شور کوٹ: پسماندہ تحصیل تحریر رانا شبیر شورکوٹ

0
110

شور کوٹ: پسماندہ تحصیل

تحریر نوجوان لکھاری رانا شبیر شورکوٹ

شہر کی تاریخ آبادی سے باہر واقع ٹِبوں میں چُھپی ہوئی ہے
جھنگ شہر سے اٹھاون کلو میٹر جنوب میں واقع شور کوٹ ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔
حضرت سلطان باہو کے والد حضرت ابو زید محمد اور والدہ حضرت بی بی راستی صاحبہ کے مزارات اس شہر میں ہونے کی بنا پر اسے مائی باپ کاشہر بھی کہا جاتا ہے۔
تاریخ کھنگال کر دیکھیں تو شورکوٹ جھنگ سے بھی پرانی تاریخ رکھتا ہے۔
تاریخ دان بلال زبیری اپنی کتاب ‘تاریخِ جھنگ’ میں لکھتے ہیں کہ یہ شہر مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا جیسے کہ سمیر کوٹ، آشور کوٹ، ایشور کوٹ، شیو کوٹ، سور کوٹ، شور کوٹ وغیرہ۔
اُن کے مطابق یہاں موجود کھنڈرات ثابت کرتے ہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح میں بھی یہاں زندگی کے آثار موجود تھے۔
اس بارے میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ یہ شہر قدیم ترین قبائل سمیریوں، بابلیوں اور آشوریوں کے تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔
شہر کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ فرعون سیاستریس نامی سپہ سالار نے اس کی بنیاد دس ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے رکھی اور اپنے خدا کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اسے ایشور کوٹ کا نام دے دیا لیکن اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔
شور کوٹ میں داخل ہوتے ہی قدیم قلعہ “بھڑ” کے آثار واقع ہیں جو سمیری قبائل نے آباد کیا اور یہ قلعہ سمیریوں کے بعد کئی دیگر قدیم قبائل آریا، بھیل، دراوڑ اور آشوریوں کا مسکن رہا۔
325 قبل مسیح میں سکندر اعظم جب ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو وہ کئی علاقوں سے ہوتا ہوا شورکوٹ پہنچا اس وقت یہاں کٹھیٹھ اور مل قبائل آباد تھے ۔
مؤرخین لکھتے ہیں سکندر اعظم دو ماہ تک اس قلعے کا محاصرہ کرنے کے باوجود اسے فتح نہ کر سکا تو غصے سے سیخ پا ہو کر اسے بھاری منجنیقوں کی مدد سے تباہ کر دیا۔ (بھڑ کا مطلب تباہ ہونا ہے)
سکندر اعظم کے غیض و غضب سے بچ جانے والوں نے قلعے کے شمال میں مختلف جگہوں پر اپنی الگ سے بستیاں آباد کر لیں۔
تاریخ دان یعقوبی کے مطابق محمد بن قاسم نے جب 712 میں سندھ کو فتح کیا تو اس نے سندھ سے چینوٹ تک کی مختلف ریاستوں کو پانچ صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ جن کو روڑ (روہڑی)، ملتان، برہما پور (شورکوٹ)، جندور (چنیوٹ ) کوٹ کروڑ کے نام دئیے گئے۔
شور کوٹ تحصیل دو حصوں، شور کوٹ شہر اور کینٹ میں تقسیم ہے
محمد بن قاسم کے دور میں پہلی بار شورکوٹ کو صوبے کا درجہ دیا گیا اور اس کا پہلا مسلمان گورنر جلال الدین محمود غازی کو مقرر کیا گیا۔
یہاں سے شور کوٹ میں مسلمانوں کے دور کا آغاز ہوا۔ محمد بن قاسم کے علاوہ یہ علاقہ عباسی اور فاطمی خلافتوں کا حصہ بھی رہا۔
بلال زبیری لکھتے ہیں کہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے عہد میں شورکوٹ، جھنگ اور کوٹ کروڑ کو صوبہ ملتان میں شامل کر دیا گیا۔
شاہجہاں نے ہی حضرت سلطان باہو کے والد کو ان کی تبلیغی خدمات کے صلہ میں قلعہ قہرگان کے قریب دریائے چناب کے کنارے جاگیر عطا کی جس میں شور کوٹ کا بھی کچھ حصہ شامل تھا۔
مؤرخین کے مطابق صوفی بزرگ سلطان باہو کی پیدائش بھی شور کوٹ کی سرزمین پر ہوئی جنہوں نے اپنی تصانیف میں اس علاقے کا نام قلعہ قہرگان اور شور شریف درج کیا ہے۔
انگریزوں کے آنے سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں شور کوٹ کو ضلع جھنگ کی تحصیل بنا کر اس علاقے کی اہمیت اور مرکزی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ انتطامی تبدیلیاں کی گئیں۔
1908 میں شور کوٹ شہر سے گیارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ریلوے لائن بچھائی گئی جسے دو سال بعد ہی جنکشن کا درجہ دے دیا گیا۔ جس سے کراچی تا پشاور ریلوے لائن کی آمدورفت ممکن ہوئی۔
1965 کی جنگ کے دو سال بعد پاک فضائیہ نے شورکوٹ میں ائیربیس قائم کیا جس کے بعد شور کوٹ کو کینٹ کا درجہ دے دیا گیا
فی الوقت شور کوٹ دو حصوں، شور کوٹ شہر اور شور کوٹ کینٹ میں تقسیم ہے۔
اگرچہ یہ شہر مختلف ادوار میں کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے اور تاریخی اعتبار سے بھی یہ لاہور سے کہیں پرانا ہے لیکن آج جو مقام لاہور یا ملتان کو حاصل ہے وہ اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکا۔