نئی حکومت نے نومبر2018 میں613 ارب روپے قرض لیا، حکومتی قرضوں کا حجم کہاں تک پہنچ گیا؟؟ مکمل تفصیلات جاری جانیے اس لنک میں

0
150

وفاقی حکومت نے نومبر2018 میں613 ارب روپے قرض لیا، نومبر میں حکومتی قرضوں کا حجم 26 ہزار452 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، حکومتی قرضوں میں 17322 مقامی اور 9129 ارب بیرونی ذرائع سے حاصل ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے نومبر2018 میں613 ارب روپے قرض لیا ہے۔ نومبر2018 کے اختتام پرحکومتی قرضوں کا حجم 26 ہزار452 ارب روپے ہوگیا ہے۔
مقامی سطح پرحکومت نے 162ارب روپے قرض لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ حکومت نے نومبر میں بیرونی ذرائع سے 450 ارب روپے قرض لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں میں17322 مقامی اور 9129 ارب بیرونی ذرائع سے حاصل ہوئے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مجاز ڈیلروں کو خام مال، معاونتی اشیا اور پرزے درآمد کرنے کی غرض سے درآمد و برآمد کنندگان کی طرف سی 10000 ڈالر فی انوائس پیشگی ادائیگی کے لین دین کی اجازت دے دی ہے۔
قبل ازیں جولائی 2018ء میں اسٹیٹ بینک نے پیشگی ادائیگی کی سہولت پر پابندی عائد کردی تھی، جو درآمد کنندگان کو پہلے مجاز ڈیلروں کے ذریعے دستیاب تھی۔ تاہم ایوان صنعت و تجارت، تجارتی ایسوسی ایشنز اور وزارتِ تجارت کی مداخلت پر پابندی کو اس حد تک نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ برآمد کنندگان جنہیں اپنی برآمدات کے لیے خام مال اور معاونتی اشیا درکار ہوتی ہیں، انہیں یہ سہولت مل سکے۔ اس اقدام سے برآمدی ماحول میں بہتری کی توقع ہے۔ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے جولائی سے دسمبر تک انتہائی کم ٹیکس اکٹھا کیا۔ حکومت نے 175ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ ڈالر بڑھنے سے گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔