امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد انتخاب ارشد قاسمی

0
156

امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد

۔۔۔۔۔۔۔انتخاب ارشد قاسمی

سامنے عکس ایک ایسے انسان کی عکس ھے جو تعارف شخصیت کا محتاج نھی
لیکن اتنا بتاتا چلُو کہ برصغیرپاک وھند کے انقلابیوں میں سے ایک انقلابی جبل ھے
نام۔۔۔۔ محی الدین
کنیت۔۔۔۔۔ ابولکلام
تخلص۔۔۔۔۔۔۔آزاد
لقب۔۔۔۔۔امام الہند
والد محترم خیرالدین دھلوی کے نام مشھور تھے
آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ھوۓ
10/11 برس میں آپ ھندوستان منتقل ھوۓ اور کلکتہ میں سکونت اختیار کی اور وھی عصری ودینی علوم پایہ تکمیل تک پہنچاٸی
آپ بنگال کے انقلابیوں کیطرف بہت ماٸل تھے اور انکے ساتھ گہرے تعلقات بھی قاٸم وداٸم رکھے
شیخ الھند محمود الحسن ؒکے انتہاٸی معتقد تھے
شیخ الھندؒ سے آپکا تعارف
امام انقلاب حضرت مولنا عبیداللہ سندھیؒ نے کیا
تحریک ریشمی رومال کے اھم رکن سرگرم شخصیات میں سے تھے
جنود ربانیہ میں آپکا منصب لفٹیننٹ جنرل تھا
برٹش کیس میں آپ پر دفعہ آیا لیکن پہلے سے ھی آپ قید میں تھے
اس کیس میں آپ پرچہ کچھ یوں درج ھوا
“””محی الدین نام
۔ابولکلام کنیت ۔آزاد تخلص۔
الہلال کا بدنام ایڈیٹر انجمن حزب اللہ اور کلکتہ کے دارالاشاد کالج کے بانی ھے
دلی کا باشندہ ھے لیکن تعلیم عرب میں بھی پاٸی ھے انتہإ درجے میں اتحاد اسلامی کا حامی ھے ۔ بہت کٹر انگیز دشمن بےحددرجے کا معتصب ھے ۔دیوبند سازش جہاد کا نہایت سرگرم کارکن تھا یقین کیا جاتا ھے کہ حالیہ شورش میں اس نے ھندوستانی معتصبوں کو روپے کی اور دوسری طرح مدددی ھے جنود ربانیہ کی سرفہرست میں لفٹیننٹ جنرل ھے ( تحریک شیخ الھند صفحہ ٣٨٨)””””
زندگی کا اکثر حصہ آپ نے جیل میں گزارا
سب سے پہلے پونے چارسال قید میں رھے بھت کم وقت رھاٸی ملی جسمیں اپنے جلسے جلوس اور خطابت کو حرکت دینا شروع کیا اسکے بعد ایک بار پھر قید ھوۓ اور مسلسل تین سال علی پور جیل میں رھے
#کارمانہ_جیل آپؒ نے اس قیدبند کی تکلیفوں کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرنے کساتھ کلام اللہ کی ایک جید تفسیر لکھی جو بیان القرآن سے مسمیٰ تھی
لیکن گورے فرنگی سامراج نے اس نسخے کا جلادیا اور آپکی دن رات کی محنت کو آگ لگادی
#انتہاٸی_دل_خراش_واقعہ
پہلی مرتبہ جب جیل سے رھا ھوۓ تو کم وقت گھر پہ گزارا جو نہ ہونے کے برابر تھا
کیونکہ آپ اکثر جلسہ جلوس اجلاسوں میں رھتے لیکن فرنگیوں نے آپنا موقع ضاٸع نہ کیا اور آپکو ایک بار پھر سے گرفتار کر رکھا
ختیٰ کہ جیل میں چھ مہینے گزرے ھی تھےکہ اپکے علاقے سے ایک قیدی بھی اسی جیل میں لایا گیا
قیدی نے جیل انچارج سے پوچھا
کہ یھاں کوٸی مولنا آزاد کے نام سے کوٸی قیدی ھے
جیل انچارج نے جواب دیا
کہ ہاں بلکل یہاں قیدی ھے
اسنے جیل انچارج سے کھا کہ کیا میں انسے ملاقات کرسکتا ھوں ؟
جیل انچارج نے کھا کہ نھی انکے ملاقات پہ پابندی عاٸد کی گٸی ھے
اس قیدی نے پھر سے کہا کہ میری طرف سے یہ چھوٹا پیغام اسے پھنچادو
اور اسے کہہ دو کہ تیری بیگم صاحبہ انتقال کرگٸی ھے
جیل انچارج فوراً ۔۔۔۔
مولناآزادؒ کیطرف لپکا اور مولنا آزاد کو جیل کی سلاخوں کیطرف بلایا
اور مولناآزادؒ نے فوراً جیل سلاخوں کے پہ ہاتھ رکھ کراسکی طرف متوجہ ھوا
جیل انچارج نے کہا کہ فلاں قیدی فلاں جگہ سے آیا ھے
اور اسنے یہ کہا کہ مولناآزاد کو باخبر کیجٸے کہ تیری بیگم صاحبہ اس دنیا سے کوچ کرچکی ھے
مولناآزاد نے ایک لمبی سانس لی اور آنکھوں نے آنسوں برسانا شروع کیا اور آسمان کیطرف دیکھا کہ اور یہ جملہ بےاختیار منہ سے نکلا ۔۔۔۔۔۔
کہ کاش میری ساری عمر اس آزادی اور انقلاب کی خاطر جیل میں گزرجاتی
لیکن اپنی بیگم صاحبہ کا آخری چند لمحوں کا دیدار تو کرلیتا
22فروری یوم وفات
دھلی کے لال قلعہ میں مدفون ھے