وڈیرہ کا راج جیت گیا اور قانون کو حسب روایت دھول چٹادی گئی۔۔۔شورکوٹ میں ایم ایس کے تبادلہ کی کہانی۔۔۔وسیم میو کی زبانی۔۔۔۔عدالت عظمی نوٹس لے

0
225

وڈیرہ کا راج جیت گیا اور قانون کو حسب روایت دھول چٹادی گئی۔۔۔شورکوٹ میں ایم ایس کے تبادلہ کی کہانی۔۔۔وسیم میو کی زبانی۔۔۔۔عدالت عظمی نوٹس لے

(پوائنٹ ٹو پوائنٹ)

انجنینئروسیم اقبال میو

ہمارے مقامی حکومتی اداروں میں سیاسی ڈیروں سے جاری آئین کے مقابلے میں 1973کا آئین ہاتھ باندھ کےکھڑاہوتا ہے۔۔ملک عزیز کے آئین کی حکم عدولی اتنا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن ایک سیاسی ڈیرے سے جاری فرمان عالی شان نہ ماننا آپ اور آپ کے خاندان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔اگر آپ سرکاری ملازم ہیں اورڈیرے کا حقہ بھرنے سے انکار کردیتے ہیں تو آپ کا تبادلہ اور سنگین الزمات پر معطلی یقینی ہے۔ڈاکٹر حاشر جیسے محنتی اور انسان دوست شخصیت کو ایم ایس ہسپتال شورکوٹ کے عہدے سے ہٹایا جانا سیاسی جارحیت کا نتیجہ بتایا جارہا ہے۔۔ڈاکٹر حاشر شاید آپ نہی جانتے تھے کہ ڈیرے کی حکم عدولی کی کیا سزاہوتی ہے اور آپ کے محکمے کے بڑے ڈیرےسے جانیوالے ایک منشی کا فون بھی کھڑےہوکے سنتے ہیں۔ڈاکٹر حاشرآپ ایسے ملک کی خدمت کررہے ہیں جہاں ایک کال نہ سننے کی جرم میں دارالحکومت کے آئ جی کو عہدے سے ہٹادیاجاتاہے اور شورکوٹ بھی تواسی ملک کا حصہ ہے۔۔چندماہ قبل اٹھارہ ہزاری ہسپتال میں ایک ڈسپنسر عدنان نامی بھیڑیا جوہماری بہن(جومزکورہ ہسپتال میں مڈوائف ہیں)کوکافی دنوں سے ہراساں کررہا تھا معاملہ برداشت کی حد سے بڑھا تویہ شکایت سی ای اوہیلتھ کے دربار میں جا پہنچالیکن انصاف خوشی سے اس وقت سرشار گھرواپس لوٹ گیاجب اس بہن کو قتل کی دھمکیوں کے سلسلےنےعروج پکڑا۔سوال یہ نہیں کہ ایک ساراقانون ایک معمولی ڈسپنسر کا کچھ نہ کرسکا عہدے سے ہٹانا تودورکا اسےکاوہاں سے تبادلہ کرنے کی زحمت بھی نہ کی گئ سوال یہ ہے کہ ایک حساس اخلاقی مسلے کی انکوائری کوکیوں فائل تک محدودہوناپڑا آخر اس کوکس ڈیرے کا آشیرآباد حاصل تھاجس کے سامنےقانون ہاتھ جوڑ کے کھڑارہا۔۔ اہلیان جھنگ ہمیں جاگنا ہوگااس سےپہلے کہ جھنگ یونیورسٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شورکوٹ تا جھنگ منظورہونے والا ون وے روڈ چنیوٹ میں نظر آئے ہیں۔خداراڈیروں کی سیاست کا شکار ان مظلوموں کی آواز بنیں اسے پہلے کہ ڈیرے پربلاکرآپ کی آواز ہمیشہ کیلئے بندکردی جائے۔۔ #ڈاکٹرحاشر مجھےشرمندگی آپ کے سیاسی عتاب کا شکار بننے پر نہیں بلکہ آپ پر بننے والی ممکنہ محکمانہ انکوائری پرہے تحریر انجنینئروسیم اقبال میو