پاکستانی سیاست میں طلبہ کا کردار۔۔۔ تحریر:حافظ ملک توصیف اعوان

0
210

پاکستانی سیاست میں طلبہ کا کردار۔۔۔
تحریر:حافظ ملک توصیف اعوان۔

ایک ترقی یافتہ ملک کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کے اس ملک کے نوجوان پڑھے لکھے ہوں۔تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو انسان کی شخصیت کو معاشی اور مذہبی طور پر بہتر بناتا ہے۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں طلبہ تنظیموں کو سیاسی لوگ صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پہلے تو ان سے پارٹی کے لئے کام کروائے جاتے ہیں۔جہاں کہیں کوئی لیڈر آ رہا ہو وہاں ان نوجوانوں سے تپتی دھوپ میں ڈیوٹی لی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ سیاست دان ہیں جو طلبہ کو آگے نہیں آنے دیتے۔ ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نوجوان لیڈر اسمبلی میں لے کر ائیں گے اور جسے ہی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے انہیں نا اہل سیاسی لوگوں کو ٹکٹ دے کر عوام کو پھر پاگل بنا دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سیاست اس وقت امیر اور دولت مند طبقات کے مفادات کا کھیل بن چکی ہے۔ اگر ملک میں بڑی جماعتوں کے ریکارڈ دیکھےجائیں تو ہر جماعت کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت میں، ایسے لوگوں کی  لمبی قطار شامل ہے جو اپنے مفاد کی خاطر ایک سے زائد جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں۔جب تک اس ملک میں نوجوانوں کو سیاست میں لا کر انھیں پاکستان کی تاریخ بدلنے کا موقع نہیں دیا جاۓ گا اور جب تک اس موروثی سیاست کو ختم نہیں کیا جاۓ گا تب تک پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتا۔یہاں یہ نااہل سیاست میں آ کر امیر سے امیرتر ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ نوجوان جو تپتی دھوپ میں الیکشن والے دن اپنی ڈیوٹی دیتا ہے غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں۔اس لیے میں ملک کے تمام نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کے اپنا سیاسی قبلہ درست کریں اور ایسے سیاسی لیڈروں سے دور ہو جائیں جو اپنے مفاد کی خاطر ملک کی ترقی میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
میں آج اپنی اس تحریر میں نوجوان نسل کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ 1950سے لے کر 1980 تک، طلبہ ہی پاکستان میں جموریت کی بحالی،عام  آدمی کے شہری اور انسانی حقوق اور تعلیم کے فروغ کی جدوجہد کا ہراول دستہ تھے۔ یہ طلبہ ہی تھے جنہوں نے تعلیم عام کیے جانے اور غریب طبقات کے بچوں کی تعلیم تک رسائی کے لئے 8 جنوری 1953 کو اپنے سینے پے گولیاں کھائیں اور آٹھ نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔اس جلوس میں شریک ایک ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی بھی تھے جو اس وقت ملک کے ایک بہترین philanthoprist ہیں۔
تو جناب یہ ہیں طلبہ کی پاکستان کی ترقی کے لئے قربانیاں۔ اور میں ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کے 1990 کے عشرے تک آنے والی دوسری سطح کی قیادت اور کارکنوں کی بڑی کھیپ طلبہ یونین سے تربیت یافتہ ہوا کرتی تھی۔ مڈل اور لوور مڈل سے تعلق رکھنے والی یہ قیادت عوامی مسائل سے بہت اچھی طرح واقف ہوا کرتی تھی۔
اکیسویں صدی میں جوان ہونے والی نسل کے علم میں تاریخی حقائق یا تو ہیں نہیں یا پھر مسخ شدہ ہیں۔۔۔۔