چنیوٹ ۔۔پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی۔تصویر کا دوسرا رخ ۔۔مخدوم زیدی کے قلم سے۔۔۔ سلطان نیوز پر

0
99

محکمہ کوئی بھی ہو اس میں مثبت و منفی دو نوں کردار کے لوگ موجود ہوتے ہیں اچھائی کے ساتھ برائی اگر نہیں ہوگی تو پھر اچھائی کا پتا کیسے چلے گا محکمہ پولیس کا شمار بھی ایسے محکموں میں ہوتا ہے جس کے بارے میں عام فہم شخس کی رائے بھی اچھی نہیں ہوتی یہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ محکمہ میں جہاں اچھے آفیسرز کی کمی نہیں ہے وہیں برے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہے اپنی 37 سالہ صحافتی زندگی میں بے شمار پولیس والوں سے واسطہ پڑا کچھ تجربات بہت اچھے رہے تو کچھ ایسے بھی تھے جو تکلیف دہ رہے ابھی حال ہی میں چند دن پہلے ایک خبر نظر سے گزری جس پر بطور صحافی مجھے اپنی رائے دینی چاہیے تھی مگر پاکستان گروپ آف جرنلسٹس ڈسٹرکٹ بھکر اور پھر چنیوٹ میں تقریبات کی مصروفیات کے سبب اس بارے میں کچھ لکھ نہ سکا دوسرا مجھے اس بارے میں معلومات بھی نہیں تھیں اسی مصروفیت کی وجہ سے کل شب کچھ فرصت ملی تو ’’جی ایم جپہ اے ایس آئی ‘‘کی خبر پر کچھ اپنے طور پر معلومات حاصل کیں تو حقائق کچھ اور نکلے جن کے بارے میں اپنے فیس بک دستوں کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں
واقعہ کوئی بھی ہو اس کے دو پہلو ہوتے ہیں مثبت اور منفی اس واقعہ کے بھی دو پہلو ہیں پہلا اور اہم پہلو یہ کہ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کی جن کے خلاف چناب نگر کے تھانے میں چوری کی ایف آئی آر بھی درج تھی تو منشیات فرشوں نے مبینہ طور پر خود کو بچانے کے لیے اپنی خواتین کو آگے کردیا جنہوں نے پہلے پولیس والوں کو تگنی کا ناچ نچایا اور تشدد کیا جس کے جواب میں پولیس کا ایکشن میں آنا فطری تقاضا تھا جی ایم جپہ معقول اور اچھی شہرت کا حامل پولیس آفیسر ہے ان کے والد صاحب بھی اچھے پولیس آفیسر تھے جنہوں نے اپنی پوری ملازمت بہترین انداز میں گزاری جی ایم جپہ کو بہت کم غصے کی حالت میں دیکھا ان سے جتنی ملاقاتیں ہیں ان میں جی ایم جپہ انتہائی ملنسار اور محبت کرنبنے والے دکھائی دیئے
سوچنے کی بات ہے آخر ایسا کیا ہوا کہ جی ایم جپہ جیسے ٹھنڈے اور متحمل مزاج آفیسر کو ایسا قدم اٹھانا پڑا اور خواتین پر ہاتھ اٹھایا ؟جب انہی خواتین نے پولیس والوں پر تشدد کیا تو کسی نے وہ مکمل ویڈیو نہیں بنائی اگر وہ مکمل ویڈیو بنی ہوتی (یا اگر بنی ہے تو متعلقہ لوگوں نے اس کو اپنے مفادات کے مطابق شیئر کیا)اس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کیسے مبینہ طور پر منشیات کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث صحت مند خواتین نے پولیس کو گھسیٹا جیسے اپنے شہباز شریف صاحب نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا وعدہ کیا تھاخواتین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر تشدد اور انسلٹ نے ان کو جوابی اقدام کے لیے مجبور کیا جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا جی ایم جپہ جو پولیس فورس کی قیادت کررہے تھے وہ اپنے آفیسرز بالا سے رابطہ کر کے اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کرتے تاکہ ان کے علم میں یہ معاملہ ہوتا جہاں تک وزیرا علیٰ پنجاب کا تعلق ہے وہ اللہ لوک بندے ہیں میڈیا پر خبریں نشر ہوئیں توکسی نے کندھا ہلا کر کان میں کہا ہوگا ’’سائیں چنیوٹ پولیس بڑا ظلم کیتا اے فوری طور تے ایکشن گھنو ایہہ ناں ہووے کم خراب تھی ونجے ‘‘بس پھر کیا تھا سوئے ہوئے نشیلی آنکھوں والے وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر حکم شاہی صادر کردیا اور جی ایم جپہ سمیت دو پولیس اہلکاروں کو نہ صرف حوالت کا ہوا کھلا دی بلکہ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگیا دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ منشیات فروش اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوگئے اور ایک چھوٹے سے مسئلے کو بنیاد بنا کر ان کو یہ جواز فراہم کردیا گیا اور ایک لائن آف ایکشن دے دی گئی جیسے مرضی ہے منشیات بیچو نوجان نسل کو تباہ کرو جب بھی پولیس پکڑنے آئے تو کسی کے ہاتھ میں موبائل تھما کر اس پر ہونے والے تشدد کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا کو بھی ماچس پکڑا کے ساتھ میں پیٹرول کی کین تھما دیں باقی کام لاہور کی شاندار عمارت میں قید سادہ لوح وزیرا علیٰ عثمان بزدار کے مشیر ان سے کروا لیں گے
میں سمجھتا ہوں جی ایم جپہ جیسے تعلیم یافتہ پولیس آفیسر کا رویہ خواتین کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اسلام میں تو کافر عورت کے بارے میں بھی سخت احکامات ہیں آپ ﷺ تو غیر مسلم خواتین کے سروں پر بھی چادریں اوڑھایا کرتے تھے یقیناً جی ایم جپہ جیسے متحمل اور دھیمے مزاج شخص کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوچکا ہوگا مستقبل میں وہ کوشش کریں گے کہ اپنی نوکری سکون سے گزاریں زیادہ ایفیشینسی دکھانے کا جرات نہیں کرے گا کیوں کہ پنجاب کا وزیرا علیٰ کانوں کا کچا ہے اور اس کے مشیر اس کو دن رات الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے ہیں جی ایم جپہ اور دیگر دو پولیس ملازمین یقینا اس مسئلے نکل تو آئیں گے انکوائری ہوگی جس میں سب حقائق سامنے آجائیں گے مگر جو کردار کشی جی ایم جپہ کی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ہوچکی ہے وہ کیسے کلیئر ہوگی یہ سوال سوچنے کا ہے ؟