ماں کو نیند کیسے آئے کالم نگار عدیل ظفیرؔ

0
219

ماں کو نیند کیسے آئے__!
تحریر_ عدیل ظفیرؔ

رات کا پچھلا پہر تھا، دسؔمبر کی رات تھی، بڑا پُر سُکون ماحول تھا، ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا، سڑک سنسان تھی، دور دور تک کوئی انسان دیکھائی نہ دے رہا تھا، شہر کے بیچ و بیچ ایک شخص تیز قدموں اور پھولی سانسؔوں کے ساتھ اپنے آشیانے کی جانب لڑکھڑاتا ہوا چل رہا تھا جو شاید جلدی گھر پہنچنا جاتا تھا_

ہر روز وہ سرِ شام گھر کی جانب لوٹ آتا تھا مگر آج کام کی زیادتی کی بدولت اور اگلے دن کی چھٹی کی وجہ سے وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا_ اسے شّدت کی بھوک لگی تھی گویا اس کے پیٹ میں چوہے ریس لگا رہے ہوں،
گِرتے اُٹھتے وہ بس اپنی منزل کی جانب رواں تھا، کبھی چلتے چلتے وہ روکتا اور اکھڑی سانسوں کو بحال کر لیتا اردگرد کا جائزہ لیتا اور پھر چل پڑتا_ رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا اور سڑک پر کسی گاڑی کا دور تک کوئی نام و نشاں نہ تھا_

وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی دکھ درد کی ساتھی اس کی بیوی اس کے آنے کی منتظر ہو گی، آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی لیے منتظر نگاہوں سے میرے جلد اور خیریت سے لوٹ آنے کی دعا زیر لب لیے سر بسجود ہو گی، وہ کائنات کے خالق سے میری عافیت و خیریت کے لیے منتوں اور آرزؤں میں مصروف ہو گی_ اس کے بچے اپنے بابا کے منتظر ہوں گے… انھی سوچوں کی دنیا میں مگن تھا کہ وہ اپنے گھر کے قریب گلی میں پڑے ایک پھتر سے ٹکرا گیا اور گرتے گرتے بچا اور حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا_
قریب پہنچ کر اس نے تھوڑا آرام کیا اور سکون سے دروازہ کھولا اور خاموشی کے ساتھ سیدھا کمرے میں جا پہنچا_ دیکھا تو بیگم صاحبہ کب کی نیند کی آغوش میں پہنچ چکی تھیں، پیدل چلنے کی وجہ سے اس کے پاؤں اور ٹانگوں میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں، اور مارے سردی کے وہ کانپ رہا تھا_

وہ سیدھا بستر پہ جا گِرا اور آنکھیں بند کر کے سوچوں کی دنیا میں محو ہو گیا، اچانک اس کے نتھنوں سے کھانے کی مہک ٹکرائی، اس کے منہ میں پانی بھر آیا وہ سمجھا کہ شاید خواب دیکھ رہا ہے مگر فورا اس کے ماتھے پہ محبت سے بھرا ہاتھ کسی نے رکھا، اس کی سماعتوں سے محبت سے لبریز ایک دھیمی سی آواز ٹکرائی ” بیٹا اٹھو کھانا کھا لو “ اس نے فورا آنکھیں کھولیں تو سامنے اپنی بوڑھی اماں جان کو پایا جو اپنے کانپتے ہاتھوں میں اس کے لیے کچھ کھانے کو لے کر آئی تھیں_ وہ یکدم اٹھ بیٹھا اور آنکھوں کو ملتے ہوۓ غور سے دیکھنے لگا وہ ایک نظر کھانے کی جانب اور ایک نظر اماں کی جانب دیکھنے لگا، وہ پھر بولیں بیٹا کھانا کھا لو_ وہ فورا بولا امّاں جی آپ نے بلا وجہ نیند خراب کی میرا تو پیٹ بھرا ہوا ہے، اس نے فورا جھوٹ بولا اور جان بوجھ کر بول رہا تھا، مگر وہ کھانا ٹیبل پہ رکھتی ہو بولیں ” پُتر اگر تیرا پیٹ بھرا ہوتا، تو مجھے نیند نہ آگئی ہوتی___!

وہ سوچ میں مبتلا ہو گیا جس ماں نے بچپن میں اس کا خیال رکھا تھا، جس نے ناز و نعم سے اسے پالا تھا، وہ اسے آج بھی نہیں بھولی تھی_ مگر وہ تو نا جانے کب بڑا ہو گیا تھا کہ اسے اماں جی کے بارے میں پوچھنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا_ ہر رات وہ اس کے آنے کی منتظر رہتیں، اور زرا دیر سے آتا تو نا جانے کتنی بار عینک لگا کر ہاتھ میں لاٹھی لیے دروازے پہ چکر لگاتی رہتی، وہ تو ماں کی بھوک پیاس دوا کو ناجانے کب کا بھلا چکا تھا، مگر آج بھی اس کی بھوک کا اماں کو علم تھا_ نا جانے بچے کب کھیل کود میں بڑے ہو جاتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ماں باپ کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں_

آج ہم اپنے کاموں میں اتنا مگن ہو گے، کہ ہمیں احساس تک نہ رہا کہ آج بھی ہماری ماں کو بچپن کی طرح ہمارے کھانے سونے اور مصروفیت کا علم ہے_ ہاں اب بولتی کم ہیں مگر سمجھتی سب کچھ ہیں_

والدین کا خیال رکھیے جو آپ کو جوان کرتے کرتے خود پڑھاپے کی آغوش میں آن پہنچے ہیں_ مبادا آپ بھی بڑھاپے کی نذر ہوں اور آپ کی اولاد بھی آپ کو داستان ماضی سمجھ کر بھول جاۓ کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے__!