گڑھ مہاراجہ کی پبلک لائبریری مسائل کا گڑھ تحریر :سیف اللہ صدیقی

0
84

گڑھ مہاراجہ کی پبلک لائبریری مسائل کا گڑھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :سیف اللہ صدیقی

علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے ۔اسی طرح علم سکھانا اور اس کو فروغ دینا بھی بہترین اعمال میں سے ہے ۔لائبریریاں علم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔لائبریریوں کے قیام اور ان کے ذریعے علم کے فروغ کے بغیرکوئی قوم عورج حاصل نہیں کرسکتی۔مسلمانوں کا اقبال جب عروج پر تھا تو اس وقت کتب خانوں کوبہت اہمیت حاصل تھی۔ترقی یافتہ ممالک میں کتب خانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ کتب انسان کی بہترین دوست اور ساتھی ہی نہیں بلکہ معلومات کا خزانہ بھی ہیں۔انسان جب کبھی بھی تنہا ہوتا ہے تو ایسے وقت میں کتابیں ہی انسان کا دل بہلاتی ہیں۔فرصت کے اوقات میں دل بہلانے اور معلومات کے خزانے سے مالا مال ہونے کے لیے راجاؤں اور مہاراجاؤں کی نسبت سے تحصیل احمد پور سیال میں آباد ضلع جھنگ کے قدیم شہر گڑھ مہاراجہ میں بھی1988ء میں پبلک لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ۔جس طرح کسی دور میں یہ شہر راجاؤں اور مہاراجاؤں کا گڑھ تھا اسی طرح یہ پبلک لائبریری بھی اپنے قیام سے لے کر تاحال مسائل کا’’گڑھ‘‘ بنی ہوئی ہے۔لائبریری تو بنا دی گئی لیکن اس کے مسائل کے حل میں کسی نے دلچسپی نہیں لی جس کی وجہ سے یہ مسائلستان بن چکی ہے۔سب سے بڑا اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس لائبریری کے لیے تاحال ضروریات کے مطابق اس کی اپنی ذاتی سرکاری بلڈنگ تعمیر نہیں کی گئی۔مین روڈ کے کنارے یہ لائبریری جس تنگ عمارت میں کام کر رہی ہے وہ اس کے لیے نہ صرف ناکافی ہے بلکہ چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی رسک بھی بنی ہوئی ہے۔اس وقت لائبریری میں موجود کتابوں کی تعداد 14000ہزار ہے۔اور انچارج لائبریرین مہر عبدالشکور سڈھل سمیت ،ایک اسسٹنٹ ، ایک کلرک اور تین درجہ چہارم کے ملازمین اس پرخطر عمارت میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدآ برآہورہے ہیں۔ایک طرف جہاں یہ لائبریری چار دیواری سے محروم ہے تو دوسری طرف وہاں سیکیورٹی گارڈ کی عدم دستیابی بھی عملے اور عمارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے ۔اس لائبریری میں خاکروب کی تعیناتی بھی عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے صفائی کی صورتحال ابتر رہتی ہے۔لیڈیز اینڈ چلڈرن سیکشن اور فی میل سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے طالبات لائبریری کا رخ کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔بااثر قبضہ مافیا نے لائبریری کی عمارت کے باہر ٹال،بجری،ریت ،سیمنٹ اور اینٹوں کی دکانیں بنا رکھی ہیں۔ناجائز تجاوزات کے خلاف حکومتی مہم بھی اس قبضہ مافیا کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اس لائبریری میں کمپیوٹر سیکشن کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے۔گڑھ مہاراجہ میں لائبریری کی موجودگی کے باوجود کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی بنیادی وجہ اس لائبریری کے لیے مناسب وسائل کی عدم فراہمی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس لائبریری کے لیے ایک خوبصورت اور کشادہ بلڈنگ تعمیر کی جائے جس میں لیڈیز اینڈ چلڈرن سیکشن بھی بنایا جائے اورور فی میل سٹاف کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی گارڈ اور دیگر ضروری عملہ بھی تعینات کیا جائے تاکہ اس لائبریری کے ثمرات پوری طرح سے عوام تک پہنچ سکیں ،علم دوستی کو فروغ حاصل ہو اور لوگ معلومات کے خزانے سے مالا مال ہوسکیں۔