10 جنوری 1991 یوم شھادت جرنیل اول ممبر قومی اسمبلی مولانا محمد ایثار القاسمی شھید ایم این اے جھنگ، مکمل تعارف، پڑھیے سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔۔ مکمل تفصیلات پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
273

10 جنوری 1991 یوم شھادت جرنیل اول شعلہ خطیب ممبر قومی اسمبلی مولانا محمد ایثار القاسمی شھید ایم این اے جھنگ

آپ کا تعارف

3اکتوبر 1964کو پنجاب کی زرخیز سرزمین کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے ایک گاؤں میں “رانا عبدالحمید ” کے گھر ایک سعادت مند فرزند ارجمند پیدا ہوا.
گھر والوں نے اسے “ایثار” کا نام دیا اور قدرت نے اسے “اسم بامسمی ” بنادیا………..

یہی بچہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کا کم عمر ایم این اے بن کر شہید ناموس اصحاب وازواج پیمبر, جرنیل سپاہ صحابہ علامہ ایثار القاسمی شہید کے نام اور تعارف سے معروف ومشہور ہوا…..

تعلیمی سفر اپنے آبائی علاقے سے شروع کیا اور لاہور میں میں تکمیل ہوئی………..

لاہور میں کچھ عرصہ تدریس کے بعد 1985میں اوکاڑہ سٹی میں “مسجد صدیقیہ” میں بحثیت امام تقرر ہوا ,

کچھ ہی عرصہ بعد اوکاڑہ ریلوے سٹیشن کے بالمقابل انوریہ مسجد میں تدریس شروع کی اور اسی مسجد میں خطابت کی ذمداری بھی سنبھالی……..

(یاد رہے کہ اس مسجد کی بنیاد فاضل دیوبند مولیٰنا عبدالحنان صاحب رح نے رکھی تھی جو مولیٰنا محمد امین صفدر اوکاڑوی رح کے بھی استاذ تھے. مقامی طور پر اہل بدعت کےساتھ حالات کشیدہ ہوئے تو اہل بدعت کے ہاتھوں مولیٰنا عبدالحنان صاحب کے بیٹے اور داماد شہید ہوگئے……..
حضرت کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے………… رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً وّاسعہ
یہ مسجد اور مدرسہ آج بھی موجود ہے اور درجہ سابعہ تک تعلیم دیجاتی ہے………..
اسی مسجد کے منبر پر بیٹھ کر قاسمی صاحب جمعے کا خطبہ دے رہے تھے کہ بیان کے دوران اہل بدعت کی شہ پر ایس ایچ او مداخلت کرنے کی کوشش کی تو قاسمی شہید رح نے مُکہ مارکر اسکے دانت توڑ دیئے تھے……
تب آپ سپاہ صحابہ پنجاب کے ذمدار تھے.

تحدیث بالنعمت کے طور پر عرض کروں کہ مجھے چندسال قبل اسی مسجد میں مدرسہ کے سالانہ پروگرام میں شرکت کی سعادت ملی تو اگلے روز مہتمم صاحب نےفجر کی نماز کی امامت کا کہا تو یہ سوچ کر مصلی امامت پر چلاگیا کہ یہ منبر ومحراب مولیٰنا ایثارالقاسمی شہید رح کے سجدوں کا گواہ ہے, اس موقع کو اپنے لئے سعادت سمجھوں)

ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کی ایک راجپوت فیملی میں آپکی شادی ہوئی………
شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ جنت کا بلاوہ آگیا……
آپ نےکوئی اولاد نہیں چھوڑی,

آپکی اہلیہ محترمہ آپکے بعد بھی جھنگ میں ہی رہیں اور گذشتہ سال انکی وفات ہوئی……
اللہم اغفر لہا وارحمہا وعافہا واعف عنہا

ضلع ساہیوال کے ایک جلسے میں امیر عزیمت حضرت مولیٰنا حق نواز شہید رح سے ملاقات ہوئی اور پھر انہی کے ہوکر رہے……

حضرت امیرعزیمت رح کی شہادت کی خبر ملی تو رات تین بجے اوکاڑہ سے جھنگ روانہ ہوئے……
اور جنازے کے بعد مشتعل ہجوم اور غمزدہ کارکنوں کو سنبھالے رکھا…..

6مارچ 1990 کو قائد ملت اسلامیہ مورخ اسلام حضرت مولیٰنا ضیاء الرحمن فاروقی شہید رح جماعت کے سرپرست اعلی منتخب ہوئے تو انہوں نے مولیٰنا ایثارالقاسمی شہید کو مسجد حق نواز شہید کے منبر ومحراب کی ذمداری سپرد کردی ……
آپ نے ایک ہفتے بعد 15مارچ1990کو باقاعدہ اپنی ذمداری سنبھالی اور مرشد جھنگوی کے لب و لہجے میں مرکز حق وصداقت سے اسی طرح حق وصداقت کی صدا بلند کی کہ اہل جھنگ بے ساختہ کہنے لگے کہ

قاسمی تیرے روپ میں
جھنگوی کی تصویر ہے

عام انتخابات میں جماعت کے فیصلے کے مطابق حصہ لیا ,جمیعت علماء اسلام درخواستی گروپ کے کوٹے سےمولیٰنا سمیع الحق شہید رح نے آئی جی آئی کا ٹکٹ دیا
بھرپور طریقےسے انتخابی مہم چلائی اور جاگیر داروں کو پریشانی میں مبتلا کردیا..

الیکشن کے بالکل قریب آپ کو زہر دیا گیا مگر اللہ کے فضل وکرم سے فوری قے آنے کی وجہ سے آپ محفوظ رہے…….

جھنگ کے مظلوم اور محروم عوام نے اپنے دکھوں کا مداواآپکی صورت میں محسوس کیا اور بھرپور پذیرائی بخشی , جھنگ کے گلی کوچوں میں یہ نعرہ گونجنے لگا کہ

اسمبلی میں لازمی
قاسمی قاسمی

اہل جھنگ نے خون حق نواز سے وفا کی, آپکی محنت رنگ لائی اور آپ قومی اور صوبائی دونوں حلقوں سے ہی کامیاب ہوئے اور حقیقت یہ ہیکہ “حق نواز “جیت گیا……

اپریل 1990کو دوبئی اور قطر کا ایک ہفتے کادورہ کیا ,

جون 1990کو عراق حکومت کی دعوت پر پاکستان کی نامور شخصیات کے ساتھ عراق کا دورہ کیا……

دسمبر 1990کو کویت اور عراق کی کشیدگی کے دوران عراق کا دوسرا دورہ کیا,

واپسی پر حرمین شریفین کی زیارت اور عمرہ کیا.

وطن واپس آکر اسمبلی میں پہلا اور آخری یادگار خطاب کیا……..

جھنگ کے کشیدہ حالات میں ہاتھ میں لالٹین اور کندھے سے کلاشنکوف لٹکا کر تاریک راتوں میں جھنگ کی گلیوں میں گشت کیا …….

اسی دوران ملک میں ضمنی انتخابات کا شور اٹھا اور جھنگ میں ایرانی کمانڈوز کے داخلے کی اطلاع ملی…….

1991جنوری کے اوائل میں جھنگ سٹی کے ” گیارہ سالہ شہید” کارکن کی نماز جنازہ پڑھانے تشریف تو آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے………

خطاب کرتے ہوئے فرمایا…….

” میں جھنگ میں اہلسنت کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گیا ہوں.
جھنگ کے لوگو………..
اب میری زندگی میں تمہیں کسی سنی نوجوان کا جنازہ نہیں اٹھانا پڑے گا. میں غریب سنی کارکن کے قتل سے پہلے خود شہادت قبول کرنا بہتر سمجھتا ہوں ”

آہ………..

ایک ولی کامل کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ خدائے واحد وبے نیاز نے پورے کردیئے کہ اسکے بعد آپکی زندگی میں کسی کا جنازہ نہیں اٹھا, بلکہ آپ خود ہی جام شہادت نوش فرماکر اپنے قول کو پورا کرگئے……

شہادت سے ایک روز پہلے.

شہادت سے ایک روز پہلے بدھ کے دن 22جمادی الثانی کو سپاہ صحابہ نے ملک بھر مدح صحابہ کے مطالباتی جلوس نکالے, حضرت فاروقی شہید رح پشاور میں جلوس قیادت فرمارہے تھے اور آپ نے کراچی میں جلوس کی قیادت کرنی تھی مگر ضمنی الیکشن کی مصروفیات اور جھنگ کے حالات کی وجہ سے آپ جھنگ میں ہی رہے … .

اگلے روز دوپہر کو پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کررہے تھے کہ سوچی سمجھی سازش اور پلاننگ کے تحت آپ شہید کردیئے گئے…….

اس سے اگلے روز جمعے کے بابرکت دن میں معروف روحانی شخصیت پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ کی امامت میں آپکی نماز جنازہ ادا کی گئی……..

مرشد پاک کے پہلو میں مرقد بنا حضرت فاروقی شہید رح نے قبر میں اتر کر مٹی برابر کی اور سپاہ صحابہ کے حسین پرچم میں لپٹا حسین نوجوان مرشد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا….. .

3اکتوبر 1964کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے,
اوکاڑہ نے متعارف کیا,
جھنگ نے عروج بخشا…….

10جنوری 1990 کو اہل جھنگ سے وعدہ وفا کرتے ہوئے جھنگ کی باوفا مٹی میں مرشد کے پہلو میں سکون کی نیند سوگئے…….

پہنچی وہیں پہ خاک جس کاخمیر تھا .

دنیا سے لاولد جانے والے میرے جرنیل کی روحانی اولاد لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر موجود ہے……
اور اپنے روحانی والد کا مشن اور کاز سنبھالے ہوئے ہے.

اللہم اغفر لہ و ارحمہ وعافہ واعف عنہ یاارحم الراحمین.

جھنگ اور قرب وجوار کے لوگوں پراس باوفاانسان کی وفاؤں کا قرض ہے کہ اس کی یاد میں ہونے والی “جرنیل اول کانفرنس ” کو بھرپور طریقےسے کامیاب کریں.

#نوٹ

اس مضمون کا تمام مواد برادر محترم میرے مشفق مہربان مولیٰنا ثناءاللہ سعد کی کتاب سے لیاگیا ہے.
حسن اتفاق ہے کہ جب مضمون لکھنے بیٹھا تو عین اسی وقت مولیٰنا ثناء اللہ سعد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کال آئی گئ……
پوچھا کیا ہورہاہے ؟؟؟؟ تو عرض کیا کہ آپکی کتاب سے استفادہ کرکے کچھ لکھ رہاہوں………

ان سے مزید کچھ باتیں ملیں.. اللہ پاک موصوف کو اپنی شان کے مطابق اجر عطاء فرمائے اور دوجہانوں میں خوش رکھے………..

آخر میں یہ کہتے ہوئے اجازت کہ……

اے حاکم وقت نہ ظلم تُو ڈھا ہم لوگ بڑے دیوانے ہیں
ہے ریت پرانی کہ ہم نے زنداں میں ترانے گائے ہیں

جب نام سپاہ صحابہ ہے جب کام دفاع صحابہ ہے
پھر موت وحیات ہیں یکساں یاں سب فاصلے ہم نے مٹائے ہیں

جھنگوی و فاروقی, قاسمی کو تم راہ سے ہٹاکر دیکھ چکے
اک جھنگوی گر پس خاک گیا تو لاکھوں جھنگوی آئے