تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈسکہ ۔۔۔ڈاکٹر حضرات کے من مرضیاں ۔۔۔مریض ذلیل خوار ۔۔۔عوام کا اصلاح کا مطالبہ

0
249

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈسکہ ۔۔۔ڈاکٹر حضرات کے من مرضیاں ۔۔۔مریض ذلیل خوار ۔۔۔عوام کا اصلاح کا مطالبہ
ڈسکہ (سلطان نیوز)ڈاکٹر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں غفلت کا شکار کروڑوں روپوں سے بنایا گیا سول ہسپتال جسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر لیول کا کہا جاتا ہے عوامی خدمت کے حوالے سے دعوے بالکل غلط ثابت ہورے ہیں ۔۔ انتظامیہ کے مطابق سب کچھ اچھا ہے مگر آئے روز کسی نہ کسی (مسیحا ) ڈاکٹر کی مریضوں کے ساتھ بد اخلاقی نارواسلوک اور زیادتی کے حوالے سے اعلی احکام کو درخواست دائر ہونا معمول بن چکا ہے ڈی سی سیالکوٹ اور محمکہ صحت کے آفیسر کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔۔۔ دوسری طرف ایم ایس سول ہسپتال ڈسکہ کا کہنا ہے سول ہسپتال ڈسکہ میں میڈیکل کا ہر شعبہ موجود ہے ڈاکٹر موجود ہے اور میڈیسن بھی موجود ہے ہسپتال سے 98 فیصد میڈیسن موجود ہے۔۔۔کہیں حد تک وہ درست بھی فرماتے ہیں مگر خیانت ہے تو عملہ کی جو مریضوں کو تمام سہولیات کے باوجود مہیا نہیں کرتے۔۔۔۔۔ تفصیلات کے مطابق
مریض مایوس و ناامید کیوں ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر سول ہسپتال ڈسکہ میں تعینات ڈاکٹرز جنہیں ہم اپنا مسیحا سمجھتے ہیں عوام الناس (مریضوں ) کے لئے جلاد بنے ہوئے ہیں ۔ ہسپتال میں آنے والوں مریضوں سے ناروا سلوک دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ مریض صبح سویرے جلدی واری حاصل کرنے کے لئے تاکہ جلدی واری آجائے گھنٹوں لائن میں کھڑا ہو کر پرچی حاصل کرنے کے انتظار میں رہتا ہے اللہ اللہ کر پرچی حاصل ہوتی ہے مگر اسکے بھی کئی مرحلے اور مشکلات برداشت کرتا ہے خیر جو بیماری بتاتا ہے اسے اس شعبہ کے ڈاکٹرز حضرات کے آفس روانہ کردیا جاتا ہے ۔ مریضوں کو منظم طریقہ کار سے بغیر ہی جمع غفیر میں دھکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں بھوڑی خواتین اور عمررسیدہ مرد حضرات کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مریض کی باری آنے پر ڈاکٹر بغیر چیک کئے کئی افراد سے پوچھے بغیر چانچنے تشخیص کئے بغیر پرچی دیکھ کر ہسپتال میں چند ایک میڈیسن ہر مریض کو تجویز کردیتا ہے مریض کو چیک اپ کرنا مریض کو ہاتھ لگانا یہ سمجھتا ہے شاید مریض اچھوت کی بیماری میں مبتلا ہو کھڑے کھڑے ہی سب تشخیص جیسے اوپر ذکر کیا اپنا فرض سمجھتا یے اور کچھ میڈیسن ہسپتال سے اور باقی میڈیسن باہر مخوص میڈیکل سٹور میں رکھی گئی لکھ دیتا ہے ۔۔۔ بازار سے لینے والی ادویات ہر میڈکل سٹور والا پڑھنے سے قاصر ہوتا ہے۔۔۔ہر میڈیکل سٹور سے نہیں ملتی اور نہ دیگر کوئی میڈیکل سٹور مالکان کے پاس مخصوص کمپنی کی میڈیسن ہوتی ہے جسے پڑھ سکے ۔۔۔ کیونکہ وہاں سے ڈاکٹرز حضرات منتھلی وصول کرتے ہیں۔ مریض کی نوعیت دیکھ کر ڈاکٹر اشارتا مریض کو پرائیویٹ کلینک کے لئے دعوت دینے کا اشارہ دے دیتا ہے ۔۔۔۔ موصوف کو علم ہونا چاہیے مگر بے حسی کا عالم اگر مریض استطاعت رکھتا ہوتا تو وہ سول ہسپتال کا رخ ہی کیوں کرتا۔ اوپر ذکر کر چکا کہ سول ہسپتال ڈسکہ میں رکھے چیک اپ کے دوران ٹول پر بیٹھ کر مریض کو چیک کرنا مریضوں کو ہاتھ لگانا ڈاکٹرز ایسے سمجھتے ہیں جیسے کوئی سامنے اچھوت ہو وہی مریض پرائیویٹ کلینک پر معزز قرار دئے جاتے ہیں ۔ سول ہسپتال ماسوائے کروڑوں کی لاگت سے بنا صرف دیکھنے اور چاٹنے کے کام آسکتا ہے اکثرواقات مریض اپنی مرض تکلیف بتانے کی جسارت کرنے کی کوشش کرے تو ڈاکٹرز مریضوں سے بدتمیزی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کی واضح مثال کئی ڈاکٹرز حضرات ہے آئے روز ڈاکٹروں کے خلاف ایم ایس اور دیگر آفسران پڑی ہوئی ہیں جس پر ضلعی انتظامیہ نیند خرگوش کا مظاہرہ کئے ہوئے ہیں۔۔۔ سرجری کی تو سودے بازی انتہا پر ہے اس کے علاوہ ہسپتال کے باقی شعبہ جات میں کوئی منفرد صورت حال نہیں خاص طور پر ایمرجنسی میں بھی ایسی ہی صورت دیکھنے کو آتی ہے غربت کے پسے لوگ بیماری کی حالت میں ہی سول ہسپتال کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ اپنے علاج و معالجہ پرائیویٹ کلینک میں علاج کروائے یا اہل و عیال والوں کی کفالت کرے۔ غریب کا سول ہسپتال ڈسکہ ہو یا کوئی اور پرشان ہے۔ مقامی انتظامیہ بے رحمی بے حسی کا ثبوت پیش کررہی بلکہ بے بس دکھائی دیتی ہے اعلی احکام سے اپیل ہے کہ عوام الناس کی فلاح بہبود اور انکی حق تلفی پر فوری نوٹس لیں اور ڈاکٹرز حضرات کو حکم جاری کریں ہسپتال میں تعینات اسکا کسی بھی شعبہ سے تعلق ہو کوئی بھی ڈاکٹر 25کلو میٹر کے اندر جس ہسپتال میں تعینات ہے پرائیوٹ کلینک یا ہسپتال نہیں بنا سکتا ۔رپورٹ
رانا عاشق علی بیوروچیف ڈسکہ سیالکوٹ