جھنگ کس کا ہے۔ تحریر بلال حمزہ کھوکھر جھنگ

0
554

جھنگ کس کا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر بلال حمزہ کھوکھر جھنگ

کافی دنوں سے فیس بک پہ بحث چل رہی ہے کوئ کہتا ہے جھنگ فلاح کا ہے کوئ کہتا ہے جھنگ فلاح کا ہے۔
تو سنیں میں بتاتا ہوں جھنگ دراصل ہے کس کا۔۔۔۔
دیوبندیوں کے نزدیک جھنگ حق نواز جھنگوی کا ہے۔
بریلویوں کے نزدیک جھنگ ڈاکٹر طاہر القادری کا ہے۔
اہل حدیثوں کے نزدیک جھنگ عبدالعلیم یزدانی کا ہے۔
اہل تشیعوں کے نزدیک جھنگ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور امریک میں سابقہ پاکستانی سفیر عابدہ حسین صاحبہ کا ہے۔
تصوف و طریقت سے محبت رکھنے والوں کے نزدیک جھنگ حضرت مرشد سلطان باہو ؒ اور حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کا ہے۔
سائنسدانوں کے نزدیک جھنگ نوبل پرائز یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کا ہے۔
کرکٹ سے محبت کرنے والوں کے نزدیک جھنگ انٹرنیشنل ایمپائر علیم ڈار کا ہے۔
عاشقوں کے نزدیک جھنگ مائ ہیر اور سوہنی ماہیوال کچے گھڑے والی کا ہے۔
موسیقی سے محبت رکھنے والوں کے نزدیک جھنگ منصور ملنگی کا ہے طالب حسین درد کا ہے۔
مارشل آرٹس سے محبت رکھنے والوں کے نزدیک جھنگ فرحت عباس شاہ کا ہے جو مارشل آرٹس کے مشہور سٹائل نینجا کو ایران سے سیکھ کر پاکستان لائے ۔
ڈاکٹروں کے نزدیک جھنگ پاکستان کے ہارٹ کے سب بڑے اسپیشلسٹ ڈاکٹر شہر یار کا ہے۔
ادب سے محبت رکھنے والوں کے نزدیک جھنگ عالمی ریکارڈ یافتہ ناول نگار ، دنیا کے تیز ترین رائٹر اور سسپنس کے بادشاہ جناب اشتیاق احمدؒ کا ہے
شاعری سے محبت کرنے والوں کے نزدیک جھنگ مجید امجد کا ہے۔
جھنگ تو عمران رضا کا بھی ہےجس نے دہشت گردی کے خلاف عالمی شہرت یافتہ ترانے لکھے۔۔مثلا۔۔۔ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے، ہمارہ ہے یہی مقصد ہمیں آگے ہی جانا ہے اور شکریہ پاکستان۔۔۔۔۔
واہ میرے سوہنے جھنگ واہ !! تیری مٹی نے ہر مسلک و شعبے میں ایسے ایسے نایاب ہیرے پیدا کر دیئے جھنگ کی عوام کنفیوز ہوکر رہ گئ انکےلیے فیصلہ کرنا ہی مشکل ہو گیا کہ جھنگ دراصل ہے کسس کا۔۔۔۔۔

بلال حمزہ کھوکھر۔۔۔۔