سیاست دے وچ کتی چوراں نال۔ ۔۔۔۔۔لاجواب تحریر۔ ۔۔۔سلطان نیوز پر۔ ۔۔۔مخدوم زیدی کے قلم سے

0
129

کمر کا درد ، کینسر اور خلائی مخلوق
تحریر سید مخدوم زیدی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی جانب سے وعظ و نصیحت سنتے ہوئے ہنسی بھی آرہی تھی اور حیرت بھی، قدرتی طور پر آج کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو قومی اسمبلی کی کاروائی اور کل کے “حریف پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعویدار “چھوٹے میاں صاحب اور زرداری کے خطبات عالیہ سننے کی سعادت حاصل ہوئی میاں شہباز شریف جب ایمانداری اور حب الوطنی پر لیکچر دے رہے تھے تو ارد گرد بیٹھے خوشامدیوں کی فوج ظفر موج میں سے کسی نے نہیں کہا میاں صاحب “ہتھ ہولا رکھو ” زیادہ پرانی بات نہیں ہے پنجاب میں صاف پانی کمپنیوں کا کھیل کھیلا گیا میاں صاحب کے “مفرور” داماد اعلی علی عمران کو اس کا مکمل اختیار دیا گیا جیسے دل کرے جو من میں آئے لوٹ کھسوٹ کرو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہیں آفس کے نام پر کروڑوں تو کہیں صاف پانی کے نام پر ڈاکا زنی ،مجھے مزید ماضی بعید کی کچھ باتیں یاد آرہی ہیں جب ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم نے “ہلہ” کے نام سے اس وقت کے خادم اعلی کے کہنے پر پنجاب کے غریب لوگوں کی سہولت کے کیے دودھ کمپنی بنائی جب آل شریف نے دیکھا کہ یہ کام تو فائدہ مند ہے فوری طور پر اپنے سپوت حمزہ کو اس کام میں آگے کردیا جس کے بعد “انہار ” کے نام سے وہی کمپنی معرض وجود میں آگئی آغاز “رمضان شوگر مل” سے کیا گیا پراجیکٹ وہی مرحوم ڈاکٹر ظفر الطاف کا تھا جب اس پر ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم نے احتجاج کیا تو انہی خادم اعلی کے احکامات پر ان کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب کی عمر 75 سال تھی جب ان کا انتقال ہوا تو آل شریفیہ کی جانب سے درج کروائے گئے بے بنیاد مقدمات میں ضمانت پر تھے بات طویل ہوگئی شہباز شریف کے بھاشن سن کر خوشی سے جھوم جانے کو دل کرتا ہے بچارے کتنے ایماندار شخص ہیں ایک روپیہ کی کرپشن کبھی نہیں کی اور تو اور آج انہوں نے شدت جذبات اور احسان مندی کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنے ہی مجرم بڑے بھائی نواز شریف کے بیانیئے کو جھٹلا دیا جب انہوں نے فر مایا کہ “کہ آج اگر پاکستان کو بیرون ملک سے امداد مل رہی ہے تو یہ عمران خان کی وجہ سے نہیں بلکہ “سپہ سالار ” کی وجہ سے مل رہی ہے جب کہ بھائی اور بیٹی کہتے تھے “خلائی مخلوق” کہتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ شہباز شریف کینسر میں مبتلا ہیں ان کی کمر میں درد ہے اس لیے ان کے ڈیرے اور موجیں اسلام آباد میں لگی ہوئیں ہیں قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کرکے بھاگنے میں عافیت سمجھی کیوں کہ جواب میں حکومتی بینچوں پر بیٹھے جوشیلے اور نوجوان کھلاڑیوں کے جوابی وار برداشت کرنے پڑتے مگر یہاں بھی جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا اور کہا کہ مجھے کچھ لوگ یہاں گالیاں دیتے ہیں جب پوچھا گیا کہ کون گالیاں دیتا ہے تو جواب نہ بن پڑا۔۔۔
کہتے ہیں NROہو چکا ہے مگر یہ ماضی کے این آر او سے مختلف ہے یہاں عدالتوں کے ذریعے مک مکا ہورہا ہے اگر آپ کے ذہن میں ایک سے ڈیڑھ ماہ پہلے جب سپریم کورٹ میں نواز شریف ، مریم نواز اور داماد صفدر کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہونے والی ضمانت کی منسوخی کے لیے نیب کی جانب سے درخواست آئی تو موصوف چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے کیا جملے تھے کیا لب و لہجہ تھا؟ یقینا سب کو یاد ہوگا تو پھر سوچنے کی بات ہے ڈیڑھ ماہ میں ایسا کیا ہوگیا کہ چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کو یہ کہنا پڑ گیا کہ نیب نواز شریف کی ضمانت منسوخ کروانے میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے اب اس پر ہم کیا کہیں پڑھنے والے زیادہ فہم و فراست کے مالک ہیں ورنہ یہی وہ پانچ ججز تھے جن کے خلاف باپ بیٹی اور ان کے تولیہ بردار کیا کیا بولتے رہے تھے دو تین خوشامدی تو پانچ پانچ سال کے لیے نااہل بھی ہو گئے مگر آج انہی پانچ ججز کے یہی لوگ قصیدے پڑھ رہے ہیں زرداری اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بلاول کا نام جے آئی ٹی سے نکلوایا جب کہ کچھ دن پہلے یہی زرداری اور ان کے حواری ڈھکے چھپے لفظوں میں چیف جسٹس کو گالیاں دے رہے تھے
یہ پاکستان ہے جہاں جس کے حق میں فیصلہ آئے تو عدلیہ آزاد خلاف آئے تو عدلیہ بک چکی ہے آنے والا وقت پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے لیے ریلیف لائے گا کل حامد میر کے بیٹے کی شادی میں رانا ثناء اللہ اور فواد چوہدری کی ” محبت” سب نے دیکھی جس کے بعد کچھ لوگوں کو کہنا پڑا کہ یہ کیسی منافقت ہے؟ جب کہ یہی منافقت ہماری سیاست کا اصل چہرہ ہے فواد چوہدری کا سپریم کورٹ کے آج ہونے والے فیصلے پر کہنا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت کو بحال رکھا یہ درست فیصلہ ہے یہ باتیں ایسے ہی نہیں ہوجاتیں بہرحال دودھ کی رکھوالی پر بلا بٹھایا تو ایسے نہیں بیٹھ گیا “کتی چوراں نال،”