تعارف حضرت فاطمہ الزاھراء علیھا السلام شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کی نظر میں انتخاب محمد وقاص ہادی

0
170

تعارف حضرت فاطمہ الزاھراء علیھا السلام شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کی نظر میں

انتخاب محمد وقاص ہادی

(فارسی کلام اردو ترجمہ کے ساتھ)

*مریم از یک نسبت عیسی عزیز*
*از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز*

جناب مریم باعظمت ہیں کیونکہ نبی خدا کی ماں ہیں اور جناب زہرا سلام اللہ علیہا اس لئے باعظمت ہیں کیونکہ یہ رحمت اللعالمین کی بیٹی، نفس رسول کی زوجہ اور جوانان جنت کے سرداروں کی ماں ہیں۔

*نور چشم رحمت اللعالمین*
*آن امام اولین و آخرین*

آپ رحمت اللعالمین صلی الله علیه وآله وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں جو اولین و آخرین عالم کے امام و رہبر ہیں۔

*آنکہ جان در پیکر گیتی دمید*
*روزگار تازہ آئین آفرید*

وہی رحمت اللعالمین جنہوں نے کائنات کے پیکر میں روح پھونک دی اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی۔

*بانوی آن تاجدارِ ہل اتیٰ*
*مرتضی، مشکل کشاء، شیر خدا*

آپ سلام اللہ علیہا ہل اتے کے تاجدار امیر المومنین علی کرم الله وجہہ الکریم کی زوجہ مکرمہ و ملکہ معظمہ ہیں۔

*بادشاہ و کلبہ ایوان او*
*یک حسام و یک زرہ سامان او*

امیر المومنینؑ بادشاہ ہیں اور بادشاہ بھی ایسے کہ جنکا ایوان ایک جھونپڑی ہے اور انکا پورا سامان ایک شمشیر (جو رکھ لی) اور ایک زرہ (بیچ دی) ہے۔

*مادر آن مرکز پرکار عشق*
*مادر آن کاروں سالار عشق*

انکی ماں ہیں جو عشق کا مرکزی نقطہ ہیں اور انکی ماں جو کاروان عشق کے سالار ہیں۔

*آن یکے شمع شبستان حرم*
*حافظ جمعیت خیر الامم*

ان میں سے ایک شبستان (رات گزارنے کی جگہ) حرم کی شمع اور امت مسلمہ کے اجتماع و اتحاد کے محافظ ہیں۔

*تانشینند آتش پیکار و کیں*
*پشت بازد برسر تاج و نگیں*

اسلئے کہ جنگ اور دشمنی کی آگ بجھ جائے، آپ (امام حسن علیہ سلام) نے حکومت کو ٹھوکر مار دی۔

*وآن و گر مولای ابرار جہان*
*قوت بازوی احرار جہان*

اور امام حسین علیہ سلام دنیا کے نیک سیرت لوگوں کے مولا اور حریت پسندوں کی قوت بازو ہیں۔

*در نوائے زندگی سوز از حسین*
*اہل حق حریت آموز از حسین*

زندگی کی نوا میں سوز ہے تو حسینؑ سے اور اہل حق نے حریت سیکھی ہے تو حسینؑ سے۔

*سیرتِ فرزندھا از امھات*
*جوھر صدق و صفا از امھات*

فرزندوں کو سیرت و روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔ صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔

*مزرع تسلیم را حاصل بتول*
*مادران را اسوہ کامل بتول*

تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل جناب بتول ہیں اور ماؤں کے لئے نمونہ کامل جناب بتول ہیں۔

*بھر محتاجی دلش آن گونہ سوخت*
*با یہودے چادر خود را فروخت*

ایک محتاج و مسکین کی حالت پر اتنا ترس آیا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی۔

*نوری وھم آتشی فرمانبرش*
*گم رضائش در رضائش شوہراش*

ساری آتشی اور نوری مخلوق آپکی فرمانبردار ہے لیکن آپ نے اپنی رضا اپنے شوہر کی رضا میں گم کر دی۔

*آن ادب پروردہ صبر و رضا*
*آسیا گردان و لب قرآن سرا*

صبر و رضا کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستی جاتی تھیں اور لبوں پر قرآن جاری رہتا۔

*گریہ ہای او زبالین بے نیاز*
*گوہر افشاندی بہ دامان نماز*

آپکے آنسو بستر پہ نہیں گرتے تھے بلکہ یہ گوہر نماز میں ٹپکتے تھے۔

*اشک او برچید جبرئیل از زمیں*
*ھمچو شبنم ریخت بر عرش بریں*

آپکے آنسو جبریل علیہ سلام زمین سے چن کر شبنم کی صورت میں عرش بریں پر پھیلا دیتے۔

*رشتہ آئینہ حق زنجیر پاست*
*پاس فرمان جناب مصطفیٰ است*

آئین حق سے رشتہ اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے۔

*ورنہ گرد تربتش گر دید می*
*سجدہ ھا بر خاک او پاشید می*

ورنہ میں جناب سیدہ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور اس خاک پر سجدے کرتا۔

(رموز بے خودی : در معنی اینکہ سیدہ النساء فاطمہ الزہرا اسوہ کاملہ ایست بدای نساء الاسلام)

گداٸے درِ زاھراء سلام الله علیھا: *علامہ اقبال* (رح)