خود اعتمادی (بے لوث) کالم نگار امجد علی ڈھول

0
142

خود اعتمادی

بے لوث

کالم نگار امجد علی ڈھول احمدپورسیال

ان سب کے نام جو کہیں کسی کونے میں اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہیں تاکہ اپنے آنسو چھپا سکیں !

خود کو کسی اور کی آنکھوں سے دیکھنے کا آرزو مند مت بناؤ ۔۔۔ اٹھو ! اور آئینے میں دیکھو ۔۔۔ تم بے حد مکمل اور خوبصورت ہو ۔۔۔۔ !! بغیر کسی اور سے ستائش کا میڈل وصول کئے !

گر تم ہر وقت اس انتظار میں ہو کہ وقت آئے گا اور سب کچھ ہو جائے گا ۔۔۔ اور اسی انتظار میں تم مزید خود ترسی کا شکار ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔ تو دیکھو ! تم لوگوں کو اور حالات کو خود پہ مکمل حاوی کر رہے ہو ۔۔۔ وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا ۔۔۔ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا سیکھو !

لوگوں سے محبت ‘ پرواہ اور توجہ کی طلب تمہیں مزید بھوکا اور محروم کرتی جائے گی ۔۔۔۔ لوگوں میں محبت بانٹنا سیکھو ۔۔۔۔ اسے بڑھاتے جاؤ ۔۔۔۔ کبھی مانگنا نہیں پڑے گی !

سیکھو ! یہ کہ کب کب پرواہ کرنی ہے ۔۔۔ اور کب کب نہیں کرنی ۔۔۔۔ لوگ تمہیں تکلیف دیں تو انھیں بتاؤ ۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی تمہیں تکلیف دیں ۔۔۔ تو ان سے کنارہ بہتر ہے ۔۔۔ بغیر کسی شکوے اور نفرت کے ۔۔۔ انسانوں کو انسان ہونے کا مارجن دو ۔۔۔ !!

زندگی بے حد مختصر ہے ۔۔۔ اسے روتے ہوۓ مت گزارو ۔۔۔

تمہاری ماں نے تمھارے لئے بہت سے خواب دیکھے ۔۔۔ بہت عرصہ اس نے بہت تکالیف اٹھا کے تمہیں پالا ۔۔۔ اس لئے نہیں کہ تم کسی سے لی جانے والی تکلیف کا بدلہ اس پہ چیخ چلا کے نکالو ۔۔۔۔ محبتوں کو محبت دینا سیکھو ۔۔۔۔ !!

تم ہمیشہ ہر چیز میں مکمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ خیر ہے ۔۔۔ نامکمل ہونا بھی خوبصورت ہے ۔۔۔ لوگوں سے ہر چیز کے لیے خیر کی امید رکهنا چهوڑو اور خود پہ ترس کھانا بند کر دو ۔۔۔۔ !!

کوئی بھی تمہیں زندگی کے معنی نہیں بتائے گا ۔۔۔۔ یہ تم ہو جو اپنا سفر خود طے کرو گے ۔۔۔۔ خوش اور زندہ دل لوگ اپنی زندگی کے معنی خود بناتے ہیں ۔۔۔ اور لوگ ان سے زندہ رہنا سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ !!

زندہ رہو ! ہمیشہ مسکراو
تحریر:امجد علی خان ڈھول سینیر نائب ضلعی صدر نیشنل یونین آف جرنلٹس جھنگ