گناہ كا آغاز كہاں سے ہوتا ہے تحریر حکیم اعجاز حسین گڑھ مہاراجہ

0
223

گناہ كا آغاز كہاں سے ہوتا ہے

تحریر حکیم اعجاز حسین گڑھ مہاراجہ

🔻حديث :
*فَإِنَّهُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى- إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا ما رَحِمَ رَبِّي وَ إِنَّ أَوَّلَ الْمَعَاصِي تَصْدِيقُ النَّفْسِ وَ الرُّكُونُ إِلَى الْهَوَى‏ ۔*

🔹ترجمہ :
پس اللہ تبارك و تعالى فرماتا ہے :
بے شك نفس تو برائى پر اكساتا ہے سوائے اس كے كہ ميرا ربّ رحم كرے ۔ (يوسف : ۵۳)
اور نافرمانيوں ميں پہلى نافرمانى نفس كا (گناہ كى ) تصديق كرنا ہے اور ہوائے نفس كى طرف جھكاؤ پيدا كرنا ہے۔

🔸حوالہ :
دعائم الإسلام ، ج ۲ ، ص ۳۵۲ ، فصل ۱ ، حديث ۱۲۹۷۔

📚 لمحہ غور و فكر :
🔻نفس امارہ انسان كو برائى پر ابھارتا ہے اور اسے خواہشات نفسانى كى اتباع كا حكم ديتا ہے ۔ جو شخص نفس امارہ كى باتوں پر لبيك كہتا ہے وہى گناہوں كى واديوں ميں گر جاتا ہے ۔

🔻نفس امارہ انسان كے ہاتھ پكڑ كر گناہ پر نہيں چلاتا بلكہ نفس امارہ گناہ كو بہت خوبصورت اور جاذب صورت ميں پيش كرتا ہے ۔ يہى وسوسے انسان كے نفس ميں جب آتے ہيں تو انسان كو جہاد كرنے كى ضرورت پيش آتى ہے ۔ اگر انسان نفس امارہ كے وسوسوں اور باتوں كى تصديق كر دے اور اسے خوبصورت اور جاذب تسليم كر لے تو يہاں سے گناہوں كى طرف پہلا قدم اٹھتا ہے ۔

🔻گناہوں كى تصديق اور اسے انجام دينے كا سوچںا انسان كو آہستہ آہستہ عمل كر طرف لے جاتا ہے ۔ پس تصديق كے بعد سب سے پہلا عملى اثر تب نماياں ہوتا ہے جب انسان گناہوں كى طرف ميلان اور رغبت پيدا كرے ۔ اگر رغبت پيدا ہو جائے اور اس مقام پر بھى جہاد نہ كيا جائے تو يہ رغبت بڑے سے بڑے قوى انسان كو بھى نفس امارہ كے قدموں ميں گرا دے گى جو انسان كو پكڑ كر ذليل و خوار كر ديتى ہے ۔

🔹ايسے مورد ميں حل يہ ہے كہ وسوسے جب پيدا ہوں تو فورا ان كا دروازہ بند كرنے كى كوشش كرے اور ان وسوسوں اور نفس كى باتوں كى طرف توجہ نہ دے ۔ اگر توجہ چلى گئى تو دوسرا مرحلہ آ جائے گا كہ نفس اس كى تصديق كرے گا اور جيسا نفس كہے گا اس كى ماننے لگ جائے ، مثلا نفس كہے گا كہ اس ميں لذت ہے تو انسان بھى تصديق كرے گا كہ اس ميں لذت ہے ۔ يہ مرحلہ شديد ترين طريقے سے جہاد كرنے كا ہے ، اس ليے يہاں سخت جہاد كيا جائے تاكہ ميلان جنم نہ لے ۔ اگر يہاں بھى سستى كى تو رغبت اور ميلان جنم لے گا اور يہ رغبت ارادہ كو وجود دے گى جس كا نتيجہ اگلے مرحلے كا سخت ترين جہاد قرار پائے گا كيونكہ اس سے پہلے دشمنِ نفس سے شكست كھا چكا ہے اس ليے يہاں استقامت اور ثابت قدمى كى اشد ضرورت ہے ۔ اگر يہاں بھى شكست كھا جائے تو پھر قوى سے قوى انسان اور بڑے بڑے ڈيل ڈول ركھنے والا شخص بھى زير ہو جائے اور گناہ كو انجام دے بيٹھے گا ۔

🔹وسوسے كا خاتمہ انسان كے بس ميں نہيں ہے سوائے اس كے كہ اس قدر الہى مجاہدت كرے كہ اس وسوسے كے مركز پر تسلط حاصل كر لے ۔ ہم جيسے عام انسانوں كے ليے يہ ممكن نہيں ہے كہ وسوسے نہ اٹھيں ، البتہ بقيہ مراحل كاملًا ہمارى دسترس ميں ہيں ۔ اس ليے وسوسے اٹھتے رہيں گے ليكن انسان كو چاہيے كہ وہ نہ ان وسوسوں كى تصديق كرے اور ان كى طرف ميلان پيدا كرے ۔ اگر ان مقامات پر جہاد نہ كيا جائے تو انسان گناہ كا شكار ہو جاتا ہے ۔

🔹اسلام نے ان مقامات اور ان حالات ميں رہنے سے منع كيا ہے جو انسان كو وسوسوں يا گںاہوں كى انجام دہى پر سوچنے كى طرف لے جائيں ۔ پس ايسى محافل اور ايسى تنہائى سے اجتناب كرنا چاہيے جہاں صرف اور صرف گناہ آباد ہوں ، فحش گوئى ، بيہودہ گفتگو ، تنہائى ميں سوچوں كا ہجوم اور ايسى چيزوں كى طرف لپكنا جو گناہوں كا سبب بنے سے سخت گريز اور اجتناب كرنا چاہيے ۔
*•┈┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈┈•*