کیا یہ واقعی ڈی پی او ساہیوال کے خلاف ویڈیو بنانے والے پولیس کانسٹیبل کی لاش ہے؟ بالآخر حقیقت سامنے آگئی

0
347

کیا یہ واقعی ڈی پی او ساہیوال کے خلاف ویڈیو بنانے والے پولیس کانسٹیبل کی لاش ہے؟ بالآخر حقیقت سامنے آگئی

لاہور ( تازہ ترین سلطان نیوز )سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہورہی ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ اس پولیس کانسٹیبل کی لاش کی ہے جس نے ڈی پی او ساہیوال کے خلاف ویڈیو بنائی تھی اور پولیس کے اعلیٰ حکام پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے۔ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ تصویر کسی پولیس والے کی نہیں بلکہ پاکپتن کچہری میں مرنے والے بدنام زمانہ ڈکیت گینگ کے ایک رکن کی ہے۔تصویر میں نظر آنے والی یہ لاش ڈی پی او ساہیوال کے خلاف ویڈیو بنانے والے پولیس کانسٹیبل کی نہیں بلکہ پاکپتن ، اوکاڑہ اور ساہیوال سمیت پنجاب بھر میں خوف و دہشت کی علامت بد نا م زمانہ جرائم پیشہ ، رسہ گیر ڈاکو ابراہیم عرف ابری ملکانہ اور اس کا بھائی افراہیم ملکانہ وکیل شوکت وٹو کے چیمبر میں عدالت میں پیشی کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔ دونوں بھائی پاکپتن کچہری میں وکیل کے چیمبر میں موجود تھے کہ اسی دوران نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ملکانہ برادران اور وکیل کا منشی یوسف ہلاک ہو گئے جبکہ شہباز ملکانہ شدید زخمی ہو گیا ۔ فائرنگ سے مرنے والے دونوں بھائیوں ابراہیم اور افراہیم ملکانہ کے خلاف قتل ڈکیتی اور بھتہ خوری سمیت 70 سے زائد مقدمات درج تھے۔
ڈی پی او پاکپتن کی جانب سے آئی جی پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے ابراہیم اور افراہیم پاکپتن ضلع کچہری میں عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے پیش ہونے آئے تھے ۔ عدالت نے ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے اگلی تاریخ 9فروری 2019 دی تھی۔ ابراہیم ملکانہ کے خلاف 35 جبکہ افراہیم کے خلاف 30 مقدمات مختلف تھانوں میں درج تھے ، دونوں کو سابقہ دشمنی پر قتل کیا گیا۔دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل نے پولیس کانسٹیبل نوید کی ایک ویڈیو بھی شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانسٹیبل کے قتل کی خبریں بے بنیاد ہیں۔