22جمادی الثانی،یوم وفات،خلیفہ بلافصل،جانشین پیغمبرﷺ،امام صحابہؓ،ابو عاٸشہؓ،سُسر پیغمبرﷺ،وارث مصلیٰ رسولﷺ،سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تحریر:-حسیب خان گڑھ مہاراجہ جھنگ

0
171

22جمادی الثانی،یوم وفات،خلیفہ بلافصل،جانشین پیغمبرﷺ،امام صحابہؓ،ابو عاٸشہؓ،سُسر پیغمبرﷺ،وارث مصلیٰ رسولﷺ،سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

تحریر:-حسیب خان گڑھ مہاراجہ جھنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاکپاۓ درِ اصحاب رسولﷺ

22جمادی الثانی،یوم وفات،خلیفہ بلافصل،جانشین پیغمبرﷺ،امام صحابہؓ،ابو عاٸشہؓ،سُسر پیغمبرﷺ،وارث مصلیٰ رسولﷺ،سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

آپؓ کا نام عبداللہ بن ابی قحافہ تھا۔ابی قحافہ کا نام عثمان بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا۔والدہ کا نام ام الخیر تھیں جن کا نام سلمیٰ بنت صحر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم ب مرہ تھا۔سیدنا ابوبکرؓ کی اولاد میں عبداللہؓ اور اسما ٕ ذات النطاقین تھیں۔ان دونوں کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ تھیں۔

عبدالرحمنؓ اور سیدہ امی عاٸشہؓ کی والدہ ام رومان بنت عامر تھیں۔

محمد بن ابی بکرؓ کی والدہ اسما ٕ بنت عمیسؓ تھیں۔
ام کلثوم بنت ابی بکرؓ کی والدہ حبیبہ بنت خارجہ تھیں۔

سیدنا امام صدیق اکبرؓ کا ایک لقب ”عتیق“بھی ہے۔سیدہ عاٸشہؓ سے پوچھا گیا کہ آپؓ کو عتیق(آزاد) کیوں کہتے تھے؟تو سیدہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ یہ آگ سے (دوزخ) سے اللہ سے آزاد کیے ہوۓ ہیں۔

ابی سریحہ سے مروی ہے کہ میں نے علیؓ کو منبر پر کہتے سنا ہے کہ خبردار ابوبکرؓ دردمند و رحم دل اور قلب کو خدا کی طرف پھیرنے والے تھے،خبردار عمرؓ نے اللہ سے اخلاص کیا تو اللہ نے بھی ان سے خالص محبت کی۔
جید صحابہؓ و صحابیاتؓ سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا،جس نے سب سے پہلے نماز پڑھی،جس نے سب سے پہلے نبیﷺ کو بغیر معجزہ دیکھے ایمان قبول کیا وہ ذات صدیق اکبرؓ کی ہے۔

ہجرت کی رات بھی رسالت مآبﷺ نے بستر نبوتﷺ پہ امام علیؓ کو سلایا اور خود امام ابوبکرؓ کو لیکر مدینہ روانہ ہوۓ۔یوں امام صدیق اکبرؓ کو تنہا رسالت مآبﷺ کی رفاقت نصیب ہوٸی۔اور تین دن تین رات غار ثورمیں امام ابوبکرؓ آقاﷺ کی زیارت کرتے رہے۔اسی لیے سیدنا عمرؓ نے فرمایا تھا ابوبکرؓ میں عمرؓ کی عمر بھر کی نیکیاں لے لے بس ہجرت کی ایک رات کی نیکی دے دے۔غار کے دہانے پہ جب دشمن اسلام پہنچے تو سیدنا امام ابوبکرؓکر آپﷺکی فکر ہونے لگی تو رسالت مآبﷺ نے فرمایا تھا ابوبکر غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اسی واقع کو سیدنا حسان بن ثابتؓ نے شاعری میں نقل کیا کہ
وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد
طاف العدوبہ اذصعد الجبلا
وکان حب رسول اللہ قد علموا
من البریتہ لم یعدل بہ رجلا

ترجمہ:-(وہ صدیق غار میں دو میں دوسرے تھے۔حالانکہ وہ جب غار میں اترے تو دشمن ان کے اردگرد پھرتے رہے۔مگر ان کو نہ دیکھ سکے۔وہ رسول اللہﷺ کے ایسے محب تھے کہ سب لوگ جانتے تھے کہ مخلوق میں کوٸی شخص ان کے برابر نہیں)

”رسالت مآبﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا“

ابی موسیٰ سے مروی ہے کہ جب رسالت مآبﷺ بیمار ہوۓ تو فرمایا ابوبکرؓ کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ۔عاٸشہؓ نے فرمایا یا رسول اللہﷺ،ابوبکرؓ نرم دل ہیں،وہ جب آپﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو اپنی رقت قلب کی وجہ سے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں۔آپﷺنے فرمایا ابوبکرؓ کو ہی حکم دو کہ نماز پڑھاۓ۔

رسالت مآبﷺکی وفات اقدس کے بعد آپؓ منصب خلافت پہ آۓ۔اور احسن طریقے سے منصب کے فراٸض انجام دیے۔خلافت سنبھالتے ہی آپؓ نے ایک عظیم خطبہ دیا۔جو کہ آج کے حکمرانوں کیلیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

سیدنا امام علیؓ نے آپؓ کو اپنا امام مانا اور علی الاعلان بیعت کی اور فرمایا جس سے رسول اللہﷺ اپنے دین کیلیے راضی ہو گٸے ہمنے انہیں ہی آگے کر دیا۔
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ابوبکرؓ سے کہا ”اے خلیفتہ اللہ“ تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اللہ کا خلیفہ نہیں رسول اللہ کا خلیفہ ہوں، اور میں اسی میں خوش ہوں۔

سیدنا امام ابوبکرؓ سیدہ عاٸشہؓ سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔سیدہ عاٸشہؓ جب اپنے مایکے آتی تو آپؓ سیدہ عاٸشہؓ کا ماتھا چومتے اور پرتپاک استقبال کیا کرتے۔آخری وقت میں سیدنا ابوبکرؓ نے سیدہ عاٸشہؓ سے کافی دیر بات کرتے رہے۔

آپؓ کے درو خلافت میں بڑے بڑے کذاب اٹھے فتنے اٹھے مگر صدیق اکبرؓ نے ان سے اعلان جنگ کیا۔اور دین اسلام کا علم 11لاکھ مربع میل پہ لہرایا۔

مگر اسلام کیلیے 22جمادی الثانی کا سورج اچھا شگون ثابت نہ ہوا۔کیونکہ اس دن اسلام کا یہ عظیم ہیرو،اسلام کا یہ بے مثل محسن،امام عمرؓ و امام علیؓ و امام معاویہؓ جیسے عظیم ہیروز کا یہ امام اس دنیا فانی سے رخصت کر کے رسالت مآبﷺ کی عظیم جماعت کو چھوڑ کے اپنے محبوبﷺ کے پہلو میں جا سویا۔آج بھی یہ یار اپنے محبوبﷺ کے پہلو میں آرام کر رہے ہیں۔

واہ صدیقؓ آپکی قسمت پہ رشک آتا ہے کہ زندگی میں بھی ہر دکھ سکھ میں اپنے محبوبﷺ کیساتھ رہے اور دنیا سے رخصت ہوکر بھی اپنے محبوبﷺ کے پہلو میں آرام فرما رہے۔یہ ہے حقیقت میں محبت جسے دنیاۓ اسلام ہمیشہ یاد رکھے گی۔اور اسلام کابچہ بچہ امام صدیقؓ کا غلام بن کر دین اسلام کی خدمت کرتا رہے گا۔

میرے ماں باپ قربان آپ پہ امام صدیق اکبرؓ۔الحمداللہ مجھے فخر ہے کہ میں امام صدیق ؓ کو ماننے والا اوران سے محبت کرنے والا ہوں۔میں مر تو سکتا ہوں مگر میرے دل سے محبت صدیقؓ ختم نہیں ہو سکتی۔انشا ٕ اللہ

اللہ پاک ہمیں امام صدیق اکبرؓکا سچا عاشق اور ان کا احترام کرنے والا بناۓ۔آمین

فدا کا یا ابی و امی امام ابی بکر الصدیقؓ
سلام امام ابوبکر صدیقؓ
اسلام زندہ باد