جھنگ کا صحرائے تھل۔۔۔۔۔۔مقتدر حکام کی توجہ کا منتظر تحریر:خواجہ خالد حسین صارم کشمیر

0
91

جھنگ کا صحرائے تھل۔۔۔۔۔۔مقتدر حکام کی توجہ کا منتظر۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:خواجہ خالد حسین صارم کشمیر

صحراے تھل چک دس اور گیارہ جھنگ میں آباد کشمیری بدحالی کا شکار کوی پرسان حال نہیں ۔1980 میں ہزاروں کشمیری خاندانوں کو تھل میں آباد کیا گیا لیلن سہولیات فراہم نہ ہوی آزادکشمیر اسمبلی کے حلقہ 30 ایل او ون جموں کا حصہ ہے۔ یہا ں سے سابق وزیر اعؑم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان بی منتخب ہوے۔ دس سال اہم کیو ایم کے طاہر کھو کھر ممبر اسمبلی رہے ۔موجودہ ایم ایل اے ناصر ڈار ہیں جو جو حلقے کع بھول چکے ہیں۔ یہ خطہ قحط سالی کا شکار ہے ۔زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ ماضی میں51 ارب کی لاگت سے زیر تعمیر گریٹر تھل کینال منصوبہ ٹھپ ہوگیا 12 ارب روپے مٹی میں جھونک دیئے گئے 5 ارب کی متوقع آمدنی صرف خواب ہی رہے گا اس منصوبے سے تھل صحرا میں آباد لاکھوں کشمیری خوشحال ہوتے۔ چک دس ۔گیارہ۔ سات میں 1980 میں کشمیری مہاجرین کو تھل میں آباد کیا گیا۔ زراعت کا انصار بارش پر ہے زراعت کی بدحالی سے درجنوں بستیاں اجر چکی ہیں گریٹر تھل کینال منصوبہ تھل میں اباد کشمیری قوم کے لیے خوشحالی کی نوید ہے۔ ازاد کشمیر اسمبلی میں یہ حلقہ نمبر 30 جموں 1 ہے۔ دس سال ایم کیو ایم کے طاھر کھوکھر یہاں سےممبراسمبلی رہے ہیں۔ اب ناصر حسین ڈار (پی ایم ایل این) یہاں کے ممبر اسمبلی ازادکشمیر ہیں جن سے تھل کی کشمیری قوم کی امیدیں وابسطہ ہیں۔وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور ۔مشر اعلی پنجاب فیصل حیات جبوانہ۔ پی پی 125۔اور وزیر اعؑظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اس کا نوٹس لیں اور عوام کی داد رسی کریں۔