مخفی و پر اسرار کائنات کالم نگار ۔۔ علی زین مہدی

0
137

مخفی و پر اسرار کائنات

کالم نگار ۔۔ علی زین مہدی

ہماری اس ملکی وے کہکشاں سے پچیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر اس کی ہمسایہ کہکشاں اینڈرومیڈا ہے۔ اگر اینڈرومیڈا اپنی جگہ سے جنبش نہ کرے تو یہی کوئی پچاس ارب سال لگیں گے ایک موجودہ خلائی جہاز کو زمین سے وہاں تک پہنچنے میں۔ یاد رہے کہ سورج کی تشکیل محض ساڑھے چار ارب برس کا قصہ ہے۔ ہمارے مشاہدے میں ایسی ہزاروں اور کہکشائیں آ چکی ہیں اور شاید اربوں کہکشائیں ابھی ہم سے اوجھل ہیں۔ ہماری کہکشاں میں نظام شمسی کی حیثیت سمندر میں موجود ایک قطرے سے بھی کم ہے۔ ہماری زمین کا تو ذکر ہی کیا۔ کہکشاں سے روشنی کی رفتار سے نکلیے تو پانچ ارب نوری سال کے فاصلے پر کائناتی جال یا کاسمک ویب ملے گا۔ یہ جال کھربوں کہکشاوں پر مشتمل ہے۔ لیکن یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی۔ یہ تو بس پانچ ارب نوری سال کا فاصلہ ہے۔ ایک خلائی جہاز کو یہاں پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا یہ بتانے کے لیے ہمارے پاس کوئی ایسا ہندسہ نہیں جو عام فہم میں آ سکے لیکن اس کے بھی بہت باہر 200 نوری ارب سال کی دوری پر بگ بینگ سے پیدا ہونے والی اس کونیاتی تابکاری کی باقی رہ جانے والی روشنی موجود ہے جس سے شاید ازل کی تار بندھی ہے۔ پر رکیے۔ شاید اس کے آگے بھی کچھ ہے۔ اب ہم کثیر کائناتی نظریے کے بارے میں تحقیق شروع کر چکے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ کئی کائناتیں موجود ہوں۔ یہ ایسا حساب ہے اور یہ ایسے فاصلے ہیں جنہیں ہم ابھی مکمل طور پر سمجھنے کے قابل نہیں ہوئے لیکن سفر جاری ہے پر یہ سفر آسان نہیں ہے۔ اس سفر کی راہ میں جہالت کے کئی سد راہ موجود ہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ ہم سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں پر ہر گلی کے کونے پر ایسے مبلغین قطار لگائے کھڑے ہیں جو آپ کو بتائیں گے کہ ان کے پاس ان سوالوں کے سارے جواب پہلے سے ہی ہیں۔ یہ سب تو ان کی کتابوں میں کب سے مرقوم ہے۔ شکر کیجئے کہ مغرب نے ان کا کردار چند سو سال پہلے محدود کر دیا تھا ورنہ ہم آج بھی سورج کو زمین کے گرد گھما رہے ہوتے۔