فیاض الحسن چوہان کی چھُٹی۔۔ پنجاب کے نئے وزیر اطلاعات کے نام کا اعلان کردیا گیا

0
171

فیاض الحسن چوہان کی چھُٹی۔۔ پنجاب کے نئے وزیر اطلاعات کے نام کا اعلان کردیا گیا
لاہور(تازہ ترین سلطان نیوز ) پنجاب حکومت نے  سید صمصام بخاری کو وزیراطلاعات پنجاب بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعلیٰ نے صمصام بخاری کو وزیراعلیٰ ہاؤس طلب کرلیا،وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد تقرری کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہبازگل نے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کے استعفے کی تصدیق کردی ہے۔
فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ وزیراعظم کی ہدایت پر طلب کیا گیا ہے۔ فیاض الحسن چوہان کے استعفے کے فوری بعد وزیراعلیٰ پنجابنے نئے وزیراطلاعات ونشریات کیلئے اوکاڑہ سے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء صمصام بخاری کو ایوان وزیراعلیٰ بلا لیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے صمصام بخاری کی ملاقات کے بعد وزیراطلاعات کی تقرری کا اعلان متوقع ہے۔صمصام بخاری عام انتخابات میں ن لیگی رہنماء سے اپنی قومی اسمبلی کی نشست ہار گئے تھے لیکن پی ٹی آئی نے اکتوبر 2018ء میں انہیںساہیوال کی نشست پی پی 201سے ضمنی الیکشن لڑوایا جس میں انہوں نے بھارتی ووٹوں سے اپنی نشست جیت لی تھی۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے جو مخالفین کے خلاف اپنے جارحانہ بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا تھا۔
اپنی تقریر میں پلوامہ حملے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں پاکستانی ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حقارت آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے بھارتیوں کے بجائے ہندﺅں کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔ بعد ازاں ان کے بیان کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب اپنے بیان پر جہاں انہیں دیگر صارفین کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا وہیں ان کی اپنی جماعت اور اس کے سینئر راہنماﺅں نے بھی ان کے بیان کی مذمت کی۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹس سے کیے گئے ٹویٹ میں کہا گیا کہ تحریک انصافسوشل میڈیا ان توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتی ہے، ٹویٹ میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات اور نسل سے ہو، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔
صوبائی وزیر نے جو مخالفین کے خلاف اپنے جارحانہ بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا تھا۔ اپنی تقریر میں پلوامہ حملے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں پاکستانی ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حقارت آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے بھارتیوں کے بجائے ہندﺅں کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔