سو پیاز سو جوتے۔۔۔(نوک قلم)۔۔۔سید مخدوم زیدی

0
118

سو پیاز سو جوتے۔۔۔(نوک قلم)۔۔۔سید مخدوم زیدی

سو پیاز سو جوتے ! یہ کہاوت سنتے آئے تھے مگر اس کا عملی مظاہرہ ہم کچھ عرصہ سے بھوآنہ میں دیکھ رہے ہیں جن کا کام بھوآنہ کو سنوارنا تھا جن کا کام اہلیان شہر کو صاف ستھرا ماحول دینا تھا جن کی ذمہ داری تھی وہ عوام کے مفادات کا خیال رکھے وہ ہی اہلیان بھوآنہ کے لیے عذاب بن گئے بھوآنہ میں آخری مرد اے سی محمد اختر بھٹہ مرحوم تھے جو مرنجاں مرنج قسم کے درویش انسان تھے خدا غریق رحمت کرے ان کی بھی بطور اے سی پہلی تعیناتی تھی بھوآنہ میں مگر وہ شائستہ لب و لہجہ کے سلجھے ہوئے بیورو کریٹ تھے تاجران ہوں یا کوئی اور کمیونٹی سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے گراں فروشی پر دوکانداروں کو جرمانے بھی کرتے تھے مگر اس حد تک کہ کسی کے گھر کا چولہا بند نہ ہوپھر تقدیر نے کچھ ایسا سبق سکھایا لگتا ہے اہلیان بھوآنہ کے گناہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے تھے پھر یہاں خواتین اے سیز کی آمد شروع ہوئی گزشتہ اڑھائی سال سے ہم بہت کچھ بھگت رہے ہیں خصوصاً آخری دو محترمائیں (نعیم افضل اور اب محترمہ فرح دیبا ) کی آمد کے بعد اکثر گھروں میں بھوک و غربت نے ڈیرے ڈال لیے ہیں ایک ریڑھی والا اپنی ریڑھی پر کتنے پیسوں کا سامان رکھ کے شام تک بیچتا ہوگا؟ہزار یا دو ہزار کا اس کو اگر دو چار روپے زیادہ لینے پر پانچ ہزار جرمانہ کردیا جائے تو اس کا حال کیا ہوگا ؟یہ کسی غریب اور دیہاڑی دار سے پوچھا جائے تو بہتر ہے ہم اس درد کو کیا جانیں سولنگ پر اکرم بھٹہ کی فروٹ وغیرہ کی چھوٹی سی دوکان ہے الصبح نام نہاد خریداری کروائی جاتی ہے پھر محترمہ لمبی اونچی سی گاڑی میں تشریف لاتیں ہیں شیشہ تھوڑا سا نیچے کرتی ہیں اس کو دو ہزار کی پرچی تھما دیتی ہیں وہ سر پیٹتا ہے مگر اس کی شنوائی نہیں ہوتی خود سوزی کی دھمکی دیتا ہے صدر انجمن تاجران کی مدد سے اس کا جرمانہ ادا کیا جاتا ہے اب ایک دوسرا رخ دیکھتے ہیں بھوآنہ میں بھی میونسپل کمیٹی کا جنم ہوچکا ہے ہم بھی ٹاؤن کمیٹی سے میونسپل کمیٹی کے بھیانک خواب میں داخل ہوچکے ہیں بلدیاتی الیکشن ہوتے ہیں دعوے کیے جاتے ہیں ذاتی جیب سے ترقیاتی کام کروانے کی باتیں مگر ہوا کچھ بھی نہیں سی او بھوآنہ جن کا کام شہر کی صفائی ستھرائی دیکھنا ہے وہ کیا کرتے ہیں کیسے اپنی ذمہ داری کو ادا کرتے ہیں اچانک ان کو خیال آتا ہے آج جرمانہ نہیں کیا آنکھوں پر چشمہ لگاتے ہیں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہیں انجوائے کرنے کے لیے کسی بھی چھوٹے دوکاندار ریڑھی والے کے پاس جاتے ہیں دو ہزار کی پرچی تھما کر کہتے ہیں پیسے نکالو بزرگ پوچھتا ہے جناب یہ تو بتا دیں کہ کس بات کا جرمانہ کیا ہے جواب میں حقارت بھری آواز میں جواب ملتا ہے پیسے دیتے ہو یا ایف آئی آر کروادوں ؟ایف آئی آر کی بھی خوب کہی بھوآنہ کے شہری نے محترمہ اے سی کے خلاف پاکستان سیٹیزن پورٹیل میں درخواست دی شکایت درج کروائی انہوں نے وہ درخواست واپس انہی محترمہ کے نام برائے انکوائری بھیج دی نتیجہ کیا ہوا؟ساجد نامی شخص کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی ایف آئی آر درج ہوگئی اس کا مدعی کون ؟سی او بھوآنہ !یہ حالات ہیں بھوآنہ شہر کے لوگوں کے ، یہ کب کہا کہ گراں فروشی پر جرمانے نہ کریں ؟جب ایک میٹنگ میں ناچیز دو سال میں پہلی مرتبہ اے سی آفس موجودہ محترمہ فرح دیبا کو ملنے انجمن تاجران کے ساتھ گیا تو گزارش کی کہ جرمانوں کا کوئی طریقہ کار طے کرلیں جواب میں ان کا رد عمل ایسا ہی تھا جیسے کوئی گالی نکالی گئی ہو فرماتی ہیں آپ کون ہوتے ہیں مجھے طریقہ کار سمجھانے والے خیر ایسے بے شمار واقعات ہیں سوال یہ ہے کہ بھوآنہ والے اتنے بدقسمت کیوں ہیں؟رات کو ڈاکو اسلحہ کے زور پر دوکانداروں کو لوٹتے ہیں تو دن میں انتظامیہ صاف کپڑوں میں ملبوس ہو کر لوٹنے آجاتی ہے پہلے محترمہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ آتی ہیں پانچ ہزار جرمانہ کرتی ہیں تین دن بعد سی او کو خیال آتا ہے وہ پہنچ جاتے ہیں کہ تین ہزار جرمانہ دو ممکن ہے ان جرمانوں سے میونسپل کمیٹی کے عملے کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہوں لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ سی او جرمانہ کرتا ہی چیئرمین کے کہنے پر ہے اس کا میرے پاس تو کوئی ثبوت نہیں ہے کہنے والے یہ کہتے ہیں چیئرمین سی او کو مخصوص لوگوں کی دوکانوں پر جن کے ساتھ ان کا سیاسی اختلاف ہے پر بھیجتا ہے مگر یہ کوئی مصدقہ بات نہیں ہے انجمن تاجران اور بھوآنہ کے شہری سر جوڑ کے بیٹھے ہیں مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے حکومت کفر سے تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں اور یہاں تو ظلم کی سیاہ رات چھا چکی ہے شہر کے باسی اب بھی نہیں اٹھیں گے تو کب ؟ملین ڈالر کا سوال ہے ۔