تمام صحابہ معیارِ ایمان ہیں۔مولانامحمدجہان یعقوب

0
171

تمام صحابہ معیارِ ایمان ہیں

مولانامحمدجہان یعقوب

صحابی”عربی زبان کا لفظ ہے اوریہ”صحبت ”سے مشتق ہے،صحابی کا مطلب ہے: نبی اکرم ۖ کا صحبت یافتہ،اصطلاح شریعت میں” صحابی”سے مراد رسول اکرم ۖکا وہ ساتھی ہے، جس نے ایمان کے ساتھ آپ کی مجلس کو پایا، اگرچہ چند لمحات ہی اللہ کے نبیۖ کے ساتھ گزارے ہوں،پھر ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ اور لقب رسول اللہۖ کے ساتھیوں کے ساتھ خاص ہے۔
صحابہ کرام اور صحابیات کی مقدس جماعت سے محبت اورنبی کریم ۖ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے اس کو تسلیم کرناایمان کاحصہ ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مہاجرین اور انصار کا مرتبہ باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہے اور مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہلِ حدیبیہ کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے اور اہلِ حدیبیہ میں اہلِ بدرکا، اور اہلِ بدر میں چاروں خلفائے راشدین کا مرتبہ سب سے زیادہ ہے۔ چاروں خلفائے راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا، پھر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ سب سے فائق ہے۔صحابہ کے حوالے سے درج ذیل عقائد رکھنا ضروری ہیں:
1…صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے۔
2… اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میںہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے۔(الفتح : ٢٩)
33… صحبتِ رسول ۖ اگر چہ ایک لحظہ کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اس کی فضیلت کے برابرکوئی عمل نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی اس مرتبہ تک کسی چیز کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔امام ا حمد بن حنبل فرماتے ہیں: ادنیٰ صحابی افضل ہے اس صدی کے لوگوں سے، جنھوں نے اللہ کے رسول ۖ کو نہیں دیکھا،اگر چہ ان لوگوں نے تمام عمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کی ہو۔(شرح ا صول اعتقادا ہل السنة)
4… تمام صحابہ عادل ہیں۔(شرح فقہ الأکبرص٨٥،٨٦)
5…تمام صحابہ معیارِ ایمان ہیں۔
6… تمام صحابہ جنتی ہیں(الحدید:١٠٠) اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے ظاہر و باطن کا تزکیہ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی سچائی کی گواہی دی ہے، ان کے جذبۂ ایثار کی تعریف کی ہے۔(سورئہ حشر:)
77…صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشاجرات یعنی ان کے باہمی جھگڑوں کا بیان کرنا حرام ہے، جن صحابہ کرام میں باہم کوئی جھگڑا ہوا ہو، ہمیں دونوں فریق سے حسنِ ظن رکھنا اور دونوں کا ادب کرنا لازم ہے۔ان میں باہم رنجش وعداوت بیان کرنا افترا اور بے دینی ،ان میں سے کسی سے بدگمانی رکھنا اور کو برا کہنا قرآن مجید کی صریح مخالفت،شریعتِ الہیہ کی کھلی ہوئی بغاوت ہے۔خلاصہ یہ کہ :صحابہ کرام امت کے امین تھے، امت پر ان کی اقتدا واجب ہے۔(شرح عقائد النسفیةص:١٦١)