتھ صحیح سلامت انڈیا کو واپس کیے گئے ہیں۔۔۔

∆ جب کہ انڈیا نے پاکستان کے آٹھ پائلٹس پکڑے ہیں۔ اور کوئی ایک بھی واپس نہیں کیا۔ جیلوں میں ہی تشدد کر کے شہید کردئیے گئے ہیں۔ لاش تک واپس نہیں کی۔۔۔

کچھ شرم آئی؟؟؟

ان سے خیر کی توقع ہے تمہیں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں بات میری 😒

” اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ”

یہ پوسٹ سب خیرسگالیوں کے منہ پہ ماریں. اور ان سے کہیں، کہ جواب دیں اس کا۔۔۔

یا غلامانہ اور بزدلانہ ذہنیت اور خیرسگالی کو آج سے طلاق دے دیں۔۔۔
کڑوا ہوں پر بھڑوا نہیں۔۔۔

#آقاکاغلام