طالبان کو مذاکرات کی میزتک لانے کی ذمہ داری پوری کردی، ترجمان پاک فوج

0
135

طالبان کو مذاکرات کی میزتک لانے کی ذمہ داری پوری کردی، ترجمان پاک فوج

لندن:( تازہ ترین سلطان نیوز) ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور امریکا مذاکرات میں پاکستان سہولت کار تھا ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنی ذمہ داری پوری کردی۔
غیرملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان اور امریکی حکام سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سہولت کار کا کام کیا، ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنا ہدف پالیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان دوحا میں حالیہ امریکی قیادت میں مذاکرات سے پاکستان کو نہیں نکال رہے، اس عمل میں طالبان کے متعدد گروپس اور اسٹیک ہولڈرزہیں، اس لیے رابطےمیں وقت لگتا ہے اور پاکستان کے لیے وقت اور جگہ کے لیے کوئی ترجیح نہیں تھی، ایک گروپ یا پارٹی رابطے سے ہٹتی ہے تو نتیجاً شیڈول یا جگہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملاقاتوں سے ہونے والی پیشرفت سے تمام چیزوں کا تعین ہوگا، امن مذاکرات پر پیشرفت دوحا میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر منحصر ہے، یہ بات ابھی یقینی نہیں کہ طالبان افغان حکومت کو مذاکرات میں شامل کرتے ہیں یا نہیں، کیا بات چیت ہوتی ہے؟ یہ عمل کیسے آگے بڑھتا ہے، انحصار ہونے والی ہر ملاقات کی پیشرفت پر ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے امریکا جنگ ختم کرنے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرکے جائے گا، امریکی فورسز جب جائیں تو افغانستان میں کشمکش نہیں ہونی چاہیے، امریکا کو افغانستان سے بحیثیت دوست افغانستان کی مدد کے وعدے کے ساتھ جانا چاہیے، افغان حکومت کے پاس اس وقت دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، طالبان کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے پرکابل پاکستانی طالبان اور داعش جیسے گروپوں سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگا اور افغانستان میں امن، افغان فورسز کا ذیادہ کنٹرول ہو تو ٹی ٹی پی کے لیے پناہ گاہیں رکھنا مشکل ہوگا۔

آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ اہم رہا ہے اور رہے گا، ہر خود مختار ملک کی طرح پاکستان قومی مفاد کےتحت فیصلے کرتا ہے، سی پیک خالصتاً ایک اقتصادی منصوبہ ہے، ہم نے جے ایف 17 تھنڈر طیارہ چین کے ساتھ مشترکہ طور پر بنایا، چین کے ساتھ الگ سے دفاعی تعاون ہے تاہم اس کا سی پیک سے کوئی سروکار نہیں