شکر گزاری تحریر ۔۔عبداللہ شاکر

0
171

شکر گزاری

تحریر ۔۔عبداللہ شاکر

*’’* اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا! *‘‘*
*القرآن*

شکر گزاری کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں استعمال ہو۔شکر گزار ی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرتاہے کہ جو شخص میری دی ہوئی نعمت پرشکر کرے گا، میں اسے وہ نعمت اور زیادہ دوں گا۔شکر درحقیقت احساس کا نام ہے۔ یہ زبان سے نہیں عمل سے ہوتا ہے ۔شکر کی انتہاء یہ ہے کہ منفی چیزیں بھی مثبت لگنا شروع ہو جائیں۔حضرت شیخ سعدی ؒ شیرازی فرماتے ہیں مقام شکوہ اصل میں مقام شکر ہے۔حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ خالق کا گلہ مخلوق سے نہیں کرنا اور مخلوق کا گلہ خالق سے نہیں کرنا۔
ایک روایت ہے کہ حضرت موسی ٰ علیہ السلام کوہِ طور پراللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے جا رہے تھے تو راستے میں ان کی ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس کے پاس رزق کی فروانی تھی ۔ اس شخص نے آپؑ سے کہاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے کہیے کہ تونے جتنا رزق مجھے دیا ہے یہ میرے لیے کافی ہے مجھے اور رزق کی ضرورت نہیں ہے۔جب آپؑ ذرا آگے گئے تو ایک شخص ایسا ملا جس کے پاس پہننے کو کپڑے بھی نہیں تھے اوروہ ریت میں اپنے جسم کو چھپا کر بیٹھاتھا۔اس نے آپؑ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھنا مجھے کب رزق ملے گا۔جب آپؑ کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تو آپؑ نے دونوں کے سوال اللہ تعالیٰ سے بیان کیے ۔اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایاکہ جس کے پاس زیادہ رزق ہے اُسے کہنا کہ شکر کرنا چھوڑ دے اور دوسرے سے کہنا کہ شکرادا کرنا شروع کر دے۔ہر وہ آسانی جس کا شکر ادا کیا جائے اس میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ شکرزبان سے نہیں بلکہ شکرباٹنے سے ہوتاہے۔جب بندہ اپنا علم بانٹتا ہے، آسانیاں بانٹتا ہے،رزق بانٹتا ہے تو دراصل یہ شکر کا اظہار ہوتا ہے۔شکریہ ہے کہ جس نے نعمت دی ہے نعمت اسی کے لیے قربان کر دی جائے۔ ہمارے ذہن میں شکرگزاری کا یہ تصور بیٹھا ہوا ہے کہ 100دفعہ شکر الحمدللہ پڑھنا ہے یا اگر کسی نے حال پوچھا تو جواب میں شکر الحمدللہ کہنا ہے، چاہے وہ شکر محسوس ہو یا نہ ہو حالانکہ یہ شکر گزاری نہیں ہے۔ ایک شخص مال جمع کرتا ہے مگر بانٹتا نہیں ہے اور کہتا ہے کہ شکر ہے، شکر ہے… وہ شکر نہیں کہلائے گا۔ وہ شکرگزار تب کہلائے گا جب وہ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں بانٹے گا۔مال کے معاملے میں جو شخص شکرگزار نہیں ہوتا اس کے بارے میں ایک بزرگ فرماتے ہیں، کنجوس انسان مال اکٹھا کرتا ہے اور استعمال کوئی اور کرتا ہے۔ شکرگزاری تو یہ ہے کہ میرے رسولﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے دیئے گل کر کے دوسروں کو کھلایا ہے۔ انھوں نے زخمی حالت میں دوسروں کو پانی پلایا ہے اور خود موت کو گلے لگایا ہے۔شکر گزاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نوازشیں، جو آسانیاں، جو نعمتیں عطا کی ہیں، وہ دوسروں میں بانٹی جائیں۔جوحضوراکرمﷺ کا سچا عاشق ہو وہ سخی ہو تا ہے ، کیونکہ میرے رسولﷺنے بانٹا ہے۔
سب سے بڑی زنجیر ادھورا پن ہے۔ ممکن ہے، کوئی اپاہج نہ ہو لیکن پھر بھی ادھورا ہو۔ یہ ادھوراپن کئی لوگوں میں ہوتا ہے اس لیے اکثراپنے آپ کو بہادر سمجھنے کہنے والے بزدل ہوتے ہیں۔ آدمی کھودتا پہاڑ ہے لیکن نکلتا چو ہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے اعصاب مضبوط نہیں ہوتے۔ اس کی اپروچ منفی ہوتی ہے۔ انسان اپنے قد سے بڑا نہیں ہوتابلکہ وہ اپنی سوچ اوراپنے ویژن سے بڑا ہوتا ہے۔ معروف موٹیویشنل اسپیکر نک وائے جیک (Nick Vuijic) کہتا ہے، اپاہج وہ ہے جو اچھا نہیں سوچ سکتا؛ اپاہج وہ ہے جس کی عادات اچھی نہیں ہیں؛ اپاہج وہ ہے جو منفی سوچتا ہے؛ اپاہج وہ ہے جو زیادتی کرتا ہے؛ اپاہج وہ ہے جو دوسروں کے نقصان کے بارے میں سوچتا ہے؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس علم نہیں ہے؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس وسائل ہیں، مگر کوئی مقصد نہیں ہے؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس زندگی ہے لیکن جوازِ ہستی نہیں ہے؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس آنکھیں ہیں لیکن زندگی میں کوئی ویژن نہیں؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس ٹانگیں ہیں لیکن وہ صحیح راستے پر نہیں چل رہیں؛ اپاہج وہ ہے جس کے پاس ہاتھ اور بازو ہیں لیکن وہ ہاتھ اور بازو اس کام پر نہیں لگے ہوئے جو کام کسی کے فائدے میں ہوسکتا ہے۔ جب انسان ادھورے پن کے نظریے کے متعلق اتنا واضح ہو تو پھر وہ بغیر بازوؤں کے، بغیر ٹانگوں کے بہت کچھ کر کے دکھاتا ہے۔لوگ لاکھوں روپیہ لگا کر اپنے دل کا، اپنی آنکھوں کا علاج کراتے ہیں مگر یہ چیزیں کروڑوں روپے میں بھی نہیں ملتیں۔ اس لیے ان کی قدر کرنی چاہیے۔ کسی دن کسی ایسے فرد کے ساتھ کھڑے ہوں جس کے پاس آنکھیں نہیں ہیں۔ اگر آپ میں احساس زندہ ہے تو پھر آپ اپنی آنکھوں کی قدر کریں گے۔ آپ سوچیں گے کہ اگر یہ نہ ہوں تو میری زندگی کتنی مشکل ہو جائے۔ اس سے جا کر پوچھئے کہ جس کے ہاتھ نہیں ہیں اور وہ کتنی مشکل سے کام کر رہا ہے۔ پھر آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے، کیونکہ اعضائے جسمانی کے بغیر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔
شکر اور اُمید کا بہت گہرا تعلق ہے۔شکرکرنے والے لوگ اُمید والے لوگ ہوتے ہیں۔رونڈابائرن کہتی ہے کہ جو شخص شکرگزار ہوتا ہے اس کی شعاعیں مثبت ہوجاتی ہیں۔جیسے ہی شعاعیں مثبت ہوتی ہیں تو زندگی میں مواقعوں کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔جو لوگ اچھا محسوس کرتے ہیں ان کی زندگی میں زیادہ مواقع آنا شروع ہو جاتے ہیں۔زندگی کو آسان گزارنے کا طریقہ یہ ہے کہ زندگی کو خوشی سے قبول کیا جائے ۔زندگی میں سکون لانے کے لیے زندگی کو قبول کر لیا جائے یہی شکر گزاری ہے۔ اگرآج اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے پر ہمارا ایمان ہے تو پھر یہ ایمان بھی ہونا چاہیے کہ آنے والے دنوں کا رازق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔جب یہ ایمان ہوتوپھر فکرمندی نہیں ہوتی۔آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی جائیداد اپنی اولاد کے نام کرنے کو تیار ہیں لیکن حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں :اولاد قابل ہوتو مال دینے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ مال خود کما بنا لیتی ہے۔ ہم کیوں نہ ایک نئی سوچ کی طرف جائیں اور وہ سوچ یہ ہے کہ اپنے معاشرے کے معیار کو بدل دیں اور وہ معیار اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔ہمیں اپنے تھوڑے پر راضی ہونا سیکھنا چاہیے۔دوسری قومیں اس لیے ترقی کر رہی ہیں کہ ان کے ہاں قومی سطح پر شکرگزاری پائی جاتی ہے۔ہر شخص اپنے راستے کی رکاوٹ خود ہوتا ہے لیکن وہ دوسروں کو قصوروار سمجھتا ہے۔چور باہر نہیں بلکہ چورانسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔اگر شکرگزاری سے تھوڑی سی تبدیلی اپنی ذات میں لائی جائے تو اس ملک میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
بہت ساری چیزیں اور وجو ہ ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں اور نہ انھیں چھوا جا سکتا ہے، مگر ہماری کامیابی اور ترقی میں ان کا بہت کردار ہوتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے۔
-1 اے اللہ، تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے سیکھنے کا شوق دیا۔ اگر تو نے مجھے سیکھنے کا شوق نہ دیا ہوتا تو میں کبھی بھی اتنا علم حاصل نہ کرپاتا۔
-2 اے اللہ، تو نے مجھے اگر شکر گزار بندہ نہ بنایا ہوتا تو میری زندگی میں اتنے لوگ نہ ہوتے۔میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔
-3 اے میرے اللہ، جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں اگر تو ان کے دلوں میں میری محبت نہ ڈالتا تو میرے سے زیادہ تنہا انسان کوئی نہ ہوتا۔ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔
-4 اے اللہ، مجھے تجھ پر یقین ہے، اس کا میں شکر ادا کرتا ہوں۔
-5 اے اللہ، میں تیرا ماننے والا ہوں۔ تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ یہ سب تیری توفیق سے ہے۔ اس کا میں شکر ادا کرتا ہوں۔
-6 اے اللہ، میں اس پر بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ کبھی میر ی آنکھ سے حضوراکرمeکی محبت میں آنسو نکلے۔
-7 اے اللہ، تو نے مجھے اتنی طاقت دی رکھی ہے کہ گھنٹوں کام کرنے کے باوجود بھی مجھے تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ یہ مجھ پر تیرا بہت بڑا احسان ہے۔ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔
-8 اے اللہ، مجھے اپنی غلطیوں پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس پچھتاوے کے احساس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔
-9 اے اللہ، تو نے مجھے توفیق دی کہ میں اپنے والدین کی صحت کیلئے دعا مانگتا ہوں۔ میں اس پر تیرا شکر گزار ہوں۔
-10 اے اللہ، تو نے مشکل آنے سے پہلے اس کو حل کر دیا۔ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔
-11 اے اللہ، مجھے اچھی چیزوں کی قدر ہے۔ میں اس پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔
-12 اے اللہ، تو نے مجھے ہمت دی کہ تیری مخلوق کی مدد کرسکوں، میں تیرا شکر گزار ہوں۔
-13 اے اللہ، میں اس احساس کا شکر ادا کرتا ہوں جو مجھے تیرے قریب کرتا ہے۔
-14 اے اللہ، مجھے آگے بڑھنے کا شوق ہے، میں اس کا شکر ادا کرتاہوں۔
-15 اے اللہ، تو نے مجھے خواب دیکھنے والا بنایا، میں اس پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔

.🛍المرسل… *عبداللہ شاکر*