سکول ٹیچر رول ماڈل بنیں۔۔۔۔اہم تدریسی اصول۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔۔انتخاب۔۔۔۔شیخ علی عدنان

0
111

*❤اگر آپ #استاد ہیں❤*

…….. نہایت اعلی تحریر………

پڑھائے گا وہی جسے پڑھانا آتا ہے……….
ہر قابل شخص قابل استاد نہیں بن سکتا………

اگر آپ ” زبان (لینگویج) ” پڑھاتے ہیں اس کے باوجود آپ کا شاگرد بد زبان اور بدگو ہے تو آپ کو زبان پڑھانے کے بجائے زبان ” سکھانے ” کی فکر کرنی چاہیے………..

آپ نے بچے کو ریاضی کا ہر سوال حل کرنے میں ماہر بنا دیا لیکن اگر وہ اپنی زندگی کے معمولی مسائل تک حل نہیں کرسکتا تو پھر آپ کو سوچنا چاہیے کہ آپ نے ریاضی تو اس کے لیے آسان کردی ہے لیکن زندگی مشکل کرگئے ہیں……….

میرا ٹیچنگ میں جتنا بھی تجربہ ہے میں نے یہ سیکھا ہے کہ بچہ کتاب سے کچھ بھی نہیں سیکھتا………
کتاب تو ایک بے جان چیز ہے وہ بھی نصاب کی کتاب……….
……..سکھاتا تو استاد ہے…….

آپ قرآن کی مثال لے لیں بھلا اس سے زیادہ اور کوئی کتاب کیا پُر اثرکتاب ہوگی؟؟؟؟؟
لیکن ہمارے لیے………
” رول ماڈل ”
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت مبارکہ ہے.
تب ہی قرآن کی آیات ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں……….

آپ بچے کو جو کچھ سکھانا چاہتے ہیں وہ بن کر دکھا دیں بچہ خود سب کچھ سیکھ لے گا……….
یاد رکھیں اگر استاد کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہے تو وہ طلبہ کو کوئی مقصدیت نہیں دے سکتا_________
اگر استاد کی اپنی زندگی ہی بے معنی و بے مقصد ہو تو بھلا وہ اپنے طلبہ کی نیا پار لگانے میں کب کامیاب ہو سکے گا؟؟؟؟؟

سب سے اہم مسئلہ سننے اور سنانے کا ہے……….
اساتذہ کے اندر سنانے کی لگن ہوتی ہے………
وہ کھری کھری بھی سناتے ہیں اور بعض دفعہ اتنا سناتے ہیں کہ بھری کلاس میں بچے کی”عزت نفس” تک مجروح ہوجائے…………
لیکن سننے کی تڑپ اور جستجو ان میں نہیں ہوتی ہے_______
بلکہ وہ بچوں کی سنتے بھی سنانے کے ہی لیے ہیں……….
جو اساتذہ بچوں کو سمجھنے کے لیے سنتے ہیں کانوں سے نہیں بلکہ دل کے کانوں سے سنتے ہیں………..

………. اور وہ بچوں کے دل میں اتر جاتے ہیں………

اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے آپ کا احترام کریں ” تکلف” کے لیے نہیں دل سے اٹھ کر آپ کا استقبال کریں تو پھر آپ کو انھیں دل سے سننا پڑے گا………..

بچوں کے لیے عام طور پر وہ مضمون خود بخود دلچسپ بن جاتا ہے جس مضمون کا استاد ان کے لیے دلچسپ بن جاتا ہے………..

آپ کی ٹیچنگ کی انتہا اور معراج یہ ہے کہ بچے ” فری پیریڈ ” میں آپ کو خود بلانے آجائیں اور جب آپ کلاس سے جانے لگیں تو ان کو تشنگی محسوس ہو………..

آپ جیسے ہوتے ہیں ویسی ہی “شعاعیں” آپ میں سے نکلنے لگتی ہیں سورج کو بتانا نہیں پڑتا ہے کہ میں نکل گیا ہوں صبح ہوگئی ہے……….

پھول اعلان نہیں کرتا ہے کہ میں کھل گیا ہوں اس کی خوشبو پورے باغ کو بتا دیتی ہے کہ کوئی پھول آج کھل گیا ہے………

——–بالکل اسی طرح اگر آپ واقعی قابل استاد ہیں تو پھر طلبہ کو آپ میں سے وہ شعاعیں ہر لمحہ پھوٹتی محسوس ہونے لگیں گی——–

___اگر آپ استاد نہیں ہیں اور حادثاتی طور پر ٹیچنگ میں
آ گئے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کو اپنا شوق بھی بنالیں_________
■غالب فرماتے ہیں کہ■
” بندہ کام سے تھک جاتا ہے محبت سے نہیں تھکتا۔”

اس لیے کام سے #محبت کرلیں……….
اس کے بے شمار فوائد ہیں……..
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو ” اطمینان قلب ” نصیب ہوجائے گا……….
یہ خدا کی وہ نعمت ہے جو دنیا میں کسی کسی کو ہی ملتی ہے________
دوسرا آپ کی سیکھنے کی لگن بڑھ جائے گی……..
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ آپ کو اتنی عزت دے گا کہ شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو………
استاد کو سب سے بڑا فائدہ جو اللہ دیتا ہے وہ یہ کہ اس کے رزق میں برکت ہوجاتی ہے……..

………آپ استاد ہیں تو پھر لوگوں کے دل اور خدا کی رضا دونوں آپ کے منتظر ہیں.
منقول.