سابق گورنر سندھ اور ن لیگ کے رہنما محمد زبیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کی کوشش، مکمل تفصیلات جاری جانیے اس لنک میں

0
135

سابق گورنر سندھ اور ن لیگ کے رہنما محمد زبیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کی کوشش کی گئی ہے تاہم لیگی رہنما تیزرفتاری سے گاڑی بھگا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ محمد زبیر پر حملے کے واقعے کی ایف آئی آر درج تاحال رجسٹر نہیں کی جا سکی۔ذرائع کے مطابق نا معلوم مسلح افراد نے محمد زبیر کو ڈیفینس کے علاقے میں روکا۔
سابق گورنر سندھ اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر جا رہے تھے۔محمد زبیر نے واقعے کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دی لیکن تا حال اس متعلق کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔کراچی پولیس کا کوئی بھی افسر محمد زبیر کے گھر نہ پہنچا۔پولیس کی ایک موبائل ایس ایچ او درخشاں ارشد جنجوعہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر سے بات کر کے روانہ ہوگئے۔
اس سے قبل درخشاں پولیس فوری طور پر واقعہ سے لاعملی کا اظہار کرتی رہی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد زبیر آج قانونی کاروائی کرنے کے لیے تھانے آئے تھے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل نے محمد زبیر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔حلیم عادل کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت افسوسناک واقعے پر مکمل و جامع تحقیقات کرے۔ان کا کہنا تھا کہ محمد زبیر اور ان کے اہل خانہ پر حملہ بزدالانہ کاروائی ہے۔پولیس کو بے اختیار کرنے والے امن دشمن بن چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔سندھ حکومت وساقعے کے ملزمان کو فوری کیفر کردار تک پہنچائے۔واضح رہے محمد زبیر پر کراچی میں حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔محمد زبیر پاکستان مسلم لیگ ن کے متحرک رہنما ہیں جب کہ سندھ کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں جب کہ ان کے چھوٹے بھائی اسد عمر تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور اس وقت وفاقی وزیر خزانہ ہیں۔