نسلِ نُو اور قومی زبان_ (دسؔتک) عـدیل ظفیرؔ

0
111

نسلِ نُو اور قومی زبان_

(دسؔتک)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عـدیل ظفیرؔ

اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔

اردو ادب سے وابستہ افراد فرحت اللہ بیگ کے نام سے آشنا ہوں گے۔ وہ اردو ادب کا مشہور و معروف نام ہیں۔ ایک جگہ انھوں نے کہا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ مغل حکمرانوں نے ہندوستان کو کیا دیا، تو میرا جواب ہو گا۔ تاج محل، غالب، اور اُردو__!

اردو تُرکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ اردو کہاں اور کس طرح پیدا ہوئی اس کے بارے میں مختلف آراء و نظریات ہیں۔ ہندوستان کا تقریبا ہر حصہ اس بات کا دعویدار ہے کہ اُردو اس کے ہاں پلی بڑھی ہے_ اہل پنجاب، اہل دکن، اہل سندھ، غرض سب اردو کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے ہاں اُردو کے انول گڑھے ملتے ہیں۔ لیکن دکن والے اپنے دعوے میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں_

اُردو فی الوقت دنیا کی چند بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اور دنیا میں ہر جگہ اس کے بولنے والے موجود ہیں۔ اپنی لطافت اور شرینی کی بدولت یہ زبان سننے والے کے دل میں گھر کر جاتی ہے کیونکہ اس میں ہندی کی گھلاوٹ، فارسی کی نفاست، اور عربی کی فصاحت و بلاغت شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس میں سنسکرت، پشتو، ترکی، اور پُرتگالی کے الفاظ بھی موجود ہیں_

ایک طرف اردو بقاء پاکستان کے لیے بے انتہاء ضروری ہے تو دوسری طرف عربی اور فارسی کے بعد اردو میں لاتعداد دینی کتب، جس میں قرآن پاک کی تفاسیر، کتب حدیث کی شروحات، فقہی مقالہ جات، علماء کی تحریرات، شاعرانہ مجموعے، ناولز، افسانے، اور بے شمار عنوانات پر تصنیف و تالیف کا کام اردو زبان میں کیا گیا۔ جو ہمارے لیے کسی قیمتی سرمائے سے کم نہیں_

اردو ہماری قومی زبان ہے،” جو کہ آئین و دستور میں صرف نام کی حد تک موجود ہے “ باقی ہر طرف سّکہ تو انگریزی زبان کا چل رہا ہے_
وطن عزیز میں المیہ ہے کہ بچہ پہلے دن سکول جاتا ہے، پہلی کلاس سے ہی اس کو انگریزی سکھائی جاتی ہے، اور پھر ڈگری حاصل کرنے تک وہ بیچارہ انگریزی کا طوق گلے میں لٹکائے رکھتا ہے۔ اس لیے کہ عصر حاضر میں تمام کتب کو انگریزی میں تبدیل کر دیا گیا ہے_
ہمارا نظام تعلیم بھی اسی وجہ سے ناکام ہے کہ اس میں ایک زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی، بلکہ اس وقت وطن عزیز میں انگریزی، عربی، اور اردو میں تعلیم دی جاتی ہے_

ہمارے ہاں زبان کے معاملے میں کئی طبقے تقسیم ہیں، ایک طبقہ انگریزی کے حق میں ہے، جب کہ کچھ افراد علاقائی زبانوں میں نظام تعلیم کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے میں اُردو صرف نام کی حد تک رہ جاتی ہے۔ اور طالب علموں کو اردو نام کی حد تک آتی ہے کیونکہ اُردو کے دیس میں گھر سے لے کر بازار تک، سکولز، کالجز، ہسپتال، دفاتر، حتی کہ قانون سازی کرنے والے افراد بھی انگریزی کے دلدادہ نظر آتے ہیں، اردو صرف اخبارات کی حد تک نظر آتی ہے باقی ہر جگہ انگریزی اپنی سکہ جما چُکی ہے۔

ایسے معاشرے اور ماحول میں ہم نے نسل نو کو ڈال دیا ہے جہاں اچھا خاصا پڑھا لکھا فرد بھی اُردو کے الفاظ لکھتے ہوئے ہچکچاتا ہے_ ارباب اقتدار، اور اردو ادب سے وابستہ احباب سے التماس ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کریں، پاکستان کی بقاء اسی میں ہے کہ اردو زبان کو بنیادی حیثیت دی جائے، اُردو کو قومی زبان کا کھو ہوا درجہ دیں، سرکاری دفاتر، اور سکولز کی سطح پر اردو کو نافذ کریں، ورنہ ہماری آنے والی نسل اس عظیم نعمت سے محروم ہو جائے گی_