شہداے لندن بشارت حسین شہید اور حنیف حسین تحریر:خواجہ خالد حسین صارم کشمیر

0
33

شہداے لندن بشارت حسین شہید اور حنیف حسین

تحریر:خواجہ خالد حسین صارم کشمیر

ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں
دبی ہے آگ جگر کی ابھی بُجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے بر سرِ میدان پر جھُکی تو نہیں
آج سے تقریبا60 ساٹھ سال قبل کی بات ہے گرمی کا موسم تھا لوگ اپنی زندگی کے قیام گزارنے میں مصروف تھے کہ پلاک کے خوشی محمد کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پلاک ایک چھوٹا سا پسماندہ قصبہ تھا۔ اس چھوٹے سے پسماندہ قصبہ میں جنم لینے والا بچہ بشارت حسین تھا۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہی چھوٹا سا بچہ رب تعالیٰ کی طرف سے پلاک کے لئے بشارت ہے جو پلاک کے اس پسماندہ علاقے کا نام پوری دنیا میں روشن کرے گا۔ کسی شخص کے تخیل میں نہیں نہ تھا کہ جس بچے کا نام بشات رکھا گیا ہے وہ پلاک کی گمنام قصبے کا نام روشن کرے گا۔ سیکنڈ منٹ اور منٹ گھنٹے بنتے گئے گھنٹوں سے دن اور دن سے مہینے اور مہینوں سے سال بنے۔یوں وہ بچہ بچپن سے لڑکپن اور پھر لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتا ہے۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی وہ نوجوان اپنی آگے کی تعلیم کے لئے پردیس کا رختِ سفر باندھتا ہے اور اپنی تعلیم پر توجہ دینا شروع کرتا ہے۔ علم کی روشنی نے شعور کا دروازہ کھولا یوں بشارت حسین شعور کی وادی میں قدم رکھتا ہے شعور کی وادی میں قدم رکھتے ہی وطن کی مٹی سے پیار اور حب ال وطنی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جذبہ حب الوطنی ایسی چیز کا نام ہے جو انسان کو اپنی جان پر کھیل جانے کی پرواہ بھی مٹا دیتا ہے۔ جب یہ جذبہ کڑیل اور باہمت جوان بشارت حسین میں پیدا ہوا تو اُن کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہو گئی۔ یہ وہ جذبہ تھا جس نے بشارت حسین سے کھیل کود کاشوق اُس کے راتوں کی نیند اور دن کا سکون سب چھین لیا۔ وہ ہر وقت بس کشمیر اور اہل کشمیر پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے بارے میں سوچنے لگا۔ رات کو بستر پر بھی جب وطن کی محبت کا خیال آتا تو بے چین ہو جاتا جب تخیلات کی دُنیا میں قدم رکھتا تو اہلَ کشمیر پر ڈھائے جانے والے ظُلم اور بھارت کی قید میں پاکستانی فوجیوں کی تصویر ان کے سامنے گھومتی۔ جب کبھی ہندوستان کے اُن مظالم جو وہ کشمیریوں کے ساتھ کرتا جس میں کہیں کسی بہن کی عصمت دری کی جا رہی ہوتی اور کہیں کسی بہن کا سواگ لوٹا جا رہا ہوتا، کہیں مردانِ کشمیر کو پابندِ سلاسل کر کے ان پر تشدد کیا جا رہا تھا تو کہیں ماں کے سامنے اس کے جوان بیٹے کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا تھا کہیں پر نوے ہزار پاکستانی فوجیوں پر ظُلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، جہاں کسی فوجی کو اُسی کے خان میں نہ لایا جا رہا تھا تو کسی فوجی کی زُبان کاٹ دی جا چکی تھی۔
آخر ایک دن وہ آیا کہ بشارت حسین شہید کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا وہ اپنے دوستوں حنیف حسین اور دلاور خان سے کہنے لگے اے میرے دوستو میرے وطن کی مٹی مجھے پکار رہی ہے۔ ماؤں کی آہیں، بہنوں کی دہائیں اور ہمارے پاکستانی فوجیوں کا خان ہمیں آواز دے رہا ہے۔ معصوم کشمیری بچوں پر چلنے والی گولیوں سے آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ جوانوں کی جوانیاں اور پابند سلاسل فوجیوں کے جسم سے اُٹھنے والا درد ہمارے جزبہ حُب الوطنی کا امتحان چاہتے ہیں۔ میں اپنے معصوم لوگوں کے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ اگر آپ دونوں میرا ساتھ دیں تو ہم انڈین ایمبیسی پر حملہ آور ہو کر دنیا کو با آور کرائیں کہ کشمیر کا نوجوان دنیا کے ہر محاذ پر ہندوستان کے ظلم کے خلاف کھڑا ہے۔جب تینوں دوستوں نے خامی بھی تو انڈین ایمبیسی کا رُخ کیا۔ ہاتھ میں نقلی پسٹل تھے لیکن حوصلے جوان ہوں تو نقلی پسٹل بھی کافی ہوتا ہے. ایمان کی حرارت ہو تو تلواریں اور بندوقیں رکھنے والوں کا بھی مُقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے علامہ اقبال نے کیا خوب ارشاد فرمایا:
”کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ_مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی”
آخر تینوں ساتھیوں نے انڈین ایمبیسی پر حملہ کر کے انڈین سورماؤں کو گرفتار کر لیا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا وہ ان کا خان لے کر انھیں ہمیشہ کے لیے امر کر دینا چاہتی تھی۔ کچھ دیر میں برطانویں پولیس نے ان کو آہ گھیرا اور ان پر گولیاں برسانا شروع کر دیں نقلی پسٹل ہونے کے باوجود بھی انھوں نے بڑھی ہمت سے مقابلہ کیا اس مقابلے میں بشارت حسین شہید اور حنیف حسین شہید جبکہ دلاور خان شدید زخمی ہو گئے۔
بشارت حسین شہید اور محمد حنیف حسین شہید تو اس دنیا سے چلے گئے لیکن ہم لوگوں کے لیے ایک مشن چھوڑ کر وہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن ایک نظریہ چھوڑ کر وہ تو اس دنیا سے چلے گئے لیکن ہمارے لیے ایک مقصد چھوڑ کر۔
آج بحیثیت ایک کشمیری یہ لکھتے ہوئے دُکھ ہو رہا ہے کے ہم نہ صرف شہیدوں کے مشن کو بھول چکے ہیں بلکہ ہم نے اُن شہیدوں کی قربانیوں کو بھی فراموش کر دیا۔۔ ہم نیان شہیدوں کے نظریے سے اپنی اگلی نسل کو آگاہ ہی نہیں کیا یہی وہ وجہ ہے کے کشمیریوں کا خان آج بھی بہہ رہا ہے۔ہماری بہنوں کی عصمتیں سے کھیلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان آج بھی بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔جو قومیں اپنے شہیدوں کو بھول جایا کرتی ہیں پھر ان میں مزید کوئی شہید پیدا نہیں ہوا کرتا۔ ان قوموں کی بہنوں بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہو جایا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں شہداء کے نقشِ قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین