جھنگ۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔۔۔صاجبزادہ اور سیال گروپ کی سیاست بارے چشم کشا تجزیہ۔۔۔۔چودھری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔

0
431

جھنگ۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔۔۔صاجبزادہ اور سیال گروپ کی سیاست بارے چشم کشا تجزیہ۔۔۔۔چودھری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔

تحصیل احمدپور سیال
میں مستقبل کی سیاست کچھ ایسے ھو سکتی ھے
حالیہ الیکشن کے نتائج کے بعد سابق M.N.A خان نجف عباس خان سیال مر حوم کے فرزند امیرعباس خان سیال کے قریبی ساتھیوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ھے کہ تحصیل شورکوٹ کے حلقہ میں M.N.A کا الیکشن ان کی سیاسی مہم جوئی تھی جو ایک منظم سکیم کے تحت امیر عباس سے کروائی گئی ۔ اگر ایسا نہ ھوتا فیصل صالح حیات کے لئے M.N.A کا الیکشن اس حلقہ میں لڑنا ناممکن تھا اگر امیر عباس اپنے والد کے سابق حلقہ میں امیدوار ھو جاتا احمد پور قانگوئی چھوڑ کر بھی ۔ اگر امیر عباس صو بائی الیکشن لڑ جاتا تو عون عباس خان کے لیے بھی بہت مشکل بن جاتی اس لئے فیصل صالح حیات اور خان عون عباس خان نے فیصل جبوآنہ صاحب کی معاونت سے امیر عباس کو اپنے آبائی حلقہ سے نکال باہر کیا اس مقصد کے لئے حلقہ بندی کی اپیلیں تک غلط موقف پر کروائی گیئں اور احمد پور قانگوئی کو تحصیل شورکوٹ کے حلقہ میں شامل ھونے کو چنلج تک نہ کیا گیا اگر احمد پور قانگوئی شورکوٹ سے نہ ملتی تو امیر عباس ادھر قومی اور صوبائی دونوں حلقوں سے الیکشن لڑ سکتا تھا اس صورتحال میں فیصل صالح اور عون عباس دونوں فارغ ھو جاتے ان کا کوئی حلقہ انتخاب ھی نہ ھوتا اس لئے امیر عباس سے غلط فیصلے کروائے گئے جس میں امیر عباس کے قریبی مشیروں کو بھی استعمال کیا گیا ۔ نجف عباس کے وفادار ساتھی امیر عباس کا سیاسی قتل ھوتے دیکھتے رہ گئے ان لوگوں نے اپنی بے بسی کے ناطے اپنے سیاسی رستے جدا کر لئے اور با وقار طریقہ سے صاحبزادہ گروپ میں چلے گئے ۔
اگر صاحبزادہ گروپ میں ان لوگوں کی عزت توقیر ھوتی رھی یہ کام کے لوگ ھیں ۔ جو سیاسی اونچ نیچ کا ادراک رکھتے ھیں ان ھی لوگوں نے میونسپل کمیٹی گڑھ مہاراجہ ۔ خصوصا” اور تحصیل کے دیگر مواضعات میں عموما” اپنے سیاسی پختہ کار ھونے کا ثبوت دیا ھے وگرنہ سابقہ صاحبزادہ گروپ ان علاقوں میں پہلے بھی موجود تھا لیکن تھکے ھوئے کھلاڑیوں کی مانند تھا۔ لیکن ایک بات کہنا پڑے گی گروپ میں نئے آنے والوں کو پرانے گروپ نے کافی حد تک قبول کیا اس طرح صاحبزادہ گروپ نئے جوش ولولہ کے ساتھ میدان میں آیا ۔ جس نے گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان کی 100 سالہ سیاسی آجارہ داری کا خاتمہ کر دیا اور فیصل صالح حیات کے سیاسی روعب و دبدبہ کا خاتمہ کر دیا اور رانا خاندان کے شہباز احمد خاں کو سیال خاندان کے بدل M.P.A بنا دیا ۔
اب آئندہ کیا ھوتا نظر آرھا ھے ۔ حالیہ الیکشن سے ثابت ھو گیا ھے احمد پور میونسپل کمیٹی۔ یونین کونسلز رنجیت کوٹ۔ سمندو آنہ۔ پیر عبدالرحمان ۔ عیسے والہ میں لوگ اب بھی نجف خان کو نہیں بھولے یہی وجہ ھے امیر عباس بیس ھزار آٹھ سو سے ذیادہ ووٹ لے گیا اگر امیر عباس آئندہ صوبائی الیکشن لڑے گا تو رانا صاحب کے مقابل مضبوط آمیدوار ھو گا ان علاقوں میں مقابلہ رانا شہباز اور امیر عباس کا ھی ھو گا۔ ان 5/6 یونین کونسلز اور احمد پور میونسپل کمیٹی میں عون عباس خان انتہائی کم ووٹ لے گا جو قابل ذکر نہ ھونگے بشرطیکہ رانا شہباز صاحب کی سیاسی کارکردگی سے لوگ مطمعن ھوں اگر نجف خان کی طرح کوئی کام نظر آئے تو لوگ رانا شہباز کو بھی نہیں چھوڑیں گے مقابلہ ان علاقوں میں سخت ھو گا صاحبزادوں کے ووٹ رانا صاحب کے لئے بونس ھونگے۔ باقی صوبائی حلقہ دربار یونین کونسل سے لے کر حسوبلیل تک صاحبزادہ گروپ ۔ عون عباس خان ۔ اور امیر عباس کا اپنا اپنا ووٹ بنک ھے عون عباس اگر فیصل صالح کے ساتھ چلے کچھ لے نہیں سکتا اگر علیشاء بلوچ کے ساتھ چلے کچھ ووٹ لے سکتا ھے مگر حلقہ کی صورتحال کے تحت امیر عباس خان علیشاء بلوچ کے لئے ذیادہ مفید ھو گا اگر امیر عباس جیسکہ نظر آرھا مولو ی آصف صاحب سے گٹھ جوڑ کر لیتا ھے تو یہ عون عباس سے کہیں ذیادہ مضبوط امیدوار ھو گا
اس طرح مقابلہ رانا شہباز اور امیر عباس کا ھی بنے گا آئندہ الیکشن میں عون عباس کا سیاسی مستقبل پھر آزمائش میں ھوگا بشرطیکہ رانا صاحب کوئی کارکردگی دکھائیں گے تو لوگ امیر عباس اور رانا شہباز میں سے ھی کسی کو M.P.A منتخب کریں گے ان انتخابات میں گڑھ مہاراجہ مونسپل کمیٹی کی خاص اھمیت ھوگی اگر رانا صاحب اور صاحبزادہ گروپ گڑھ مہاراجہ میں اپنے دوستوں کو متحد رکھتا ھے عوام کے لیے کچھ کرتے ھیں تو عون عباس کے لئے بہت خطر ناک صورتحا ل ھوگی ۔ آخر میں ایک اور بات کہتا ھوں حکو متی پارٹی کے لیے آنے والا الیکشن ایک ٹسٹ ھوتا ھے جس کی تیاری دور اقتدار میں کرنی ھوتی ھے یہ تیاری وہ ورکر نہیں کروا سکتے جو ھر وقت مفاد پرستی کے چکر میں رھیں ذیادہ حاضریاں بھریں مخالف گروپ کے سامنے بکری بن جانے والے ھر وقت عشر زکوتہ اور بیت المال کمیٹیوں کے طلبگار رھیں محض مخالف گروپ کےساتھ درپردہ تعلقات رکھنے کے لیے منافقانہ روش اختیار کریں حالیہ بار کونسلز کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ھم خیال امیدواروں کو گروپ قائدین کے کہنے پر ووٹ تک نہ دیں ا ور مخالف گروپوں کی لیڈروں کے ساتھ مل کر بار کے الیکشن لڑیں اپنے گروپ کے لئے شرمندگی کا بحث بنیں ایسے لوگ کسی بھی گروپ میں نفاق کا موجب بنتے سیاسی گروپ ان لوگوں کی وجہ سے چلتے اور مضبوط ھوتے ھیں جن میں جرات رندانہ ھو کس سیاسی پنڈت کے گھر میں بیٹھ کر اپنے گروپ کا نعرہ بلند کر سکیں ایسے کارکن ھی اپنی قابلیت اور اہلیت کے مطابق مراعات کے حقدار ھوتے ھیں آخر میں گزارش ھے
صاحبزادہ گروپ
عوام کی خدمت اپنا شعار بنائے
مفاد پرستوں اور چاپلوسوں سے بچے۔ علاقائی مفاد کے لئے کبھی کبھار گروپ کے اھل رائے احباب کو اکھٹا کر کے مشاورت کر لی جائے تو آئندہ کے لئے بہتر ھوگا صاحبزادہ گروپ کے لئے بہتر ھو گا
لیڈران گروپ گروپ میں میرٹ کو معیا ربنائیں ۔

اللہ سب دوستوں کو اپنے حفظ امان میں رکھے
واسلام۔