عالمی یومِ انصاف و عدالت اور سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان(نئی دنیا ) محمد زبیر امینی شکر گڑھ

0
133

عالمی یومِ انصاف و عدالت اور سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان
۔۔ (نئی دنیا)محمد زبیر امینی …. شکر گڑھ

عدل و انصاف کی جو تاریخ پیغمبر اسلام ﷺ نے رقم فرمائی تھی اور عدل و انصاف کا جیسا نظام دین اسلام میں موجود ہے روئے زمین میں بسنے والے تمام ذی روح و ذی شعور نفوس کے لئیے مشعل راہ اور قابل تقلید ہے،عدل و انصاف کے پیغامبر ﷺ نے جرم کی سزا معافی کی سفارش پر جو جملہ ارشاد فرمایا وہ رہتی دنیا تک بطور مثل و دلیل ہمیشہ پیش کیا جاتا رہے گا۔فرمایا:اگر میری بیٹی فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا بھی چوری کرتیں تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتاـ عدل و انصاف کا یہ پیمانہ عالم انسانیت میں قیام انصاف کے لئیے بنیادی اینٹ کی حثیت رکھتا ہے،20 فروری کا دن عالمی یومِ انصاف کے طور پر منایا جاتا ہے مگر،عالمی طاقتیں اور خاص طور پر اقوم متحدہ و عالمی عدالت انصاف دنیا میں میرٹ پر فیصلے کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔خاص طور پر جب جب بھی عالم اسلام کا کوئی کیس عالمی طاقتوں کے سامنے پیش ہوا اسے یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک عالم اسلام کی قیادت اقوام متحدہ کے بجائے اقوام مسلم جیسا پلیٹ فارم قائم نہیں کرتی یا پھر اس معاملے پر اقوام متحدہ سے سنجیدگی سے بات نہیں کرے گی۔عالم اسلام نے اور خاص طور پر مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے قوانین کی پاسداری کی ہے مگر،مسلم امہ اور پاکستان سے متعلق خصوصا اقوام متحدہ نے دوہرا معیار اختیار کیئے رکھا ہے۔مسئلہ کشمیر و فلسطین کے معاملے میں اقوم متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا،اگر اقوام متحدہ اپنی قراردادوں اور فیصلوں پر عمل درآمد کروانے میں بے بس ہے تو پھر اس ادارے کے وجود کی بقاء پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔اس وقت جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کامیاب دورہِ پاکستان کے بعد جاچکے ہیں۔ملک میں اس پر گرما گرم تبصروں اور تجزیوں کا بازار گرم ہے۔اپوزیشن اپنے روایتی انداز میں سعودی ولی عہد کے اس کامیاب دورہ پاکستان پر موجودہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو عشائیے میں مدعو نا کرنے اور مختلف معاملات پر تنقید برائے تنقید کررہی ہے جبکہ دانشوروں اور عوامی طبقہ کی طرف سے اس کامیاب دورہ پر عمران خان اور موجودہ حکومت کو خوب داد دی جارہی ہے۔اگرچہ ہمارا یہ خیال ہے کہ اپوزیشن کو عشائیے میں مدعو کیا جاتا تو یہ بھی کپتان حکومت کی طرف سے بڑے پن اور سنجیدہ سیاست کا مظاھرہ سمجھا جاتا مگر،حکومتی وزرا کی طرف سے اپوزیشن کو مدعو نہ کئے جانے پر دلائل دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اکیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے سات مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی ہوئے جو کہ مستقبل قریب میں قوی امید ہے کہ پاکستانی معیشت کے لئیے بہت اہم و مفید ثابت ہونگے۔کپتان حکومت کی طرف سے سعودی ولی عہد کا فقیدالمثال استقبال اور وزیراعظم کی طرف سے ولی عہد کے لئیے گاڑی کو خود ڈرائیو کرنا بھی عالمی و عوامی سطح پر بے حد پذیرائی و مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔سعودی ولی عہد سے سعودیہ میں مقیم پاکستانی مزدوروں اور قیدیوں کے بارے میں ملک کے وزیراعظم کے جذبات و الفاظ نے بہت سے لوگوں کو جذباتی ہونے پر مجبور کردیا،جب وزیراعظم نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میرے ملک کے مزدور جو سعودیہ میں موجود ہیں ان کا خاص خیال رکھنا کیونکہ وہ میرے دل کے بہت قریب ہیں اور وہاں معمولی جرائم کی وجہ سے قید پاکستانیوں کو رہا کیا جائے تو یقینا وہاں موجود لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔اس پر سعودی ولی عہد کی طرف سے 2107 پاکستانیوں کی فوری رہائی کے حکم پر ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ سعودی ولی عہد کے بیان نے جس میں انہوں نے فرمایا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھا جائے پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔دوسری طرف عین اس وقت جب سعودی ولی عہد کے کامیاب دورے پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی عالمی عدالت انصاف میں سماعت جاری ہے۔بھارتی و پاکستانی دلائل اور جواب الجواب کے بعد 21 فروری کو اس کیس کا فیصلہ محفوظ کئیے جانے کا امکان ہے اور ماہرین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ چھے سے سات ماہ تک آنے کی امید ظاھر کی جارہی ہے۔پاکستان کا کیس انتہائی مضبوظ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہے،یہی وجہ ہے کہ بھارت جو کہ خود اس کیس کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا ہے،پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور قانونی نکات کا جواب دینے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔امید کرتے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف واقعی انصاف کرے گی مگر،اپنے فیصلے پر عمل درآمد بھی کرواسکے گی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کیونکہ کشمیر کا ایشو بھی بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا جس پر اقوام متحدہ نے استصواب راۓ کروانے کی قراردادیں منظور کی تھیں جس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔اقوم متحدہ کی کشمیر سے متعلق استصواب رائے کی منظور شدہ قراردادیں آج بھی اقوام متحدہ کی نااہلی اور بے بسی کی منہ بولتی ثبوت ہیں۔اسی طرح پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری بھی بھارت اور پاکستان مخالف قوتوں کو ہضم نہیں ہورہیں۔بھارت میں چونکہ انتخابات کا ماحول ہے اس لئیے پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینے اور ووٹ حاصل کرنے کے لئیے پلوامہ کا ڈراما رچایا گیا ہے،اس معاملے میں پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران کو بھی سنجیدگی کا مظاھرہ کرنا چاہیئے۔ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہونا ضروری ہے مگر،ایران بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف کلبھوشن جیسے جاسوسوں کے لئیے استعمال نا ہو۔سعودی سرمایہ کاری اور قربت کے سبب ایران سے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں مگر ،اک چھوٹے سے طبقے کو خوش رکھنے کے لئیے ریاست پاکستان کو اپنے ریاستی مفادات پر ہرگز سودے بازی نہیں کرنی چاہیئے اور پاکستانی قیادت کو اپنے دوست و دشمن کے فرق کو اب اچھی طرح سمجھ جانا چاہیئے۔