جھنگ: ادبی و ثقافتی ورثہ کی حامل سر زمین تحریر: محمد رمضان سلطان باہو

0
158

جھنگ: ادبی و ثقافتی ورثہ کی حامل سر زمین
تحریر: محمد رمضان (سلطان باہو)

ضلع جھنگ قدیم تاریخی ورثہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ کئی مشہور صوفیاء اکرام یہاں مدفون ہیں جبکہ درجنوں علمی و ادبی شخصیات کا جنم یہیں ہوا ہے۔ 8809 مربع کلو میٹر کے رقبہ اور چار تحصیلوں جھنگ، شور کوٹ، اٹھارہ ہزاری اور احمد پور سیال پر مشتمل اس ضلع کی موجودہ آبادی لگ بھگ اٹھائیس لاکھ ہے۔شہر سے بتیس کلو میٹر جنوب میں تریموں کے مقام پر دریائے جہلم اور چناب آ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ اسی نسبت سے اسے دو دریاؤں کی دھرتی بھی کہا جاتا ہے۔تاریخی پسِ منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ علاقہ وسیع اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جھنگی، جھانگ، جہانگ اور جھنگڑ جیسے مختلف ناموں سے جانا جاتا رہا ہے جسے ساندل بار کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔تاہم اس گھنے جنگل میں شہر بسانے کا فیصلہ سیال کا تھا جنھوں نے 1282ء میں جھنگ شہر کی بنیاد رکھی۔تاریخی کتب کے مطابق سیال کو حضرت شاہ جلال نے بشارت دی تھی کہ اس علاقہ میں ان کی حکومت قائم کی ہو گی جس کے بعد انھوں نے اپنے بزرگوں خواجہ فرید گنج شکرؒ اور شیر شاہ بخاریؒ سے اجازت لی اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ یہاں آ بسے۔ آبادکاری کے بعد رائے سیال نے اپنے نام کی نسبت سے اس علاقے کا نام جھنگ سیالاں رکھ دیا جو بعد ازاں جھنگ کہلایا۔سیال قبائل نے یہاں تقریباً تین سو ساٹھ سال حکومت کی اور آخری حکمران احمد خان تھے جن کا دورِ حکومت 1812ء سے 1822ء تک محیط ہے۔بعد ازاں یہ علاقہ سکھوں اور پھر انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بنا۔ جھنگ کی زمین ایرانی تاجروں کی گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے جو تجارت کی غرض سے چین اور افغانستان کا رُخ کیا کرتے تھے۔علاقائی اہمیت کو دیکھتے ہوئے 1939ء میں انگریز سرکار نے دریائے چناب اور جہلم کے سنگم پر تریموں بیراج بنا دیا جس پر بچھائی گئی ریلوے لائن اور سڑک اس دور میں افواج کی واحد گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔تاہم اُس کے بعد آج تک اس پُل کی توسیع و مرمت کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔دریاؤں کے علاوہ اس سر زمین کی خاص بات یہاں مدفون صوفیاء کرام ہیں جن کی نسبت سے اسے صوفیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور یہاں حضرت سلطان باہو، حضرت ماجھی سلطان، حضرت بابا روڈو سلطان اور دیگر معروف صوفی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ علمی میدان میں بھی جھنگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ملکی اور عالمی سطح پر خوب نام کمایا جن میں عالمی شہرت یافتہ سائنسدان عبدالسلام کا نام سرِ فہرست ہے جنہیں بعد ازاں نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا۔مشہور لوک گلوکار منصور ملنگی، مصنف ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ، صحافی، کالم نگار و تجزیہ کار نذیر ناجی، عالمی شہرت یافتہ کرکٹ ایمپائر علیم ڈارمنہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری، جیدعالم ان کے علاوہ عبدالعلیم، میاں علی محمد، اردو کے مشہور شاعر مجید امجد اور سید جعمر طاہر بھی اسی شہر کے باسی تھے جبکہ میدان سیاست میں مخدوم فیصل صالح حیات، سیدہ عابدہ حُسین نمایاں ہیں۔تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہیر رانجھا کی داستانِ محبت نے ضلع کا نام بامِ عروج تک پہنچایا۔یہی وجہ ہے کہ اہالیان شہر اپنی تاریخ و ثقافت سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں، لُنگی اور ونگ آج بھی لباس کا حصہ ہیں جبکہ بہت سے شاعروں نے لنگی اور ونگ کو اپنے کلام کا موضوع بنایا اور گلوکاروں نے فخر سے گایا۔قابل افسوس امر یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ضلع کی ترقی و خوشحالی کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے اور اس کی پسماندہ حالت حکام کی دلچسپیوں اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔