پریشان کسان ،ملک خوشحال ۔ محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال

0
181

پریشان کسان ،ملک خوشحال

کالم نگار ۔محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال

کریشنگ سیزن کا آغاز اللہ اللہ کرکے ہوا ۔حکومت نے 180 روپے فی من کا اعلان کر دیا ۔پھر دلال مافیا شوگر مافیا کی مدد کیلئے میدان میں آگیا ۔نرخ کے اعلان کو روند کر 160 روپے کسان کو دیئے جانے لگے ،وزن میں کنڈے میں نرخ میں ۔۔۔۔۔بے ایمانی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے غریب دیہاڑی باز پکڑا گیا بڑےپھر بچ گئے۔افسوس کا مقام ہے پاکستان ایک زرعی ملک اور کسان کش،کسان دشمن پالیسیاں ظلم عظیم ہے۔پورے ملک کو چھوڑیں جھنگ میں ایک وفاقی منسٹر،ایک وفاقی پارلیمانی سیکرٹری،ایک صوبائی وزیر ،ایک۔صوبائی مشیر ،ایم این اے ،ایم پی اے اور ڈپٹی کمشنر کے۔ساتھ چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر تین شوگر ملوں کو غریب کسان کے استحصال سے نہی روک سکتے؟؟؟؟؟پھر یہ ضابطے کس کام کے،پھر یہ ذمہ داران کس کام کے۔سیزن کے شروع ہوتے ہی کھادوں کے ریٹ،بیجوں کے ریٹ اور زرعی ادویات کے نرخ بڑھا دیئے جاتے ہیں۔تیار فصل پر بروکر ،دلال اور مڈل مین کسان کا استحصال کرنے میدان میں آ جاتے ہیں۔ملک کا پورا بھار ،وزن اٹھانے والا کسان فقیروں کی طرح ذلیل وخوار ہوکر اپنی جنس بیچے۔پوری ملکی مشینری تیار فصل چاہے گندم ہو ،چاہے کپاس ہو، چاہے گنا ہو اور چاہے سبزیاں ہوں مناسب قیمت اور عزت واحترام سے نہ فروخت کرا سکیں پھر یہ کس کام کہ۔۔۔۔۔اب گنے کی فصل کا عروج ہے لیکن کسان کی بے توقیری کا شباب ہے افسران کے دورے ،چھاپے پکڑ دھکر کا فائدہ اگر کسان کو ریلیف ملے وگرنہ کیا فائدہ ۔۔۔۔؟؟؟کاش حکام بالا کو سمجھ آجائے کہ کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا مارکیٹوں ،بازاروں پر رش ہوگا رونق ہوگی۔کسان پر عزم ہو گا خوش ہوگا قدرت بھی مہربان ہو گی۔قدرتی۔آفات بارشیں،سیلاب ،خشک سالی ،سیم وتھور بھی کم ہو جائیں گے۔جرائم کم ہوجائیں گے ۔ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔ڈالر کولگام لگ جائے گی۔
محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال