لبنان ۔سید حسن نصر اللہ کی بیماری کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے مشیر خاص

0
174

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر خاص نے حسن نصراللہ کی بیماری سے متعلق خبر کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے.
رپورٹ علی زین مہدی
سید مقاومت حسن نصر اللہ کی بیماری سے
متعلق خبر سب سے پہلے اسرائیلی روزنامہ اسرائیل ھا یوم میں شایع ہوئی

. دعوی کیا گیا کہ لبنانی صحافی جیری ماھر نے بتایا کہ انہیں سیکیورٹی ادارے سے وابستہ سورس سے معلوم ہوا کہ حزب اللہ کی کسی بڑی شخصیت کو بیروت میں اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ مریض حسن نصر اللہ ہیں. یہی خبر روسی ویب سائٹ اسپوٹنک نے اٹھائی اور بعد ازاں مزید اسرائیلی ذرایع ابلاغ نے چلائی.

دعوی کررہے ہیں کہ لبنانی میڈیا نے خبر دی ہے لیکن لبنانی میڈیا پر ایسی کوئی خبر تھی ہی نہیں. حتی کہ المنار اور پریس ٹی وی بھی اس حوالے سے خاموش ہیں.

اسرائیل کے ایک اور اخبار Israel National News نے ائم خبر میں دعوی کیا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر خاص نے حسن نصراللہ کی بیماری سے متعلق خبر کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے.

سید حسن نصراللہ کی صحت کے حوالے سے افواہ پھیلانے والا صحافی #جیري_ماهر کون ہے ؟؟؟؟؟

دشمن سے لڑنے کے لیے دشمن کی شناخت ضروری ہے. مادی دشمن سے زیادہ وہ فکری دشمن خطرناک ہے جو افکار چراتا, افکار تخریب کرتا, افکار منحرف کرتا یا افکار میں تردید ایجاد کرتا ہے. اس مضمون میں ایک ایسے ہی دشمن کے آلہ کار کا تعارف کروایا گیا ہے جو اپنی جھوٹی خبروں اور تجزیوں سے نوجوان نسل کے افکار میں تشویش و تردید ایجاد کرنے پر مامور ہے. یہ شخص عربی ذرائع ابلاغ میں جیري-ماهر کے نام سے معروف ہے.

جیري_ماھر ایک لبنانی صیہونی احمد الغوش کا بیٹا ہے جس کا اصلی نام Daniel Ahmad el Ghoch ہے. جیری ماھر کا باپ احمد الغوش صدام کی بعث پارٹی کا لبنان میں مقیم ایک جاسوس اور دہشت گرد تھا.وہ لبنان میں دہشت گردی کی کئی کاروائیوں کا حصہ رہا.

احمد الغوش بعد ازاں اپنے بچوں سمیت سویڈن فرار ہو گیا اور وہیں رہائش پذیر ہوگیا تھا. اس کا بیٹا ڈینئل جو آجکل جیری ماھر کے نام سے معروف ہے سویڈن میں صیہونی کنیسہ سے منسلک ہوگیا. وہ اسرائیل کی خدمت کو خدا کی خدمت تصور کرنے لگا. بعد ازاں وہ اسرائیل بھی گیا جہاں اس کا تعارف ایک اسرائیلی لڑکی سے ہوا جس کے ساتھ اس نے بعد میں شادی رچا لی.

اسی اسرائیلی لڑکی کے توسط سے ڈینئل اسرائیلی حکام سے منسلک ہوگیا. اسرائیلی حکام نے اسے میڈیا کے لیے تربیت دینا شروع کی. اس نے چند دن سعودی رژیم کی ڈونیشن سے چلنے والے عربی چینل العربیہ میں بھی کام کیا. اسرائیلی حکام کی طرف سے اس کا بنیادی ترین وظیفہ سوشل میڈیا پر مقاومتی بلاک اور اسرائیل مخالف عرب و غیر عرب رہنماوں کی شخصیت کشی اور مقاومتی بلاک کے بارے افواہیں پھیلانا ہے.

ڈینئل الغوش المعروف جیری ماھر کئی بار اسرائیلی اور سعودی خفیہ اداروں کے حکام کے ساتھ دیکھا گیا ہے. ڈینئل نے چند بار سید حسن نصراللہ کی ذاتی زندگی و فعالیت کے بارے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی. موجودہ جھوٹ سے پہلے جیری ماھر ایک بار سید حسن نصراللہ کی ھیفا وھبی نامی لڑکی سے شادی کی جھوٹی داستان بھی گھڑ چکا ہے.

ڈینئل المعروف جیری ماھر چند بار لبنانی شہدا اور شیعوں کی توہین کر چکا ہے. وہ کئی بار سید حسن نصراللہ کے قتل کا مطالبہ کرچکا اور شیعہ مساجد و امامبارگاہوں کو مسمار کرنے اور انہیں دہشت گردی کے ٹھکانے کہہ چکا ہے. وہ ضاحیہ اور بقاع کے شیعوں کے قتل کا بھی مطالبہ کرچکا ہے.

بعثی جاسوس احمد الغوش کا بیٹا ڈینئل الغوش جس کا فرضی نام جیری ماھر ہے اپنے بیٹے کے صیہونی ہونے پر فخر کرتا اور ھمہ وقت اسرائیل و سعودی رژیم کی خدمت پر مامور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہے. وہ خود کو ایک عربی صحافی کہلاتا جبکہ اس کے پاس لبنان سمیت کسی عربی ملک میں صحافت کا کوئی پروانہ نہیں ہے. وہ سویڈن کا شہری اور وہیں مقیم امریکی و اسرائیلی مزدور ہے اور وہیں سے عربی سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر فعال اور جھوٹ, تہمت زنی اور بہتان تراشی کرتا رہتا ہے.

چند سال پہلے ایک لبنانی وکیل نے اس کے خلاف لبنانی شہداء کی توہین اور ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کے سبب عدالتی کاروائی کی تھی جس پر ایک لبنانی عدالت نے ڈینئل الغوش المعروف جیری ماھر کو اس کی غیبت میں سزا سنائی تھی اور اسے جرمانہ و شہری حقوق سے محروم کردیا گیا تھا.

حوالہ: www.libaniran.com