استاد کی عزت خاک میں مل گئی۔۔تھانیداروں نے ٹیچر کارڈ کی درگت بنادی۔۔۔ٹیچرآصف امین کا چشم کشا واقعہ۔۔۔سلطان نیوز پر

0
71

عنوان *استاد کی عزت*

یہ تحریر بروز منگل 8 جنوری 2019 کو میرے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر لکھ رہا ہوں
استاد کا معاشرہ کے اندر بہت مقام ہے 2018 کے احتتام پر گلوبل ٹیچر سٹیٹس انڈیکس نے ان 35 ممالک کی فہرست جاری کی جہاں اساتذہ کا بہت مقام ہے ان میں سر فہرست چائنہ اور سب سے آخر میں برازیل تھا لیکن پاکستان اس میں شامل ہی نہیں تھا اسکی وجہ آپ احباب بھی جانتے ہیں
اب اصل بات کی طرف آتے ہیں میں نے کچھ دن پہلے نئی موڑسائیکل خریدی ہے 3 جنوری کو میں نے رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا اور ایجنٹ کے مطابق 09 جنوری کو مجھے مکمل کاغذات ملنا ہیں
کسی کام کے سلسلہ میں آج اسی موڑسائیکل پر الاآباد اپنے ایک دوست ساتھ گیا تھا شام کے وقت واپسی پر الاآباد بائی پاس پر پولیس کا ناکہ لگا تھا وہاں روکنے پر میں نے موٹرسائیکل ایک طرف لگا دی افضل نامی کانسٹیبل نے پاس آ کر موٹرسائیکل کی چابی نکال لی میں نے اس کو تعارف کروایا کہ میں ایک سکول ٹیچر ہوں کچھ دن پہلے نئی لی ہے اور نمبر کے لیے اپلائی کیا ہے کل بدھ والے دن نمبر آجائے گا اس نے کہا وہاں تھانیدار کے پاس چلو میں اپنے دوست کے ساتھ گاڈی میں بیٹھے تھانیدار صاحب کے پاس گیا انکو میں نے اپنا سروس کارڈ نکال کر دیا کارڈ دیکھ کر تھانیدار نے پوچھا کون سے محکمہ سے میں کہا سر اوپر کارڈ کے لکھا ہے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کہتا اچھا اچھا تھانہ جاو اور ایس ایچ او کو دکھاو جا کر
کانسٹیبل افضل موٹرسائیکل پر بیٹھا اور کہنے لگا خود ای لفٹ لے کر تھانہ الاآباد آجاو میں اس کو کہا آپ گاڈی لے کے جا رہے ہیں کوئی رسید وغیرہ بنا کر دو تو بد تمیزی کرتا ہوا موٹرسائیکل بگا کر لے گیا
میں تھانیدار صاحب کو بتایا یہ کیا طریقہ ہے آپ سامنے کیسے وہ بدتمیزی کر کے چلا گیا ہے اس بات پر تھانیدار بھی بدتمیزی پر اتر آیا ہم آپ کے ملازم ہیں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں وغیرہ
اس بات پر میں نے کہا آپ ملازم ہیں اور ہم بھی زرا طریقے سے بات کرو اب تھانیدار نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر لیا کہ جاو تھانے ایس ایچ او سے لو
اب وہاں پر کچھ دیر انتظار کے بعد لفٹ لے کر تھانے پہنچ کر میں خود ایس ایچ او نصراللہ بھٹی صاحب کے آفس گیا یہ زندگی میں پہلی مرتبہ تھانہ گیا تو کافی شرم ساری بھی محسوس ہوئی انکے پاس جا کر سروس کارڈ انکے سامنے ٹیبل پر رکھا اور بتایا یہ معاملہ انہوں کارڈ دیکھنا گوارہ نہ کیا تو خود بتایا اس بات پر بھی انہوں نے کہا میں نہیں کر سکتا کچھ میں نے کارڈ پکڑا اور باہر آگیا ایک دوست سے رابطہ ہوا اس نے کہا پانچ سو روپے لگے گا ابھی مل جائے گی موٹرسائیکل لیکن میرا دل مطمئن نہ ہوا کہ ایسے ہی لینی ہے رشوت نہیں دینی دفتر سے
باہر آ کر سوچا میرے کچھ عزیز اور محترم ہیں گاوں کے جن پر مجھے بہت فخر اور گھمنڈ تھا کہ کبھی کوئی ضرورت پڑی تو نکال لیں گے ان کو سارا معاملہ بتایا لیکن ان کی جانب سے کوئی سنوائی نہ ہوئی تو میں اور میرا دوست واپس گھر آگئے

کل موٹرسائیکل کے کاغذات آ جائیں گے اور موٹرسائیکل بھی لیکن آج کے اس واقعہ نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا
۱_ کیا ایک گذیٹڈ آفیسر ٹیچر کی یہ حیثیت ہے ؟ کہ ایک ساتویں سکیل والا مین روڈ پر اسکی بے عزتی کر دے۔
۲_ کیا کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا؟
۳_ اور جن پر مان ہو وہی آپ کو ضرورت پڑنے پر کام نہیں آتے
۴_ یہ وہ اساتذہ کی عزت ہے جو چند دن پہلے مختلف اضلاع میں یہاں تک کہ اساتذہ کو سلیوٹ تک کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔
ان سب باتوں نے مجھے انسپائیر کیا ہے کہ صرف استاد لگ کر انکی اصلاح نہیں کی جا سکتی بلکہ انکے سسٹم کا حصہ بن کر انکی اصلاح کی جائے۔