پاکپتن میں خاتون ڈی پی او کے سر پر دست شفقت رکھنا بزرگ شہری کا جُرم بن گیا جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔

0
44

پاکپتن میں خاتون ڈی پی او کے سر پر دست شفقت رکھنا بزرگ شہری کا جُرم بن گیا جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
پاکپتن (سلطان نیوز)تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی عارف والا کے ہال میں خاتون ڈی پی او ماریہ محمود کی کُھلی کچہری میں انجمن صدر کے 85 سالہ رہنما صوفی محمد رشید نے ماریہ محمود کے سر پر دست شفقت رکھنا چاہا تو ان کا یہ تاثر ڈی پی او ماریہ محمود کو ناگوار گزراماریہ محمود نے تاجر رہنما کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف تمہاری عمر کا لحاظ کیا ہے۔ جس کے بعد بزرگ رہنما کو حراست میں لے لیا گیا۔ ڈی پی او کے ناروا رویے پر تاجران نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا۔جس پر رات گئے آر پی او ساہیوال نے معاملے کا نوٹس لیا جس کے بعد بزرگ تاجر رہنما کو چھوڑ دیا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے برزگ شہری صوفی محمد رشید کے خلاف جو مقدمہ درج کیا اُس میں ڈی پی او کی کھُلی کچہری، خاتون ڈی پی او کی بزرگ تاجر رہنما سے تلخ کلامی اور موقع سے ہی بزرگ صوفی محمد رشید کی گرفتاری کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا۔ مقدمے کے مطابق ایس ایچ او نے موقف اختیار کیا کہ جب وہ غلہ منڈی میں ٹریفک کھُلوانے گیا تو بزرگ شہری صوفی محمد رشید نے غنڈے بلا لیے جنہوں نے ہاتھا پائی کی ، فون چھین لیا اور پولیس اہلکار کی وردی کے بٹن ٹوٹ گئے۔
پولیس کا موقف مسترد کرتے ہوئے صوفی محمد رشید نے کہا کہ میں نے خاتون ڈی پی او کے سر پر ہاتھ کر رکھ کر پیار دینے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔اور مجھے کہا کہ میں بزرگ ہونے کی وجہ سے آپ کا لحاظ کرتی ہوں۔جس کے بعد میرے اوپر ایک بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی اور مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ تھانہسٹی عارف والا کے ایس ایچ او محمد عمران نے اس حوالے سے موقف دینے سے ہی انکار کر دیا۔ تاجر برادری نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ تاجر رہنما کی رہائی کافی نہیں ،پولیس ان کے خلاف دائر کیا جانے والا بے بنیاد اور جھوٹا مقدمہ بھی خارج کرے بصورت دیگر شہر بھر میںاحتجاج اور ہڑتال کی جائے گی۔