بیٹے کی آمد کو منتظر نگاہیں (دستک ) کالم نگار عدیل ظفیرؔ

0
179

بیٹے کی آمد کو منتظر نگاہیں

دستک
کالم نگار عدیل ظفیرؔ

سرِ شام گلی میں آوازوں کا ایک شور برپا تھا، منچلوں نے ایک اودھم مچا رکھا تھا، پٹاخوں کا ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا، خوشیوں کا ایک حسین سنگم تھا، بہت سے چہروں پہ خوشی کہ اثرات عیاں تھے، اور کچھ لوگ زیر لب شور کرنے والوں کے والدین کو خوبصورت لفظوں میں یاد کر رہے تھے، بعض جگہ چھتوں اور دروازوں سے کچھ عورتیں اور برزگ یہ منظر دیکھ رہے تھے، میں جو کافی دیر سے اس جان لیوا ماحول سے نکلنا چاہتا تھا، سر راہ تیز قدموں سے اس شور وغل سے بے فکر اپنی منزل کی جانب چل رہا تھا، نا جانے کیوں میرے تیز قدموں میں آہستگی سی آ گئی_ میری نگاہوں کے سامنے ایک سفید ریش بزرگ کھڑے کسی کو متلاشی نظروں سے ڈھونڈ رہے تھے_

سفید کرتے، آنکھوں میں عینک، ہاتھوں میں عصا، سر پر سفید عمامہ پہنے یہ شخصیت آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سمندر لیے میرے سامنے کھڑے تھے، ان کے لب کھلنے سے قبل میں نے آگے بڑھ کر سلام کر دیا اور ان سے حال و احوال پوچھنے لگا، بڑے پرتباک لہجے سے مجھ سے ملے، اور محبت و شفقت سے پیش آۓ، ان سے ان کی منزل پوچھی اور ان کے بتاۓ راستے پہ ان کے ساتھ چلنے لگا، کچھ فاصلہ طے ہوا اور شور وغل سے نکلے تو میں نے یکدم ان کے آنسوؤں کا سبب پوچھ لیا، چلتے ہو روک گئے ایک دم رکنے سے میں بھی رک گیا میری جانب دیکھا اور چشمے اتار کر آنسوؤں کو پوچھنے لگے، اک لمبی سانس لی اور سر اٹھا کر فلک کی جانب دیکھنے لگے اور فورا ہی بولے_

بیٹا__ میں کسی کا منتظر ہوں، مدتوں سے اپنے لال کی آمد کا منتظر ہوں، سالوں سے راہ تکتے تکتے میری آنکھوں سے بینائی ختم ہو چکی، آج سے بہت برس قبل میں نے خداوند قدوس سے جیسے رو رو کر مانگا تھا، جس کی پیدائش پہ میں سمجھا تھا کہ دنیا کی ہر خوشی گویا مجھ مل گئی، جس کی خوشیوں کی خاطر میں نے دن رات ایک کیا، جس کے ایک لفظ ” بابا “ سننے کے لیے میں کتنا بے تاب رہا، رات کے پچھلے پہر جب کبھی اسے کے رونے کی آواز آئی میں تلملا اٹھا، اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا، جب کبھی بیمار پڑتا تو میری تو جیسی زندگی ہی ختم ہو جاتی، ناجانے اس کو جوان دیکھنے کے لیے میں کتنا بے تاب تھا، اس بڑھاپے میں اس کو اپنا سہارا سمجھتا تھا، یہ کہتے کہتے ان کی آواز مدھم سی ہو گئی، آنسوؤں سے ان کی گود اور ڈارھی مکمل تر ہو چکی تھی ان کی درد بھری آہوں،اور باتوں کو سنتے سنتے میری آنکھیں بھی بھیک چکی تھی تھیں_

اچانک وہ آنسو صاف کر کے میری جانب متوجہ ہوئے اور بولے میں اپنے گھر میں روز صبح شام ایک ماتم دیکھتا ہوں اپنی بیٹیوں اور بیوی کو اپنے لخت جگر، اور بھائی کی دوری میں روتے بلبلاتے دیکھتا ہوں ایک حرف تسلی بھی میرے الفاظ کے دامن میں نہیں ہوتا کہ کہہ پاؤں یا ان کہ سر پر تسلی اور حوصلے کا ہاتھ رکھوں_ اس لیے اپنے جگر کی یادوں کو لے کر سر شام یوں ہی بے نام و نشاں منزل کی جانب چل دیتا ہوں_

بیٹا میرا لال ایک دن ضروری کام کے لیے گھر سے نکلا تھا، سالوں بیت گئے لوٹ کر نہیں آیا کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں ناجانے کہاں ہو گا، مجھے علم ہے کہ وہ اس وطن کا درد اپنے سینے میں رکھتا تھا، اپنے ملک اور اس کے باسیوں سے محبت کا بھرم رکھتا تھا، اس کا جرم تھا صرف ” آمنہ کے لال کے یاروں کا تحفظ “ وہ صرف گواہان نبوت کے تحفظ کی بات کرتا تھا، بیٹا تم ہی بتاؤ کیا یہ جرم ہے، کیا یہ گناہ ہے____

یہ کہہ کر وہ بزرگ اپنی منزل کی جانب چل دیے، اور دیر تک میں بیٹھا وطن عزیز کے ان مجاہدوں، محافظوں اور اماں عائشہؓ کے ان گمنام بیٹوں کے بارے میں سوچتا رہا جن میں کچھ نے زمین کے کسی حصے کو اپنے پاک خون سے منور کیا،اور کچھ آج بھی پابند سلاسل ہیں، اور ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں_

ناجانے اس وطن کی کتنی مائیں بہنیں، بھائی اور والد اپنے لخت جگر کی راہ تکتے ہوۓ مثل یعقوب اپنے یوسف کی جدائی میں اپنی آنکھوں کی بینائی ہی گنوا بیٹھے، اور عمر شباب میں ہی بڑھاپے کے دامن میں جا پہنچے_ یہی سوچتے سوچتے ناجانے کتنی دیر میں وہی بیٹھا رہا اور انہی سوچوں کو لیے گھر کی جانب چل دیا____!