پاک بھارت کشیدگی پر مفصل تحریر : نوجوان لکھاری سردار عبداللہ ملک کے قلم سے ۔۔ ضرور پڑھیں

0
154

پاک بھارت کشیدگی پر مفصل تحریر : نوجوان لکھاری سردار عبداللہ ملک کے قلم سے ۔۔ ضرور پڑھیں۔

انڈین پائلٹ کے گرفتار کئے جانے والے ایک دن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ #گروہوں میں بٹے ہوئے پاکستانی ایک #قوم بن گئے ہیں اور یہ خیال ہی روح کو تروتازہ کرنے کے لئے کافی تھا
لیکن
جیسے ہی حکومت پاکستان نے انڈین پائلٹ ابھینندن کو رہا کر نے کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر ایک ہی لمحے میں #قوم سے دوبارہ گروہ بندی ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے –
اختلاف رائے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے لیکن ایک واریئر اور ایک جذباتی انسان میں تھوڑا سا بالکل معمولی سا فرق ہوا کرتا ہے ، اور وہ فرق ہے #دیکھنے کا ، ایک جذباتی انسان صرف وہی دیکھتا ہے جو سامنے سب کو نظر آ رہے ہوں ، جبکہ ایک واریئر میدان جنگ میں لڑتے ہوئے اپنے ہر ایک وار کرنے سے پہلے ، ہر سٹیپ لینے سے پہلے ، اس کا لانگ ٹرم اثر ذہن میں سوچتا ہے اور پھر ایک ایسا وار کرتا ہے جس سے اس کا مخالف چاروں شانے چت گرتا ہے اور اگر وہی واریئر ایک جذباتی انسان کی طرح ایک دم ہی اپنے سارے سٹیپ لے لیتا ہے تو اس کی ناقابل فراموش شکست یقینی ہو جاتی ہے-
میرے وہ قارئین جن کو ابھینندن کو رہا کرنے کے بدلے کرنل حبیب کو بھارت کی قید سے آزاد کروانے کی سودے بازی کرنے کی سوچ ذہن میں آ رہی ہے یا وہ اس رہائی کو امریکی ٹیلی فون کا اثر قرار دے رہے ہیں ، ان تمام احباب سے انتہائی ادب کے ساتھ
#چنداہم_سوالات کرنا چاہتا ہوں
1 √ کیا ان احباب نے ڈائیریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی پریس کانفرنس کو صرف سنا ہے یا سمجھ کر سنا ہے؟؟؟
کیونکہ یہ الفاظ کہ ہم نے انڈین ایریا میں دشمن کے 6 ٹارگٹ لاک کئے تھے ، جن میں اس بات آ یقینی بنایا گیا کہ سویلین آبادی کا ضیاع نہ ہو ، اس کا مطلب جذباتی انسان تو جو بھی لیں وہ اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہیں ، لیکن ایک واریئر کے کان کی الفاظ سن کر یہ منظر دیکھ سکتے ہیں کہ پاک فضائیہ نے انڈین ایریا میں چھے آرمی تنصیبات نشانہ بنایا، اور جب کوئی فائیٹر پائلٹ اپنے دشمن کے علاقے میں ٹارگٹ لاک کر لیتا ہے تو پھر یا وہ ٹارگٹ زمین پر سلامت رہتا ہے یا وہ لاک کرنے والا فائیٹر پائلٹ ، الحمد للّٰہ #حسن_صدیقی حفظہ اللہ تو ہمارے درمیان موجود ہیں ، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ #چھےلاکڈٹارگٹس اب اس سرزمین پر موجود نہیں ہیں-
2 √ کل انڈین سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان پر میزائل حملہ کیا جائے ، لیکن میرے قارئین جانتے ہیں کہ الحمد للّٰہ ، ہمارا ازلی دشمن بھارت ، پاکستان پر میزائل حملہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر پایا – کیا اس سے بھی ان جذباتی بھائیوں کو افواج پاکستان کی پروفیشنل مہارتوں اور امریکہ اسرائیل اور بھارت سمیت پاکستان کے تمام دشمنوں پر رعب قائم ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے ؟؟؟
3 √ میرے وہ جذباتی دوست ، موجود سنگھ سدھو کو ہمارے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس ایک جپھی اور کرتار سنگھ کاریڈور کھولنے کا اعلان کرنے پر بھی اسی طرح سے جذباتی اور جوشیلے بیانات داغ رہے تھے ، لیکن وقت اور حالات نے ثابت کر دکھایا کہ وہ ایک جپھی ، انڈیا کے خلاف ایک لانگ رینج ملٹی بیلسٹک میزائل سے زیادہ مہلک وار ثابت ہوئی اور یہ سلسلہ ابھی اور آگے چلے گا –
4 √ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارتی فضائیہ کے دو جہاز کریش ہوئے تھے ، پاکستان نے ایک پائلٹ ابھینندن ہی کو واپس کرنے کا اعلان کیا ہے – خدا کے بندو ! ذرا عقل کے ناخن لئے ہوتے تو کم سے کم انڈیا کے میڈیا اور آفیشلز کی باتیں ہی سن لیتے جو کل سے رونا رو رہے ہیں کہ بھارتی فضائیہ کے تین پائلٹس لاپتہ ہیں ، پھر ایک ابھینندن واپس کرنے کے بعد بھی ہمارے پاس دو پائلٹس جن کے وجود کا انڈیا ابھی تک اعتراف ہی نہیں کر رہا اور نہ ان کا کہیں ذکر یا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، یاد ہو گا کہ یہی انڈیا کلبھوشن یادیو کو بھی تسلیم نہیں کر رہا تھا اور پھر وقت نے دیکھا کہ ہمارے قومی سلامتی کے ضامن اداروں کی بہترین پلاننگ سے وہی کلبھوشن یادیو انڈیا کے حلق میں پھنس کر رہ گیا ہے-
5 √ چوبیس گھنٹے ففتھ جنریشن وار کو کھیل تماشا سمجھ کر فیسبک ٹائم لائنز اور ٹویٹر ہینڈلرز کالے کرنے کے عادی کچھ جذباتی دوست بھی ابھینندن کی رہائی کو انڈین میڈیا کے موقف کے مطابق امریکی اور انڈین دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر قوم کو جذبات کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں ان سے ایک سوال ہے کہ اگر دباؤ ہے تو بھارت اور بھارت نواز سیاہ ست دانوں کے ماموں کلبھوشن یادیو کو کیوں نہیں چھوڑ دیا گیا ، اس کیلئے عالمی عدالتوں کے چکر کیوں کاٹے جارہے ہیں-
میرے بھائی ! ہم ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہیں اور ہم۔نے گزشتہ دنوں میں دنیا پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ الحمد للّٰہ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت کا مؤثر اور بھرپور جواب ، یادگار انداز میں دینے کی صلاحیت اور تدبر رکھتے ہیں
ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں
اس لئے اپنی پاک فضائیہ کے شاہینوں کی محنت ضائع نہیں کریں ، اور ڈپلومیسی اور فن حرب و ضرب دونوں کو اکٹھا چلنے تو دیں ، آج بھارت کے اپنے عوام سمیت ساری دنیا بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون پر تھو تھو کر رہی ہے ، اور پاکستان کا ایک ذمہ دارانہ اور مدبر انداز جو کہ کسی بھی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقت کا ہونا چاہئے ، وہی قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور انداز دنیا تسلیم کر رہی ہے –
جنگ ، اعصاب پر سوار نہیں کیا کرتے بلکہ اپنے داؤ پیچ سے دشمن کو ایسے مقام پر لے جایا کرتے ہیں کہ اس کے پاس سوائے پچھتاوے اور خودکشی کر لینے کے اور کوئی راستہ نہ بچ سکے –
یہ حالیہ جنگ جو کہ عام جذباتی بھائیوں کو صرف پاکستان اور بھارت کی جنگ نظر آ رہی ہے ، حقیقت یہ نہیں ہے ، اعصاب شکن مقابلے کا ابھی تو پہلا فیز ہی ہوا ہے ، جس کا ہر لمحہ ، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل و کرم سے #پاکستان_ہی_جیتا ہے ، کاش کہ آپ کو ان حقائق کا ادراک ہو سکتا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اسلام اور پاکستان کے کس کس دشمن کو کہاں کہاں زخم لگائے ہیں اور موجودہ ابھینندن رہائی والے شاٹ نے پاکستان کے سنگین ترین دشمنوں کو کس قدر زخم چاٹنے پر مجبور کیا ہے –
ان شاءاللہ آنے والا وقت بتائے گا کہ اس وقت یہ ایک ابھینندن رہا کرنا ، بھارت کے لئے ناقابل فراموش نقصان بن کر سامنے آئے گا ،