فوجی عدالتوں کی مخالفت،سانحہ ساہیوال اور پوائنٹ اسکورنگ (نوک قلم) کالم نگار ۔ سید مخدوم زیدی

0
101

فوجی عدالتوں کی مخالفت،سانحہ ساہیوال اور پوائنٹ اسکورنگ

(نوک قلم)
کالم نگار ۔ سید مخدوم زیدی

پاکستان یوں تو چار دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے مگر 2000 کے بعد اس میں زیادہ شدت آئی پرویز مشرف کی حکومت نے اوائل دنوں میں دہشت گردوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر جب مشرف نے بظاہر وردی اتاری تو نگوڑی جمہوریت جس کو لولی لنگڑی بھی کہا جاسکتا ہے کے آنے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بھی اپنی موت آپ مرتا چلا گیا ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں قاتلوں دہشت گردوں کو گرفتار کرتیں تو عدالتیں ان کو یا تو بری کر دیتیں یا پھر ججز کیس سننے سے ہی انکاری ہوجاتے کیوں کہ انہیں اپنے بچے اور فیملی عزیز ہوتی تھی ایسے بے شمار کیسز ہیں جن کو سننے سے ججز نے معذرت کی
دہشت گردوں کو سزائیں نہ ہونے سے یہ فرق پڑا کہ دہشت گردی میں اضافہ ہوتا چلا گیا 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی زرداری کو محترمہ بے نظیر کی شہادت کے صدقے میں حکومت ملی تو خود زرداری اور بلاول کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردوں نے الیکشن مہم نہیں چلانے دی یہی واویلا 2013 میں بھی کیا گیا سوچنے کی بات ہے دہشت گردی سے متاثر بقول پیپلز پارٹی کے وہ ہوئے ہیں تو پھر ملٹری کورٹس کی مخالفت بھی وہ کیوں کررہے ہیں؟ اس سوال پر جتنا غور کیا ایک ہی بات سامنے آئی کہ دونوں جماعتوں نے اپنے ادوار میں فوجی عدالتوں کی منظوری پارلیمنٹ سے لے کر دی پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد قوم متحد ہوئی اور سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کو برباد ہونا چاہیے پھر فوجی عدالتوں کا قانون پارلیمنٹ سے پیش ہوا جس کی منظوری میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں شامل تھیں جب کہ آج کی حکمران جماعت پی ٹی آئی قائد عمران خان نے اس کی مخالفت کی تھی جو آج فوجی عدالتوں کا قانون قومی اسمبلی و سینیٹ سے پاس کروانے کے لیے بے چین ہیں
فوجی عدالتوں کے قیام اور ان میں متواتر توسیع کے بعد ہم نے دیکھا کہ دہشت گردوں کے مقدمات سننے اور ان پر جرم ثابت ہونے کے بعد ان کو سزائیں دیں جس کے بعد دہشت گردی کا عفریت اپنی موت آپ مرتا چلا گیا
پیپلز پارٹی آج اس قانون کی مخالفت کیوں کررہی ہے؟ ماضی میں جب سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کی موجودگی میں یہ بل پاس ہوا تو چٹیا والی سرکار دھاڑیں مار کے روتے رہے مگر مچھ کے آنسو رونے والے ایسے لوگ اس وقت خاموش رہتے تھے جب یہ دہشت گرد بے گناہ لوگوں کو خود کش دھماکوں میں مار رہے تھے ان کو قطعی تکلیف نہیں تھی کہ پشاور میں اے پی ایس کے ننھے طلباء کو دن دیہاڑے غلیظ دہشت گردوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا مگر ان کو کیا ان کے ساتھ پروٹوکول کی گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو محافظ دیئے جاتے ہیں ملک قوم کا کھا کر حرام کرنے والے یہ لوگ بظاہر پاکستانی شناختی کارڈ رکھتے ہیں مگر ان کا اصل وطن پاکستان نہیں ہے یہاں تو یہ لوگ کھانے کمانے اور چھٹیاں گزارنے آتے ہیں
پاک فوج کے ترجمان جنرل غفور نے درست کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے دہشت گردوں پر خوف طاری ہوا ہے فوجی عدالتوں میں ملزمان کو مکمل صفائی کا موقع دیا جاتا ہے جو کام فوجی عدالتیں کررہی ہیں ہمارا جوڈیشری نظام غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے جہاں گنہگار بے گناہ اور بے گناہ گنہگار بن جاتا ہے لشکر جھنگوی ظالمان کے کتنے دہشت گرد ہیں جو پاکستان کی مختلف عدالتوں میں قید ہیں مگر ان کو آج تک یہ نظام سزا نہ دے سکا کیوں کہ پراسیکیوشن کی کمزوری تھی کیس درست تیار نہیں کیا گیا وغیرہ وغیرہ
جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں دراصل ان کا مقصد اور سوچ ہے دہشت گردی ہوگی تو ان کی سیاست چلے گی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کو آج “جی ایچ کیو” سے پچکارا جائے جیسے شہباز شریف کو پچکارا گیا ہے تو ان کی بلا سے فوجی عدالتیں بنائیں یا کچھ اور بس ان کے خلاف چلنے والی انکوائریاں بند کردی جائیں ان کو کوئی نہ پوچھے کہ کر٘سن کی کیسے کیوں کی بس پھر کوئی غم نہیں کچھ بھی ہوتا رہے
مسلم لیگ نون اس معاملے پر دو حصوں میں تقسیم ہے ایک دھڑے(شہباز شریف گروپ) چاہتا ہے پاک فوج کے ساتھ بنا کر رکھی جائے اس میں نواز شریف کی سوچ بھی شامل ہے مگر مریم گروپ اس کو ماننے سے انکاری ہے شہباز شریف گروپ قدرے پریشانی کا شکار ہے مگر امید واثق ہے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ” یس سر جی جناب حکم جناب” کہنے والے دونوں پارٹیوں کے خوشامدین کی رائے کو مد نظر رکھنے کی بجائے دونوں پارٹیوں سربراہان(شہباز شریف+زرداری اور نواز شریف ) کے “احکامات” کو مانا جائے گا کیوں کہ اس قانون نے پارلیمنٹ سے منظور ہونا ہے اس لیے پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں جانتے ہیں کہ حکومت کے پاس یہ بل منظور کروانے کے لیے نہ تو قومی اسمبلی میں اور نہ ہی سینیٹ میں مطلوبہ تعداد موجود ہے نہ یہ کروا سکتے ہیں اس لیے بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے مگر ایک بات وہ بھول رہے ہیں کہ ایوان صدر کا مکیں عارف علوی بھی اسی پارٹی کا ٹائیگر ہے ایوان صدر اس قدر بھی بے اختیار نہیں جتنا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ایمرجنسی بھی نافذ ہوسکتی ہے ایوان صدر سے ایگزیکٹو آڈرز بھی آسکتے ہیں اس لیے ہمارا خیال ہے دونوں جماعتیں اپنی رہی سہی عزت بچانے کی کوشش کررہی ہیں جب کہ یہ بل منظور تو ہوگا ہر حال میں فوجی عدالتوں کو توسیع ملے گی یہ کچھ بھی کرلیں ان کی ڈرامہ بازی اور بلیک میلنگ کچھ روز مزید چلے گی
منی لانڈرنگ اور بے نامی جعلی اکاونٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت اور بلاول مراد شاہ کا نام نکالنے کے سابق چیف جسٹس کے ریمارکس کو لے کر پیپلز پارٹی نے بالکل اسی طرح ڈھول بجائے تھے جیسے نون لیگ نے 28 جولائی کو نواز شریف کی نااہلی پر ۔۔مگر جیسے ہی گزشتہ روز سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا پیپلز پارٹی کی پھر چیخیں نکلنا شروع ہوگئیں یہ وہی پیپلز پارٹی تھی جس نے 16 جنوری کے فیصلے پر چیف جسٹس کو سلیوٹ کیے زرداری نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر تقریر کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار کو خراج تحسین پیش کیا کہ بلاول کا نام انہوں نے جے آئی ٹی سے نکلوایا مگر یہ خراج تحسین صرف 12 گھنٹے کے لیے تھا اس کے بعد پھر وہی غلاظت اور یہ کام صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں نون لیگ بھی احسن انداز میں کررہی ہے احسن اقبال کا ٹوئیٹر دیکھ لیں جیسے ہی ثاقب نثار ریٹائرڈ ہوئے وہ اپنی خباثت باہر لے آئے اور بکواسیات شروع کردیں یہ بھول گئے کہ اسی چیف جسٹس نے نواز شریف کی ضمانت کو برقرار رکھا احسن اقبال خوشامد کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تعریفیں کررہے ہیں یہ وہی آصف سعید کھوسہ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو تاریخی القابات سے نوازا تھا خوشامد کی وجہ ان کا چیف جسٹس بننا ہے چلتے چلتے بات ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی جانب سے بے گناہ چار لوگوں کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی پنجاب میں عملی طور پر حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے عثمان بزدار نامی استخارے کا شاخسانہ وزیراعلی جس کو اس واقعہ کا علم 24 گھنٹوں بعد ہورہا ہے سی ٹی ڈی پولیس اسی کے ماتحت ہے؟ عمران خان کی سلیکشن کو سو توپوں کی سلامی دینی چاہیے جس نے ہیرا تلاش کیا تھا اس ہیرے کے کمالات ہم گزشتہ چار ماہ میں دیکھ چکے ہیں اگر یہی شخص وزیر اعلی رہتا ہے تو پی ٹی آئی حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے یہ اپنی موت خود ہی مر جائے گی دوسری بات ساہیوال کے اس واقعہ پر جس طرح پی ٹی آئی کارکنان نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور سوشل میڈیا پر انتہا کردی اس کو دیکھ کر مجھے سانحہ ماڈل ٹاون یاد آگیا جہاں دن دیہاڑے پولیس نے حاملہ خاتون کے منہ میں بندوق رکھ کے گولی چلائی تھی الیکٹرانک میڈیا براہ راست دکھا رہا تھا ساہیوال میں تو فوٹیج بھی شائد ابھی تک نہیں چلی مگر مجال ہے کسی لیگی کارکن نے اس واقعہ پر اس طرح اپنی حکومت سے سوال کیا ہو الٹا دفاع کرتے رہے کہ گولیاں پولیس نے نہیں چلائیں بلکہ منہاج القران والوں کی طرف سے چلائی گئیں ایف آئی آر بھی مقتولین کے خلاف درج ہوئی یہاں جیسے بھی ہے وزیراعظم نے نہ صرف اس کا نوٹس لیا بلکہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے یہ بات تو حتمی ہے کہ یہ لوگ دہشت گرد نہیں تھے پھر ان کے ساتھ یہ ظلم سی ٹی ڈی نے کیا کیوں؟ یہ محکمہ بھی سابق پنجاب حکومت یعنی خادم اعلی نے ایجاد کیا تھا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ لیکن یہ کیسی دہشت گردی کا خاتمہ ہے؟استغفراللہ۔۔۔۔