کنٹرول لائن کی عوام اور آزاد کشمیر حکومت تحریر۔ امجد حسین صارم کشمیر

0
40

کنٹرول لائن کی اعوام اور آزاد کشمیر حکومت
تحریر۔ امجد حسین صارم کشمیر

آزاد حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں

میرپور ( ) بیس کیمپ کی حکومت اپنے ہی شہریوں متاثرین لائن آف کنٹرول کا تحفظ کرنے میں ناکام ،بنکرز بنانے کا دو سال قبل کیا جانے والا اعلان ہی رہا ، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے حکومت کوئی اقدامات نہ اٹھا سکی ، وزیراعظم کے بیرون ملک دورے کے باعث خراب ترین حالات کے باوجود متاثرین کے لئے ایک بھی اجلاس نہ بلوایا جاسکا ، متاثرین کو بھارتی گولہ بھاری اور فائرنگ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، متاثرین لائن آف کنٹرول کسی مسیحا کئ تلاش میں ، میرپور ڈویژن کے دو اضلاع کوٹلی اور بھمبر کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوئی پلاننگ نہ کی گئی ، بیوروکریسی کی جانب سے ضلع کوٹلی کے متاثرین کے لئے تین اور ضلع بھمبر کے لئے ایک کیمپ بنایا گیا سہولیات نہ ہونے اور خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے اور متاثرین کو منتقل کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ اور میڈیکل کی سہولیات تک نہ ہونے کے باعث متاثرین نے کیمپوں میں جانے سے معذرت کرلی ، لائن آف کنٹرول پر جاری بھارتی کشیدگی میں ضلع کوٹلی کے لائن آف کنٹرول کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں پر حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 5شہرئ شہید جبکہ 16 افراد شدید زخمی ہوئے اور 1801 افراد اور 255کنبوں نے نقل مکانی کی جبکہ ضلع بھمبر کے لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں 3افراد شدید زخمی ہوئے اور 83افراد اور 18 کنبوں نے نقل مکانی کرکے حکومت کی جانب سے سہولیات کے بغیر بنائے گئے کیمپوں میں جانے کی بجائے عزیز و اقارب کے گھروں میں پناہ لے رکھی ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت آزادکشمیر ماضی کی طرح اس بار بھی متاثرین لائن آف کنٹرول کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے سمیت انکو سہولیات دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے جس سے حکومتی کارکردگی اور دعوں کا پول کھل گیا ہے اور متاثرین لائن کنٹرول نے حکومت کی جانب سے کئے گئے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ظلم قرار دیا ہے !