ہفتہ مدح صحابہ شمسﷺ و قمرؓ و ستارےؓ تحریر::: محمد بلال حیدری

0
29

ہفتہ مدح صحابہ
شمسﷺ و قمرؓ و ستارےؓ

تحریر::: محمد بلال حیدری

#سرزمین_عرب روحانی روشنیوں سے محروم اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، معمولی باتوں پر انسانی گردنوں کو تیز دھار تلواروں سے ہواوں میں اچھالا کرتے تھے، صنف نازک کو معاشرہ عرب میں بازاروں کی زینت بنایا جاتا تھا۔
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی اس معاشرہ میں رب کریم نے ایک آفتاب طلوع فرمایا جسے آفتاب نبوتﷺ کہا جاتا ہے، اس شمس کے طلوع ہونے سے اندھیرے اچٹ گئے اور اجالا چھا گیا مگر اندھیروں کے مارے ہوئے قوم کی آنکھوں میں نیند کا خمار ابھی باقی تھا۔
گزرتے وقت کے ساتھ آفتاب کی شعائیں تیز ہونے لگی تو معاشرے میں پھیلی ہوئی بدبو رفتہ رفتہ زائل ہونے لگی۔

اسی اثناء میں آفتاب نبوتﷺ کی شعائیں قبول کرنے کیلئے چاند یعنی صدیق اکبرؓ نبوت کے قدموں میں آ کر سر خم تسلیم ہوگئے۔
جس طرح آسمان کی زینت بننے والے شمس کے سب سے قریب تر چاند ہوتا ہے بلکل اسی طرح زمین کو رونق بخشنے والے آفتاب نبوتﷺ کے سب سے قریب صدیق اکبرؓ ہی رہے، چاہے وہ غار ثور ہو یا بدر کا چبوترہ ہو دونوں جگہ آفتاب نبوتﷺ کے گرد گھومنے والا تن تنہا چاند صدیق اکبرؓ ہی تھا ۔۔۔

اور جس طرح غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل عصر کے وقت آسمان پر شمس و قمر دونوں نظر آتے ہیں حالانکہ شمس کی موجودگی میں چاند کی روشنی نہیں ہوتی مگر رب کریم بتاتا ہے کہ شمس کے بعد طلوع ہونے والا ستارہ نہیں چاند ہوتا ہے۔
بلکل اسی طرح آفتاب نبوتﷺ کے غروب ہونے سے کچھ دن قبل آفتاب نبوتﷺ کے مصلی پر چاند صدیق اکبرؓ آیا تھا۔

ابوداود کی روایت ہے کہ مرض وفات میں حضورﷺ نے فرمایا: “مروا من يصلي للناس” یعنی کسی کو کہو نماز پڑھائے حضرت ابوبکر صدیقؓ اس وقت نہیں تھے تو حضرت عمرؓ کو نماز کیلئے آگے کیا گیا حضورﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کی آواز سن لی تو فرمایا: “أين أبوبكر يأبي الله و يأبي المسلمون” یعنی ابوبکر کہاں ہے؟؟؟ اللہ بھی ابوبکر کے علاوہ کسی کو نہیں چاہتے اور نہ ہی مسلمان چاہتے ہیں چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کو بلایا گیا اور دوبارہ نماز پڑھائی گئی۔

ابھی آفتاب نبوتﷺ موجود ہے مگر مصلی رسالتﷺ پر چاند صدیق اکبرؓ طلوع ہوئے۔

چنانچہ آفتاب نبوتﷺ سے روشنی حاصل کرنے کے بعد شمس و قمر یعنی صدیقؓ و نبیﷺ ایک ساتھ کفر و طاغوت کے اندھیروں کو دور کرنے میں مصروف ہوئے اور کچھ ہی عرصہ میں ستاروںؓ کی ایک جھرمٹ آفتاب نبوتﷺ سے روشنی حاصل کرچکے تھے اور زمین کی زینت اور رونق بن چکے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ میری نظر قرآن کی آیت پر پڑی جس میں فرمایا گیا تھا :
“إنا زينا السماء الدنيا بزينت ن الكواكب”
یعنی آسمان کی زینت ستاروں سے ہیں ۔

پھر نظر آسمان کی طرف اٹھائی تو پتا چلا واقعی زینت آسمان #شمس_و_قمر_اور_ستاروں کی جوڑی سے ہیں ۔
اور زمین کی زینت #نبیﷺ_و_صدیقؓ_اورصحابہؓ کی جوڑی سے ہیں۔

پھر دیکھا کہ آسمان میں طاغوت اور شیطان کا مقابلہ ستارے کر رہے اور شہاب ثاقب کی صورت میں شیاطین کا پیچھا کرتے ہیں۔۔

اور زمین میں کفر اور طاغوت کا مقابلہ زمین کے ستاروں صحابہ کرامؓ نے کیا
چاہے وہ پھر بدر کا میدان ہو یا احد کا میدان ہو ۔
جنگ کی آگ خیبر میں بھڑکی ہو یا حنین میں زمین کے ستاروں کا مقابلہ قابل داد تھا ۔
یہی تو وجہ تھی کہ بدر کے میدان میں آفتاب نبوتﷺ اپنے ستاروںؓ کیلئے تڑپتے نظر آئے اور رب کے حضور گڑ گڑا رہے تھے۔
اللهم إنجزلي ما وعدتني اللهم إن تهلك هذه العصابة من اهل الإسلام لا تعبد في الأرض
یعنی یااللہ مدد فرما اگر یہ گروہ نہ بچی تو تیری عبادت زمین پر نہیں ہوگی۔

واہ قربان اپنے صحابہؓ پر۔۔۔

میدان حدیبیہ کا ہے قرآن مدح سرائی فرماتے ہیں
لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة

یعنی کہ اللہ راضی ہوا ان لوگوں سے جنہوں نے بیعت کردی۔

خود آفتاب نبوتﷺ مدح صحابہؓ عام کرتے ہوئے فرماتے ہیں
أصحابي كالنجوم فابيهم القتديتم اهتديتم

اور قرآن میں اللہ معیار حق صحابہؓ بنا کر فرماتے ہیں
فإن آمنوا بمثل ما امنتم به فقدهتدوا

واہ صحابہؓ
سلام صحابہؓ
قربان صحابہؓ

اللہﷻ کا قرآن ہو یا رسول اللہﷺ کا فرمان ہو۔
جو بھی کھول کر دیکھو مدح صحابہؓ عام ہوگا

بمناسبت 11 جنوری تا 18 جنوری
والسلام