سرزمین جھنگ کا سیاسی بازی گر ۔۔۔ریئس اعظم گڑھ مہاراجہ ۔خان ذوالفقار علی خان سیال ۔۔ شخصیت اور کردار کے آئینے میں ۔۔۔۔دوسری برسی کے موقع پر اہم کالم۔ ۔۔۔سلطان نیوز پر کالم نگار معروف قانون دان چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ گڑھ مہاراجہ

0
278

سرزمین جھنگ کا سیاسی بازی گر ۔۔۔ریئس اعظم گڑھ مہاراجہ ۔خان ذوالفقار علی خان سیال ۔۔ شخصیت اور کردار کے آئینے میں ۔۔۔۔دوسری برسی کے موقع پر اہم کالم۔ ۔۔۔سلطان نیوز پر

کالم نگار معروف قانون دان چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ گڑھ مہاراجہ

گڑھ مہاراجہ کے لوگو! آو اس محسن کو یاد کریں جس نےگڑھ مہاراجہ کو دیا بہت کچھ لیا کچھ نہیں جھنگ

گڑھ مہاراجہ کے لوگو! آو اس محسن کو یاد کریں جس نےگڑھمہاراجہ کو دیا بہت کچھ لیا کچھ نہیں
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم دوستو! سمجھ نہیں آتا ھم اپنے بزرگوں اور محسنوں کو کیوں بھول جاتے ھیں انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اپنے ضمیر کے مطابق آج اس شخصیت کے بارے کچھ عرض کرنا چاہتا ھوں سیاسی طور پر جس سے ھماری کبھی نہیں بنی لیکن گڑھمہاراجہ کے باسی ھونے کے ناطے میری زمہداری ھے کہ جس کسی نے گڑھمہاراجہ کے لوگوں کو کچھ دیا ھے اسے نہ بھولوں یہ میرے ضمیر کی آواز ھے ۔ یہ الگ بات ھے گڑھمہاراجہ میں آج بھی وہ لوگ اور گھرانے موجود جنہیں اس شخصیت نے گڑھمہاراجہ میں انہیں ممبر۔ اور چئرمین بنوا کر صف اول کے معزز شہر بنا دیا آج بھی گڑھمہاراجہ میں جو شخص چئرمین میونسپل کمیٹی ھے اس کے لیے انتہاھئی بیماری کی حالت میں عوام سے ووٹ مانگے اسے ممبری سے نوازا۔ جس وجہ سے آج وہ معزز چئر مین ھے لیکن افسوس آج اس شخصیت کی دوسری برسی تھی عام لوگوں کی طرح چئرمین اور میو نسیپل کمیٹی کی جانب سے کوئی پروگرام نہ کیا گیاھے ۔ اس بات کا بھی حد درجہ افسوس ھے سیال خاندان کی جانب سے بھی کوئی نمایاں پروگرام نہ ھوا ۔۔۔
دوستو! وہ شخصیت خان ذوالفقار علیخان سیال تھے جس کی آج دوسری برسی ھے گو کہ میں کبھی بھی سیاسی طور پر اس کے قریب نہ ھوا لیکن آج میرا ضمیر مطمعن ھے میں اس خان صاحب کی یاد میں کچھ کہہ تو رھا ھوں جو لوگ خان صاحب سے مستفید ھوئے خان صاحب کی وجہ سے معزز کہلائے ان کو آج اپنے محسن کے حق میں دعا مغفرت تک کرنے کا وقت نہیں ملا ان لوگوں کے ضمیر پر افسوس ھی کیا جا سکتاھے ۔
خان ذوالفقار خان صاحب انسان ھونے کے ناطے عظیم شخص تھے 60 کی دھائی میں یہ عملی سیاست میں آئے مسلم لیگ اور پھر آزاد شاہ جیونہ گروپ کرنل عابد حسین۔ میجر مبارک۔ شورکوٹ میں خان محمد عارف خان سیال کے ساتھی رھے گروپ اور پارٹی کی سیاست پر اپنی ذاتی جائیداد فروخت کرکے خرچ کرتے رھے ساری زندگی ساتھیوں پر خرچ کیا دوستوں کے معاملہ میں کبھی غریب امیر میں فرق روا نہ رکھا ۔ جسں کے دوست تھے اس کے دوست تھے جن کے خلاف تھے یا جو لوگ ان کے خلاف تھے ان سے بھی کبھی انتقام نہ لیا یہی ان کی عظمت تھی اگر کبھی علاقہ میں فلاھی کام کے لیے اراضی کی ضروت ھوئی کسی نے مانگ لی تو جواب آیا سب جائیداد آپ کی ھے جتنی درکار ھے لے لو جہاں کہیں میری زمین ھے کسی کے کام آتی ھے تو حاضر ھے میں خان صاحب کا سیاسی ساتھی نہ تھا ایک دفعہ میرے کسی عزیز نے جو محکمہ تعلیم بلڈنگ کا آفیسر تھا نے کہا گڑھمہاراجہ میں ایک سکول ھے اگر آپ ایک بیگھہ جگہ کسی سے لے دیں تو بلذنگ میں منظور کر دونگا۔ میں نے خان صاحب سے رابطہ کیا۔ بلا کسی عزر کے انہوں نے کہا کونسی جگہ سکول مناسب رھئے گا میرے کہنے پر اپنی کوٹھی کے سامنے دربار سلطان باھو روڈ پر جگہ دے دی وھاں آج گرلز سکول غلام حسین والا کے نام سے چل رھا ھے۔ دوستو! 1982ء میں گڑھمہاراجہ فرقہ دارانہ فساد کی وجہ بازار جل گئے ھم لوگ خان صاحب کو ملے ایک کمیٹی بنی خان صاحب کی قیادت میں علاقہ بھر کے صاحب حثیت لوگوں کو ملے کافی فنڈ اکٹھا کیا اور اپنے کسی عزیز سے کافی رقم دلوائی اور خود بھی دی تو شہر کی جملہ دکانیں جو کچی تھیں پختہ تعمیر ھو گیں آج جو شہر مین بازار پختہ دکھائی نظر آتا ھے خان صاحب ھی کے مرھون منت ھے ۔ خان صاحب سیاسی طور پر دیانت داری کی مثال تھے 1985 ء میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے اس وقت درجہ چہارم کی نوکریوں کا کوٹہ ملتا تھا قسم کھا سکتے ھیں کبھی کوئی نوکری نہیں بیچی ان کے دور کے انتہاہی غریب لوگ آج بھی کافی تعداد میں موجود ھیں ۔ خان صاحب سیاست میں اتنے گروپ کے وفادار ھوتے تھے آج بھی لوگ ایک مثال دیتے ھیں ایوب خان صدر پاکستان کے مقابلہ میں جب محترمہ فاطمہ جناح نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو جھنگ میں کرنل عابد حسین ۔ میجر مبارک۔ خان عارف خان ۔خان ذوالفقار خان صاحب اور ان کے ساتھیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کا اعلان کیا کہتے ھیں اس وقت کے spجھنگ نے ان لوگوں کو بلا کر کہا حکومت کا حکم ھے ھم نے ایوب خان کو صدر بنوانا ھے کہتے ھیں خانصاحب نے sp صاحب کو کہا ھمارا ارادہ محترمہ فاطمہ جناح کو جھنگ ضلع سے جتوانا ھے spنے کہا اس کا نتیجہ جیل ھوگی کہتے ھیں خان صاحب نے کہا میں جیل کے ڈر سے قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن کا سا تھ نہیں چھوڑ سکتا کہتے ھیں الیکشن والے دن خان صاحب محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لا لٹین گلے میں ڈال کر محترمہ کے ایجنٹ بنے رھے ۔ کہتے ھیں 1985ء میں نواز شر یف نے خوشگوار موڈ میں کہا خان صاحب کو کہا خان صاحب آپ نواب آدمی ھیں آپ کی کار نوابوں والی نہیں کہتے ھیں خان صاحب نے نواز شریف کو کہا جناب ھم لوگوں کی خدمت کی وجہ سے نواب کہلاتے ھیں کاروں کی وجہ سے نہیں اگر آپ کہیں تو جناب کو دنیا کی قیمتی ترین کار لے کر دے سکتا ھوں
دوستو! کیا عظیم شخص تھا جس کو ھم بھول گئے صدیوں کے بعد کوئی نہ کوئی فرد آتا ھے جو یادیں چھوڑ جاتا ھے خان ذوالفقار علیخان سیال ان افراد میں سے ایک ھیں خدا اسے جنت میں اعلی مقام سے نوازے۔اور اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔

اب جس کے جی میں آئے پائے وہ روشنی۔۔۔
ھم نے دیا جلا کر سرے عام رکھ دیا۔۔۔۔۔۔
واسلام